پیپلز پارٹی کی قیادت کا وفاقی حکومت کو سخت ردعمل دینے کا فیصلہ

جی ایم جمالی  بدھ 23 جنوری 2019
اس فیصلے کے ردعمل میں کیا ہوتا ہے اور خصوصاً سندھ حکومت پر اس کے فوری اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں؟ فوٹو: فائل

اس فیصلے کے ردعمل میں کیا ہوتا ہے اور خصوصاً سندھ حکومت پر اس کے فوری اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں؟ فوٹو: فائل

 کراچی: پاکستان پیپلز پارٹی نے 18 ویں آئینی ترمیم پر سمجھوتہ نہ کرنے، فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید توسیع کی مخالفت کرنے اور پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کو کڑا وقت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس فیصلے کے ردعمل میں کیا ہوتا ہے اور خصوصاً سندھ حکومت پر اس کے فوری اثرات کیا مرتب ہوتے ہیں؟ یہ آج کل سندھ کے لوگوں میں سب سے زیادہ دلچسپی والا سوال ہے؟ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے گزشتہ ہفتے ہونے والے دو روزہ دورہ کراچی کے سیاسی نتائج پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے وفد نے گزشتہ ہفتے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات نے کراچی میں ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد جا کر ایم کیو ایم کے رہنمائوں سے ملاقات کی۔ کیا ایم کیو ایم سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف تحریک انصاف کی حکمت عملی کا حصہ بنے گی؟ سندھ کے مستقبل کے تناظر میں اس حوالے سے بھی اندازے قائم کیے جا رہے ہیں۔

گزشتہ ہفتہ سندھ کی سیاست میں بہت ہنگامہ خیز رہا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے اپنے دورہ کراچی میں بیانات کے ذریعے سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف جو سیاسی دبائو بڑھانے کی کوشش کی تھی، اس کا جواب پیپلز پارٹی نے اس طرح دیا ہے، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کی پیپلز پارٹی مخالف مہم کا مقصد کچھ اور ہے۔

گزشتہ ہفتے بلاول ہائوس کراچی میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور سابق صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت پارٹی کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں پیپلز پارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت کے لیے ممکنہ چیلنجز پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں موجودہ سیاسی صورت حال اور پارٹی قیادت کے خلاف مقدمات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔

اجلاس میں شریک رہنمائوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی وزراء اور تحریک انصاف کے رہنمائوں کی بدزبانی کا سخت جواب دیا جائے اور مبینہ انتقامی کارروائیوں کے خلاف پارلیمنٹ کے اندر اور باہر سیاسی جنگ لڑی جائے۔ پیپلز پارٹی نے وفاقی حکومت کی پالیسیوں اور انتقامی کارروائیوں کے خلاف سیاسی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا بھی فیصلہ کیا۔

اجلاس کے بعد سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، فرحت اللہ بابر اور پیپلزپارٹی کے دیگر رہنمائوں نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ پیپلز پارٹی 18 ویں ترمیم پر سمجھوتہ نہیں کرے گی اور فوجی عدالتوں کی مدت میں مزید توسیع کی مخالفت کرے گی ۔ پیپلز پارٹی نے موجودہ صورت حال کو سیاسی ایشوز سے جوڑ دیا ہے اور وہ دفاعی پوزیشن پر جانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے ان فیصلوں کے بعد پارٹی کی قیادت اور سندھ حکومت پر فوری کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے گزشتہ دورہ کراچی کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے وزیراعظم عمران خان کے ممکنہ دورہ سندھ کے لیے سیاسی طور پر زمین ہموار کی ہے، تاکہ تحریک انصاف کی سندھ حکومت کے حوالے سے حکمت عملی کے مطابق آگے بڑھا جاسکے۔ وزیراعظم عمران خان بہت جلد سندھ کے دورے پر آسکتے ہیں۔

گرینڈ ڈیمو کریٹک الائنس (جی ڈی اے) کی قیادت نے یہ شرط عائد کی ہے کہ وزیراعظم سے جی ڈی اے کے رہنما سردار علی محمد خان مہر کے شہر خان گڑھ میں ملاقات ہوگی، جس میں سندھ کے حوالے سے جی ڈی اے اور تحریک انصاف کی مشترکہ حکمت عملی پر بات چیت کی جائے گی۔ فواد چوہدری نے ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد جا کر وہاں ایم کیو ایم کی قیادت سے ملاقات کی۔ ملاقات میں کنور نوید جمیل، میئر کراچی وسیم اختر، فیصل سبزواری، خواجہ اظہار الحسن اور دیگر رہنما شامل تھے۔ ملاقات میں تحریک ا نصاف ایم کیو ایم معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے غور کیا گیا۔

ایم کیو ایم کے رہنمائوں نے انہیں 8 نکات پیش کیے، جو معاہدے کا حصہ تھے۔ ان نکات میںسندھ کے شہری علاقوں کے مسائل حل کرنے، حیدرآباد میں یونیورسٹی کے قیام اور ترقیاتی فنڈز کی فراہمی، لاپتہ افراد کی بازیابی اور ایم کیو ایم کے بند دفاتر کھولنے سے متعلق نکات شامل تھے۔ ایک دن قبل ایم کیو ایم کے وفاقی وزراء ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور بیرسٹر فروغ نسیم کی قیادت میں ایم کیو ایم کے وفد نے اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی اور انہیں بھی مذکورہ بالا نکات پیش کیے۔

ابھی تک یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ان ملاقاتوں کے بعد ایم کیو ایم سندھ حکومت کے خلاف تحریک انصاف کی حکمت عملی کا حصہ بنے گی یا نہیں کیونکہ ایم کیو ایم قبل ازیں سندھ حکومت کو گرانے کی مہم کا حصہ نہ بننے کا اعلان کر چکی ہے۔ ایم کیو ایم نے گزشتہ ہفتے حیدرآباد کے علاقے پھلیلی میں لیاقت کالونی میں جلسہ عام منعقد کرکے اپنی سیاست طاقت کا مظاہرہ کیا۔ جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور دیگر رہنمائوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ وزیراعظم اپنے وعدوں کو پورا کریں۔

تحریک ا نصاف ابھی تک جی ڈی اے اور ایم کیو ایم کو سندھ حکومت کے خلاف ہم آواز نہیں بنا سکی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی جارحانہ حکمت عملی کے بعد تحریک انصاف سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی کے خلاف اپنی حکمت عملی کو کس طرح آگے بڑھائے گی۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔