منی بجٹ مکمل طورپر مسترد کرتے ہیں، مریم اورنگزیب

اسٹاف رپورٹر  بدھ 23 جنوری 2019
منی بجٹ کے بعد ٹیکس چوری اور بلیک اکانومی کی قانونی اجازت دے دی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

منی بجٹ کے بعد ٹیکس چوری اور بلیک اکانومی کی قانونی اجازت دے دی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

 لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کی مرکزی ترجمان مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ اپوزیشن حکومتی منی بجٹ کو مکمل طورپر مسترد کرتی ہے۔

حکومت کی جناب سے پیش کردہ منی بجٹ کے بعد میڈیا کو اپنے ردعمل میں مریم اورنگزیب نے کہا کہ کہا کہ حکومت نے منی بجٹ سے نان فائلرز اور ٹیکس چوروں کو فری پاس دے دیا ہے آج ٹیکس چوروں کی عید اور غریب پاکستانیوں کے لئے ماتم کا دن ہے۔

ترجمان نے کہا کہ منی بجٹ کے بعد ٹیکس چوری اور بلیک اکانومی کی قانونی اجازت دے دی گئی ہے یہ سب ایک ’اَن ڈاکیومینٹڈ اکانومی‘ میں کیا جارہا ہے، گاڑیاں بنانے والی بڑی بڑی کمپنیاں آج عمران خان اور اسدعمر کو دعائیں دے رہی ہیں جب کہ ٹیکس چورپچاس لاکھ کا گھر، 1800 سی سی گاڑیاں خرید سکتے ہیں لیکن منی بجٹ میں بچوں کو پلانے والے دودھ کی قیمت کم کرنے کا ”ریاست مدینہ“ کے دعویداروں کو خیال تک نہیں آیا، کاش وہ تھوڑا رحم ان غریب بچوں پر بھی کرتے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر خزانہ نے نہیں بتایا کہ جن مراعات کا اعلان کیا گیا ہے اس کے لئے پیسہ کہاں سے آئے گا؟  کاروں پر ڈیوٹیوں میں اضافہ کرکے کارکمپنیوں کو قیمتیں مزید بڑھانے کا موقع دے دیا گیا ہے، ہمارے دور میں ہم نے ٹیکس لگا کر یقینی بنایا تھا کہ کمپنیاں قومی خزانے میں حصہ ڈالیں اور پی ٹی آئی حکومت کے اقدامات سے یہ فائدہ دوبارہ کمپنیوں کو واپس چلاگیا ہے۔

ترجمان مسلم لیگ ن نے کہا کہ اسد عمر کھاد کمپنیوں سے وابستہ رہے، وہ ان کے اقدامات پر آج بہت خوش ہوں گی، کاشتکار کو ہی فائدہ دینا تھا توبراہ راست ریلیف دے دیتے، کھاد کمپنیوں کے ذریعے ریلیف دینے کی کیا وجہ ہے؟ کھاد کمپنیوں کی چاندی ہوجائے گی اور ان کے نخرے بڑھ جائیں گے۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیر خزانہ اسد عمر جن بڑی ملٹی پل کارپوریٹ ہورڈنگز میں ملازم رہے ہیں، وہ اس بجٹ پر بہت خوش ہوں گی۔ اسی لئے ہم کہتے ہیں کہ یہ امیروں کا منی بجٹ ہے، جو امیروں نے امیروں کے لئے بنایا ہے جب کہ منی بجٹ کا دوسرا مطلب بلواسطہ ٹیکسوں پر انحصار ہے۔مینوفیکچررز کو فائدہ اور صارفین پر بوجھ لاد دیاگیا ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔