سندھ اسمبلی میں بلدیاتی سربراہوں کو سادہ اکثریت سے ہٹانے کا بل منظور

اسٹاف رپورٹر  جمعرات 24 جنوری 2019
اپوزیشن کا ترمیمی قانون پر احتجاج، نعرے بازی، واک آؤٹ، اسپیکر جانبدار ہیں، ہاؤس کو چلنے نہیں دیا جا رہا، اپوزیشن رہنماؤں کی گفتگو۔ فوٹو: فائل

اپوزیشن کا ترمیمی قانون پر احتجاج، نعرے بازی، واک آؤٹ، اسپیکر جانبدار ہیں، ہاؤس کو چلنے نہیں دیا جا رہا، اپوزیشن رہنماؤں کی گفتگو۔ فوٹو: فائل

 کراچی:  سندھ اسمبلی نے بدھ کو سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم کا بل اتفاق رائے سے منظور کر لیا، اپوزیشن نے اس ترمیمی قانون پر سخت احتجاج کیا اور نعرے بازی کی۔

سندھ اسمبلی میں بدھ کو ایوان کی معمول کی کارروائی نمٹائے جانے کے بعد وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے اسپیکر آغا سراج درانی سے بلدیاتی ایکٹ کا ترمیمی مسودہ ایوان میں پیش کرنے کی اجازت طلب کی اور اسپیکر کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد انھوں نے یہ ترمیمی قانون کا مسودہ ایوان میں منظوری کیلیے پیش کیا۔

اپوزیشن جسے اس ترمیمی قانون پر سخت تحفظات ہیں، اس کے ارکان نے ترمیمی بل کے خلاف ایوان میں سخت احتجاج کرتے ہوئے شدید نعرے بازی شروع کردی اور انھوں نے نامنظور نامنظور کے زبردست نعرے بھی لگائے، بعد ازاں حزب اختلاف کے ارکان احتجاجاً ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔

اپوزیشن کی عدم موجودگی میں سعید غنی نے ترمیمی بل شق وار منظوری کیلیے پیش کیا جس کی ایوان نے متفقہ طور پر منظور دے دی اور اسپیکر نے اجلاس جمعرات کی صبح تک ملتوی کردیا، سندھ لوکل گورنمٹ ایکٹ میں 7 ترامیم کا مسودہ منظور کیا گیا ہے۔

ترمیمی قانون کے تحت میئر، ڈپٹی میئر، چیئرمین اور وائس چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد اب سادہ اکثریت سے کامیاب ہو سکے گی، اس سے قبل دو تہائی اکثریت کی شرط تھی، منظور شدہ ترمیم کے تحت بلدیاتی کونسل کے الیکشن میں 2 امیدواروں کے ووٹ برابر ہونے کی صورت میں دونوں امیدوار کامیاب قرار پائیں گے، الیکشن ٹربیونل نصف نصف مدت کیلیے بلدیاتی کونسل میں نمائندگی کا حق دے گا، ترمیم شدہ قانون کے تحت ووٹرکو خوف زدہ کرنے، دباوڈالنے، آرمڈ فورسز کو متنازع بنانا قابل سزا جرم تصور ہوگا۔

سندھ اسمبلی میں حزب اختلاف کی جماعتوں نے اسپیکر پر جانبداری برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایوان کو غیر جانبدارانہ انداز میں چلایا جائے، دوسری صورت میں احتجاج کا راستہ اپنائیں گے۔

بدھ کے روز سندھ اسمبلی اجلاس سے احتجاجاً واک آوٹ کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن رہنماؤں فردوس شمیم نقوی، خواجہ اظہار الحسن ، عارف جتوئی، نصرت سحر عباسی اور دیگر نے کہا کہ اسپیکر جانبدار ہیں، ہاؤس کو چلنے نہیں دیا جا رہا ہے، ہم نے پیشکش کی ہے کہ ہاؤس کو مل کر چلائیں تاہم پیپلز پارٹی ہاؤس کو چلانے میں سنجیدہ نہیں۔

رہنماؤں نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے رویے سے لگ رہا ہے کہ ان کی حکومت زیادہ چلنے والی نہیں، اسٹینڈنگ کمیٹیوں کا فیصلہ ہو چکا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔