بیرون ممالک جائیدادیں رکھنے والوں پر 25 سے 30 فیصد ٹیکس عائد

ارشاد انصاری  جمعرات 24 جنوری 2019
عبوری اسیسمنٹ آرڈرزکااختیار دینے کا فیصلہ،ٹیکس وصولی کے بعد بھی تحقیقات جاری رہے گی۔ فوٹو : فائل

عبوری اسیسمنٹ آرڈرزکااختیار دینے کا فیصلہ،ٹیکس وصولی کے بعد بھی تحقیقات جاری رہے گی۔ فوٹو : فائل

 اسلام آباد: بیرون ممالک جائیدادیں رکھنے والے پاکستانیوں کے سامنے آنے والے اثاثہ جات پر فوری 25سے 30فیصد ٹیکس وصولی کیلیے عبوری اسیسمنٹ آرڈرز جاری کرنے کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

وفاقی حکومت نے دوسرے منی بجٹ میں بیرون ممالک آف شور اثاثہ جات و جائیدادیں رکھنے والے پاکستانیوںکے سامنے آنے والے اثاثہ جات پر فوری 25سے 30فیصد ٹیکس وصولی کیلیے عبوری اسیسمنٹ آرڈرز جاری کرنے کے اختیارات دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلیے ضمنی بجٹ میں بیرون ممالک آف شور جائیدادیں رکھنے والوں کیلیے بھی ایک شق شامل کی گئی ہے جس کے تحت فوری طور پر عبوری اسیسمنٹ کرکے عبوری ٹیکس ڈیمانڈ کی جاسکے گی ان پر آمدنی کے حساب سے بیرون ممالک و آف شور اثاثہ جات کیلیے 20سے 25فیصد تک ٹیکس لاگو ہوگا جبکہ عبوری ٹیکس وصول کرکے باہر جائیدادیں رکھنے والوں کے خلاف تحقیقات جاری رہے گی۔

واضح رہے کہ تحقیقات میں اثاثہ جات درست ثابت یونے ہر وصول کردہ ٹیکس واپس کردیا جائے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔