سندھ میں جیلوں اور قیدیوں کیلیے نیا قانون لانے کا فیصلہ

وکیل راؤ  جمعرات 24 جنوری 2019
لازمی طبی سہولت اور اصلاحی پروگرام نئے جیل ایکٹ کا اہم جزو ہے ہر جیل میںقیدی کو عالمی ادارہ صحت کے مقررہ معیار والاپانی دیاجائیگا۔ فوٹو: فائل

لازمی طبی سہولت اور اصلاحی پروگرام نئے جیل ایکٹ کا اہم جزو ہے ہر جیل میںقیدی کو عالمی ادارہ صحت کے مقررہ معیار والاپانی دیاجائیگا۔ فوٹو: فائل

 کراچی: حکومت سندھ نے 125سال پرانے برطانوی دورکے جیل ایکٹ کومنسوخ کرکے جیلوں اور قیدیوں کے لیے نیا قانون لانے کا فیصلہ کرلیا۔

سندھ پریزن اینڈ کریکشن ایکٹ رواں سیشن میں سندھ اسمبلی میں پیش کیاجائے گا،مجوزہ ایکٹ کے تحت خواجہ سرا قیدیوں کو الگ بیرک میں رکھا جائے گا۔ آئی جی خانہ جات کا تقرر سینیئرڈی آئی جیز میں سے ہوگا،محکمہ جیل خانہ جات کانام بھی تبدیل کیا جائے گا ہر قیدی کا جیل میں آتے ہی لازمی کمپیوٹرائزمیڈیکل ریکارڈ مرتب کیا جائے گا، قیدی کومادری زبان میں حقوق وفرائض سے آگاہ کیاجائے گا، لازمی طبی سہولت اور اصلاحی پروگرام نئے جیل ایکٹ کا اہم جزو ہے ہر جیل میں عالمی ادارہ صحت کے مقررہ معیار والاپانی قیدی کو دیاجائے گا۔

ہرقیدی کو جیل میں مقررہ اوقات میں کرکٹ،فٹ بال ٹیبل ٹینس کھیلنے کی اجازت ہوگی سزایافتہ قیدیوں کو بحالی پروگرام میں حصہ لینے پر سزامیں تخفیف کی جائے گی قومی اسمبلی سینیٹ صوبائی اسمبلی اور بلدیاتی کونسل کا رکن جیل کی بی کلاس میں قید رکھا جائے گا۔ مسودے کے مطابق سندھ حکومت نے ملک میں پہلی مرتبہ برطانوی دور کے جیل ایکٹ کو ختم کرکے اپنا جیل ایکٹ لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

سندھ حکومت نے 1894کے جیل ایکٹ کی جگہ سندھ پریزن اینڈ کریکشن ایکٹ 2018 کا مسودہ تیار کیا ہے ملک بھر میں اس وقت قیام پاکستان سے قبل کا جیل ایکٹ نافذالعمل ہے سندھ حکومت کے تیار کردہ مجوزہ جیل ایکٹ کے مسودہ 20 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے مجوزہ ایکٹ کے دستیاب مسودے کے مطابق تمام قیدیوں کے بنیادی انسانی حقوق طبی سہولت کی فراہمی لازم ہوگی مجوزہ ایکٹ کے تحت سندھ جیل واصلاحی ڈپارٹمنٹ کا قیام عمل میں لایاجائے گا ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔