آئی ٹی مصنوعات کی درآمد میں بڑی سطح پر انڈر انوائسنگ کا انکشاف

نمائندہ ایکسپریس  جمعرات 24 جنوری 2019
منی لانڈرنگ ناسور، خاتمہ ترجیح ہے، شبلی فراز، شیریں رحمن کا غیر ملکی منصوبوں میں 60 فیصد مقامی لیبر یقینی بنانے پرعدم اتفاق۔ فوٹو: فائل

منی لانڈرنگ ناسور، خاتمہ ترجیح ہے، شبلی فراز، شیریں رحمن کا غیر ملکی منصوبوں میں 60 فیصد مقامی لیبر یقینی بنانے پرعدم اتفاق۔ فوٹو: فائل

 اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت میں انکشاف ہوا ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی مصنوعات کی درآمدات میں بڑی سطح پر انڈر انوائسنگ ہورہی ہے۔

اجلاس بدھ کو شبلی فراز کی زیر صدرات ہوا۔ شبلی فرازنے کہا کہ منی لانڈرنگ کا خاتمہ ہماری حکومت کے ایجنڈے کی ترجیحات میں شامل ہے۔

کسٹم حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ پاکستان میں یو ایس بی کی 86 فیصد انڈر انوائسنگ ہو رہی ہے، ہارڈ ڈسک ڈرائیو میں 50 فیصد انڈر انوائسنگ ہو رہی ہے، استعمال شدہ لیپ ٹاپ میں 26.66 فیصد انڈر انوائسنگ ہو رہی ہے۔ کسٹمز حکام نے کمیٹی میں کہا کہ کسٹمز کی تعین کردہ قیمت کے بعد ہی پتہ چل سکے گا کہ ٹیکس کی چوری ہوئی یا نہیں۔

دریں اثنا سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کی سینیٹر و ایوان بالا میں سابق قائد حزب اختلاف شیریں رحمن کی جانب سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے منصوبوں میں 60 فیصد مقامی لیبر کو یقینی بنانے کیلیے پیش کردہ فارن پرائیویٹ انوسٹمنٹ ترمیمی بل اور بورڑ آف انوسمنٹ ترمیمی بل پر ممبران کا اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

کمیٹی چیئرمین نے بل کو آئندہ اجلاس میں مزید غور کیلیے پیش کرنے کا فیصلہ کیا، سربراہ کمیٹی سینیٹر سسی پلیجو نے بل کی حمایت کی۔ سینیٹر پرویز رشید کا کہنا تھا کہ اس ماحول میں یہ بل مناسب نہیں ہے۔

اجلاس میں کراچی کے کینسر مریضوں کو وزیراعظم شکایات سیل سے امداد بند ہونے کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔