میڈیا کمیشن کی فکر انگیز رپورٹ

ڈاکٹر توصیف احمد خان  جمعـء 19 جولائ 2013
tauceeph@gmail.com

[email protected]

سپریم کورٹ نے میڈیا کمیشن کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تمام اداروں کے سیکریٹ فنڈ کا آڈٹ ضروری قرار دیا اور کہا کہ حساس ریاستی امور میں رازداری ضروری ہے اور آڈیٹر جنرل کی ایسی رپورٹوں کی تشہیر نہیں ہونی چاہیے۔ سپریم کورٹ نے ذرایع ابلاغ کی صورتحال کے بارے میں سپریم کورٹ کے سابق جج ناصر اسلم زاہد اور سابق وزیر اطلاعات جاوید جبار پر مشتمل کمیش قائم کیا تھا، اس میڈیا کمیشن نے تجویز پیش کی ہے کہ ذرایع ابلاغ سے متعلق قوانین کا جامع جائزہ لیا جائے۔

کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنیادی اخلاقی اقدار کی روشنی میں ذرایع ابلاغ کے پیغام میں استعمال ہونے والے استعارے اور الفاظ کی ممکنہ توضیح اور تشریح ضروری ہے۔ خاص طور پر نیوز کوریج کے دوران استعمال ہونے والی زبان اور جملوں پر نظرثانی کا وقت آگیا ہے۔ کمیشن نے اپنی تجاویز میں کہا ہے کہ پاکستان ٹیلی وژن، پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کو مکمل طور پر خودمختار اداروں میں تبدیل کیا جائے۔

اسی طرح پاکستان ٹیلی وژن کو سرکاری تحویل سے ختم کرنے کے لیے حکومت کے شیئرز صرف 25 فیصد مقرر کیے جائیں اور باقی 75 فیصد شیئرز اسٹاک ایکسچینج میں اس طرح فروخت کیے جائیں کہ کوئی فرد یا ادارہ 2 فیصد سے زیادہ شیئرز حاصل نہ کرسکے۔

اس کے ساتھ ہی ضروری ہے کہ نجی ٹیلی وژن چینلز پر پی ٹی وی کے شیئرز خریدنے پر پابندی عائد کی جائے تاکہ مفادات کا ٹکراؤ نہ پیدا ہو۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا ہے کہ باضابطہ صحافتی تربیت کے بغیر کسی فرد کو رپورٹر، اینکر پرسن، نیوز ریڈر اور اطلاعاتی موادکو کنٹرول کرنےContent Controllers کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں، اسی طرح اشتہار تیار کرنے والے ٹی وی چینلز کے پرائم ٹائم کو عملاً کنٹرول کرتے ہیں، اسی طرح شہروں میں قائم غیر نمایندہ Consumption Oriented ریٹنگ سسٹم چینلز کو مقابلے کی دوڑ میں شامل کر کے کم معیاری مواد نشر کرنے پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور کررہا ہے۔

میڈیا سے نشر ہونے والا پیغام ہر دور میں تنازعات کا شکار رہا ہے۔ پاکستان کے قیام کے بعد سے 1988 تک اخبارات، ریڈیو اور ٹیلی وژن چینلز ریاستی اداروں کے زیر تسلط تھے۔ قائداعظم محمد علی جناح کی حکومت سے لے کر جنرل ضیاء الحق کے دور تک حکومتیں اس بات پر یقین رکھتی تھیں کہ اخبارات کو ریاستی احکامات کی پابندی کرنی چاہیے۔ اس مقصد کے لیے سیکیورٹی اینڈ سیفٹی ایکٹ، پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈیننس سمیت 30 کے قریب قوانین کے ذریعے اخبارات کے پیغام کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔

ریڈیو اور ٹیلی وژن حکومت کا حصہ تھے اس لیے ان کا کوئی آزادانہ کردار نہ تھا۔ پاکستان کے صحافیوں نے فیض احمد فیض، مظہر علی خان، چراغ حسن حسرت، محمد شکور، اسرار احمد، منہاج برنا، نثار عثمانی اور احفاظ الرحمن جیسے قائدین کی قیادت میں تاریخی جدوجہد کی جس کے نتیجے میں غلام اسحاق خان کی زیر نگرانی عبوری حکومت نے پریس اینڈ پبلکیشنز آرڈیننس جیسے سیاسی قانون کو منسوخ کیا اور رجسٹریشن آف پریس اینڈ پبلکیشنز آرڈیننس 1988 کے نفاذ سے آزادی صحافت کا دور شروع ہوا۔ بے نظیر بھٹو کی پہلی حکومت میں پاکستانی سامعین کو معروف امریکی چینل سی این این کی نشریات دیکھنے کا موقع ملا۔ سوویت یونین کے خاتمے کے ساتھ سرد جنگ بھی ختم ہوگئی۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے جغرافیائی سرحدوں کو بے اثر کردیا۔

ڈش انٹینا کی ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بھر کے چینل نظر آنے لگے۔ جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے نئی ٹیکنالوجی کی طاقت کو تسلیم کرتے ہوئے نجی ٹیلی وژن چینلز کو پاکستان میں کام کرنے کی اجازت دی۔ اس کے ساتھ ہی 2002 کے عام انتخابات کے فوراً بعد میڈیا سے متعلق 6 قوانین نافذ ہوئے۔ ان میں نیوز پیپرز، پیریاڈیکل رجسٹریشن ایکٹ، اطلاعات کے حصول کا قانون، پریس کونسل، پیمرا کا قانون اور اے پی پی کو مکمل طور پر سرکاری تحویل میں لینے کا قانون قابل ذکر تھے۔ الیکٹرانک چینلز کا ایک نیا دورشروع ہوا۔ نئے ایف ایم ریڈیو اور ٹی وی چینلز کے قیام کی اجازت دی۔ اس کے ساتھ Cross Media Ownership کی اجازت دی گئی۔

ذرایع ابلاغ کے بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسے ملک میں اخباری مالکان کو ریڈیو اور ٹی وی چینلز قائم کرنے کی اجازت اس لیے ضروری ہے کہ یہی لوگ صحافتی تجربہ رکھتے ہیں اور ان ہی کے پاس کسی چینل کو منافع بخش بنانے کی صلاحیت ہے۔ 2007 میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کی ان کے عہدے سے معزولی اور پھر وکلا تحریک میں الیکٹرانک میڈیا کا ایک نیا کردار سامنے آیا۔ بعض ٹی وی چینلز نے 24 گھنٹے اس تحریک کی اس طرح کوریج کی کہ اس کی خامیاں چھپ گئیں۔ بعض ٹی وی چینلز نے بریکنگ نیوز کی اصطلاح کو محض اپنے سامعین کی تعداد بڑھانے کے لیے استعمال کیا۔ اس ضمن میں خبر کی بنیادی تعریف کو نظرانداز کردیا گیا اور اس حقیقت کو فراموش کردیا گیا کہ معروضیت کے اصولوں پر پورا نہ اترنے والا مواد خبر نہیں ہوسکتا۔

اسی طرح خبروں میں گانوں اور فلمی مناظر کو شامل کر کے اس کو دلچسپ تو بنادیا گیا مگر معروضیت مکمل طور پر غیر سنجیدہ ہوگئی۔ ٹی وی چینلز میں اپنی غلطیوں کو تسلیم کرنے اور لوگوں کو غلط اطلاعات فراہم کرنے پر معذرت کی روایت کو اپنے ایجنڈے سے خارج کردیا گیا۔ میڈیا کمیشن نے اپنی رپورٹ میں اس انتہائی اہم بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ذرایع ابلاغ میں ایسے افراد کو بھی ذمے داریاں دی گئیں جنہوں نے ان شعبوں میں کوئی ڈگری اور عملی تجربہ حاصل نہیں کیا تھا۔ پھر ان چینلز میں پرائم ٹائم کو اس طرح فروخت کیا گیا کہ ایک مصنوعی کلچر کی ترویج ہونے لگی۔

بعض سینئر صحافیوں کی یہ بات درست ثابت ہوئی کہ ٹی وی چینلز میں ایڈیٹر کا ادارہ قائم ہی نہیں کیا گیا۔ گزشتہ دورِ حکومت میں ذرایع ابلاغ کے کردار پر بحث تو ہوئی مگر اس صورتحال کے تدارک کے لیے کوئی جامع حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔ جنرل پرویز شرف کے دور میں جو قوانین نافذ کیے گئے ان میں پریس کونسل، ہتک عزت کا قانون اور پیمرا لاء میڈیا سے نشر ہونے والے پیغامات پر نگرانی سے متعلق تھے۔ دنیا بھر میں پریس کونسل اخبارات کی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھتی ہے۔ 2002 میں پریس کونسل کا جو قانون نافذ ہوا وہ صرف اخبارات سے متعلق ہے۔

اس قانون پر 2010 میں عملدرآمد ہوا۔ پریس کونسل عوامی شکایات کے حوالے سے کوئی موثر کردار ادا نہیں کرسکی ۔ اس کے ساتھ ہتک عزت کے قوانین کو عالمی معیار کے مطابق ہونا چاہیے اور عدالتی طریقہ کار اتنا آسان ہونا چاہیے کہ 6 ماہ سے ایک سال کے عرصے میں کسی بھی مقدمے کا فیصلہ ہوجائے۔ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ ڈیکلریشن اور لائسنس جاری کرنے والے ادارے کا ریگولیٹری کردار ہمیشہ آزادی صحافت کو محدود کرتا ہے۔ یہ کردار میڈیا کونسل یا عدالتوں کے سپرد ہونا چاہیے۔

آرٹیکل 19 کے تحت نہ تو وزارت اطلاعات کی ضرورت ہے نہ ڈیکلریشن اور لائسنس جاری کرنے والے کسی ادارے کی، اخبارات کے ڈیکلریشن کے لیے اور ایف ایم ریڈیو اور ٹی وی چینلز کے اجرا کی اجازت کے لیے ایک خود مختار ادارہ ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے اپنے 20 صفحات پر مشتمل فیصلے میں سیکرٹ فنڈ کے بارے میں جامع ہدایات جاری کی ہیں جس میں شفافیت کا معیار بلند ہوگا۔ میڈیا کمیشن کی رپورٹ انتہائی اہم ہے۔ پارلیمنٹ کو اس رپورٹ پر بحث کرنی چاہیے اور آرٹیکل 19 کے تحت مناسب قانون سازی ہونی چاہیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔