صدارتی انتخاب عید کے بعد رکھا جائے، حکومت، اپوزیشن کی مخالفت

اسٹاف رپورٹر / نمائندہ ایکسپریس  ہفتہ 20 جولائ 2013
سندھ سے پی ٹی آئی کے جسٹس وجیہہ الدین نے،لاہورسے ن لیگ کے رانااکرام نے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے. فوٹو: فائل

سندھ سے پی ٹی آئی کے جسٹس وجیہہ الدین نے،لاہورسے ن لیگ کے رانااکرام نے کاغذات نامزدگی حاصل کرلیے. فوٹو: فائل

کراچی / اسلام آ باد / لاہور:  صدرمملکت کے انتخاب کیلیے کاغذات نامزدگی حاصل کرنے کاسلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ کاغذات نامزدگی چاروں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان اورصوبائی الیکشن کمشنروں سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

آن لائن نے بتایا کہ کاغذات جمع کرانے کی آخری تاریخ 24جولائی ہے۔ سینیٹر رضاربانی پیپلزپارٹی کے جبکہ جسٹس(ر) وجیہہ الدین پاکستان تحریک انصاف کے امیدوارہوں گے۔ اسٹاف رپورٹرکے مطابق کراچی سے سندھ ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس، جسٹس(ر) وجیہہ الدین کے لیے جوادجیلانی نے فارم حاصل کیا۔ نمائندہ ایکسپریس کے مطابق لاہورسے پنجاب اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے سابق صوبائی وزیرواپوزیشن لیڈر، حالیہ ن لیگ کے رہنما رانااکرام ربانی نے کاغذات نامزدگی حاصل کیے جبکہ4مزید افراد محمدحنیف نجم، محمدانجم سلیم، عمران احمد، رانامشتاق اور زاہداقبال نے بھی رجسٹرار لاہور ہائیکورٹ کے آفس سے کاغذات نامزدگی حاصل کیے۔ ادھر الیکشن کمیشن کے ترجمان خورشید عالم نے بی بی سی کو بتایا کہ حکومت نے صدارتی انتخابات کے شیڈول میں ردوبدل کی درخواست کی ہے۔

وزارت قانون وانصاف نے کمیشن کو لکھے گئے خط میں موقف اختیار کیاکہ پارلیمنٹ کے ارکان کی ایک بڑی تعداد رمضان کے آخری عشرے میں عمرے کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جائے گی جن کی واپسی عیدالفطر کے بعد ہوگی۔ صدارتی انتخاب میں ارکان پارلیمنٹ کی زیادہ سے زیادہ شرکت یقینی بنانے کے لیے الیکشن کمیشن انتخابی شیڈول تبدیل کرے۔ خط میں یہ عندیہ بھی دیاگیا کہ الیکشن کمیشن رمضان کے آخری عشرے میں شروع ہونے سے پہلے صدارتی انتخاب کا شیڈول دے تو بھی حکومت کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ خورشید عالم نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے ارکان کے اکثریتی فیصلے کے تحت صدارتی انتخابات کی تاریخ کافیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم الیکشن کمیشن کی جانب سے واضح کیاگیا کہ اس کاکوئی امکان نہیںکہ 6اگست کو صدارتی انتخاب کو شیڈول تبدیل کردیا جائے۔

الیکشن کمیشن نے صدارتی مدت ختم ہونے سے 30روز قبل انتخابات کرانے کی آئینی ذمے داری کے مطابق شیڈول جاری کیاہے۔ آن لائن نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ وزارت قانون کے خط میں کہا گیا ہے کہ متعدد ارکان اسمبلی ووٹ نہیں ڈال سکیں گے۔ ارکان کی صدارتی انتخابات میں شمولیت یقینی بنانے کے لیے صدارتی انتخاب کے شیڈول میں تبدیلی کی جائے اور انتخابات عید کے بعد کیے جائیں۔ حکومتی خط موصول کرنے کے بعدالیکشن کمیشن سیکریٹریٹ نے انتخابی شیڈول میں تبدیلی کی حکومتی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے درخواست اپنی سفارشات کے ساتھ الیکشن کمیشن کو بھجوادی ہے۔

دوسری جانب ٹی وی چینل سے گفتگو میں پیپلزپارٹی کے سینئررہنما اور قائدحزب اختلاف سید خورشیدشاہ نے کہاہے کہ صدارتی انتخابات کا شیڈول تبدیل کرنا غیرآئینی ہوگا۔ الیکشن 6اگست کوہی کرایاجائے۔ الیکشن کمیشن کوصدارتی انتخابات میں ردوبدل نہیں کرنا چاہیے۔ صدارتی انتخاب6اگست سے پہلے کرایاگیا تو چیلنج ہوجائیگا تاہم اگر مقررہ مدت سے5روز بعد ہوا تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ شیڈول میں تبدیلی الیکشن کمیشن کی ناکامی تصور ہوگی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔