استحصال کے نئے طریقے

شیخ جابر  ہفتہ 20 جولائ 2013
shaikhjabir@gmail.com

[email protected]

مائیکل رائس، عمر اڑتالیس برس۔ آپ نیو ہیمپشائر، ٹلٹن میں وال مارٹ کے ملازم تھے۔ یہ وہاں ’’اسسٹنٹ منیجر‘‘ تھے۔ وال مارٹ کیا ہے؟ مارکیٹ کیپ رینکنگ، 9 اپریل2012 کے مطابق مارکیٹ شیئر کے لحاظ سے یہ دنیا کی ابتدائی دس بڑی کمپنیوں میں سے ایک ہے۔ یہ دنیا کی بہت بڑی ’’ملٹی نیشنل ریٹیل کارپوریشن‘‘ ہے۔ اس کی بے شمار شاخیں ہیں۔ ان بڑے بڑے ڈیپارٹمینٹل اسٹورز اور ویئر ہاؤس اسٹورز کے بارے میں بجا طور پر مشہور ہے کہ آپ کو یہاں سوئی سے لے کر ہوائی جہاز تک سب کچھ ایک ہی چھت کے نیچے مل سکتا ہے۔

اس طرح کے بڑے بڑے ڈیپارٹمنٹل اسٹورز کی ایک خاص بات یہ بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ یہاں اشیاء کے نرخ عام بازار کی نسبت کچھ کم ہی ہوتے ہیں۔ ’’وال مارٹ‘‘ دنیا کی تیسری بڑی ’’پبلک کارپوریشن‘‘ ہے۔ (فورچون گلوبل)۔ وال مارٹ دنیا کی شاید سب سے بڑی ملازمتیں فراہم کرنے والی کمپنی بھی ہے۔ اس کے ملازمین کی تعداد 20 لاکھ سے بھی زائد ہے۔ یہ دنیا کے شاید سب سے بڑے خوردہ فروش ہیں۔ دنیا بھر کے 15 مختلف ممالک میں ان کے 8500 سے زائد اسٹورز ہیں۔ جہاں یہ 55 مختلف ناموں سے کام کر رہے ہیں۔ یہ ایک خاندانی کاروبار ہے۔ ’’والٹن‘‘ نامی خاندان کے پاس وال مارٹ کے 48 فیصد حصص ہیں۔

سو جناب، مائیکل رائس ٹلٹن کے وال مارٹ میں بہ طور اسسٹنٹ منیجر ملازم تھے۔ یہ امریکا میں واقع ایک خوبصورت قصبہ ہے جو دریائے ’’وینی پسیوکی‘‘ کے کنارے آباد ہے۔ یہاں کی آبادی قریباً ساڑھے تین ہزار نفوس پر مشتمل ہے۔ مائیکل رائس وال مارٹ سے ’’ٹیلی وژن‘‘ خریدنے والی ایک خاتون کی مدد کر رہے تھے۔ جب وہ خاتون کے ساتھ خریدا گیا ’’ٹیلی وژن‘‘ اٹھاکر موصوفہ کی گاڑی میں رکھوا رہے تھے تو ان کو دل کا دورہ پڑا۔ دل کا دورہ بہت شدید تھا۔ مائیکل رائس قریباً ایک ہفتے میں انتقال کرگئے۔ آپ کے انتقال کے بعد انشورنس کمپنی نے مائیکل کے انشورنس کی رقم 300,000 امریکی ڈالر ادا کی۔ لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ انشورنس کی یہ رقم مائیکل رائس کے خاندان اس کی بیوی اور دو بچوں کے بجائے ’’وال مارٹ‘‘ کو ملی۔

عین ممکن ہے  میری طرح آپ بھی مخمصے میں پڑ جائیں اور آپ کو بھی یقین نہ آئے۔ بھلا یہ کیسے ممکن ہے وال مارٹ جیسا باعزت اور باوقار اور نفع اندوزکاروباری ادارہ وہ اپنے مرحوم ملازم کا اس طرح استحصال کرے کہ انشورنس کی رقم غریب بیوہ اور یتیم بچوں کو ادا کرنے کے بجائے خود ہڑپ کرجائے۔ لیکن افسوس کہ سچ تو یہی ہے۔ وال مارٹ نہ صرف یہ کہ یہ تمام رقم خود ہڑپ کرگیا بلکہ  پتا چلا کہ یہ تو اس کا وطیرہ ہے۔ بیوہ کو جب اس تمام معاملے کا علم ہوا تو اسے شدید غصہ آیا۔ وہ حیران تھی کہ میرے شوہر نے زندگی بھر تو وال مارٹ کے لیے خدمات انجام دیں۔ وال مارٹ کے منافع میں اضافے کے لیے وہ دن رات محنت کرتا رہا اب وال مارٹ اس کے انتقال پر بھی پیسے کما رہا ہے۔

کم نہ زیادہ پورے تین لاکھ امریکی ڈالر۔ ہم نے بچپن میں سنا تھا کہ استحصال کے بغیر پیسہ جمع نہیں ہوسکتا۔ آج جسے دیکھیے بڑے بڑے اسٹورز میں ملنے والی سستی چیزوں کے گن گاتا ہے لیکن ہمیں وہاں جانے والا کوئی ایک فرد بھی ایسا نہیں ملا جو وہاں جاکر اسراف کا مرتکب نہ ہوتا ہو۔ بے شمار غیر ضروری اشیاء خرید کر اور ڈھوکر نہ لے آتا ہو۔ 5 روپے بچانے کے چکر میں 500 خرچ کرکے نہ چلا آتا ہو۔ یہ اسٹورز ملازمتیں فراہم کرتے ہیں لیکن کس قیمت پر؟ کتنے ہی چھوٹے چھوٹے دکانداروں کا کام کم یا بند ہونے کی قیمت پر۔ بھلا اپنا کام اچھا ہے یا ملازمت؟ ملازمت بھی کیسی وہاں ہر عمر اور جنس کے ملازم ہیں 12 گھنٹے کی ڈیوٹی ہے تمام وقت آپ کو کھڑے رہنا ہے یا چلتے رہنا ہے۔ یہ کون سی انسانیت ہے؟ لڑکیوں کو دیکھیے گھر میں کام کرنا عذاب معلوم ہوتا ہے۔ غیر مردوں کے ساتھ 12,12 گھنٹے کھڑے رہ کر کام کرنا کوئی آسان ہے؟ کہاں ہیں حقوق انسانی کے پاسبان؟

مائیکل رائس بھی ایسی ہی ترغیبات کا شکار تھا۔ وہ وال مارٹ کے منافع میں اضافے کے لیے ایک ہفتے میں 80 گھنٹے سے بھی زیادہ کام کرلیا کرتا تھا۔ نتیجے میں دل کے دورے سے موت کے علاوہ کیا ہاتھ آیا؟ مائیکل رائس کی بیوی ’’وکی رائس‘‘ کا کہنا ہے کہ ’’وال مارٹ‘‘ نے مائیکل کا ہولناک طریقے سے استحصال کیا۔ اور جب وہ مرگیا تو انھوں نے 300,000 ڈالر بھی ہڑپ کرلیے یہ بہت ہی غیر اخلاقی ہے‘‘ بیگم رائس کے مطابق بات صرف یہی نہیں بلکہ وال مارٹ نے انشورنس پالیسی پر کب دستخط کیے مائیکل رائس اور اس کی بیوی اس تمام تر کارروائی سے بھی قطعی لاعلم تھے۔ یہ تمام تر تفصیلات علم میں آنے کے بعد بیوہ نے وفاقی عدالت میں ’’وال مارٹ‘‘ پر مقدمہ دائر کردیا۔ بیوہ کا دعویٰ صرف اتنا تھا کہ بیمے کی رقم بیوہ اور بچوں کا حق ہے جو انھیں ملنا چاہیے۔ گویا اصل جھگڑا صرف پیسے کا ہے۔ اگر کمپنی رقم ادا کرتی رہے تو کارکنان اور ان کی بیوہ اور بچے اپنے استحصال کو بہ خوشی قبول کرلیں گے۔ گویا یہ وہ دور ہے جب پیسہ ہی سب کچھ ہے۔ آج کی اخلاقیات، آج کی قدر صرف اور صرف پیسہ ہے۔ اگر کسی خاموش طریقے سے کوئی کمپنی اپنے کارکن سے پیسہ کمالے تو ناجائز یا قابل اعتراض اگر کچھ حصہ اسے یا اس کی بیوہ کو بھی مل جائے یا ملتا رہے تو کوئی اعتراض والی بات نہیں۔ یہ ہے آج کی اخلاقیات۔

وال مارٹ کے ترجمان نے کہا ’’کمپنی اپنے ہزاروں ملازمین کی زندگیوں کا بیمہ بھی کرواتی ہے۔ انھوں نے اس بات سے صاف انکار کردیا کہ ہم اس سے کوئی نفع کماتے ہیں۔ انھوں نے کہا ’’ہم اپنے شریک کار ساتھیوں کی موت سے نفع نہیں کماتے۔ یہ ہماری سرمایہ کاری ہے۔ اگر یہ کارکن زندہ رہتے ہیں تو کمپنی ان کے بیموں کی سالانہ رقم بھی تو ادا کرتی ہے۔‘‘ کمپنی کے ترجمان کا موقف تھا کہ’’ ہم اسے منافع کہنے کو تیار نہیں۔ آخر کو کمپنی اپنے ملازمین کی تربیت وغیرہ پر بھی تو مصارف کرتی ہی ہے۔‘‘

اب یہ فیصلہ قارئین اور ان کے ضمیر پر ہے کہ وہ اسے کیا سمجھتے ہیں۔ یہ دھوکا ہے۔ منافع اندوزی ہے یا کمپنی کا حق ہے؟ بیمے کی رقم بیوہ اور یتیم بچوں کا حق ہے یا ملٹی نیشنل کا؟

آج یہ ایک عام رجحان بن چکا ہے۔ اسے ’’کارپوریٹ اونڈ لائف انشورنس‘‘ (سی او ایل آئی) یا ’’بینک اونڈ لائف انشورنس‘‘ (بی او ایل آئی) کہا جاتا ہے۔ اسے ’’جینی ٹرز انشورنس‘‘ اور ’’ڈیڈپینٹس انشورنس‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ ’’نکولائی گوگول‘‘ کے ناول ’’ڈی سولز‘‘ (1842) کو ذہن میں لائیں۔ اگر روس میں یہ استحصال ہوسکتا ہے تو سرمایہ داریت کے تحت اس طرح کے بیمے جو ملازمین کو ملازمت فراہم کرتے ہوئے ان کی لاعلمی میں دستخط کروالیے جاتے ہیں ظلم، ناانصافی، دھوکا اور استحصال کیوں قرار نہیں پاسکتے؟ 1990 سے بڑی کمپنیوں کا یہی وطیرہ نظرآتا ہے۔وال مارٹ کے علاوہ ’’والٹ ڈزنی‘‘ وغیرہ بے شمار اس غیر اخلاقی کام میں شامل ہیں۔

ملٹی نیشنل کمپنیاں ایک جانب تو پریمیم کی ادائیگی اپنے حسابات میں ظاہر کرکے ٹیکس بچاتی ہیں دوسری جانب وہ ملازم کی موت سے لاکھوں ڈالر کما لیتی ہیں۔ جب اس بارے میں ملازمین کو آگہی ملنے لگی اور کچھ واویلا ہوا تو حکومتوں کو بھی سوچنا پڑا۔ لیکن آپ جانتے ہیں کہ سرمایہ دار پر کوئی قانون لاگو کرنے سے قبل حکومت دس مرتبہ سوچتی ہے۔ القصہ اب یہ بھی کسی کسی کمپنی میں ہونے لگا ہے کہ وہ اپنے ملازم کو اس امر کی اطلاع دے دیتے ہیں کہ ہم نے تمہاری موت کو بھی بیمہ کمپنی کے ہاتھوں فروخت کردیا ہے۔ اگر تم اس پر اعتراض نہ کرو تو ہم تمہیں بھی اس میں سے قریباً 5000 ڈالر کا شریک کرلیں گے۔ یہ رقم تمہاری موت پر ورثاء کو مل جائے گی باقی 300,000 ڈالر کمپنی کے۔

اگر اس طریقے کی اثبات کو تسلیم کر بھی لیا جائے تو کیا اس سے یہ تمام تر عمل اخلاقی جواز حاصل کرلے گا۔ انسان کا شرف اسے واپس مل پائے گا۔ ایک ملٹی نیشنل ایک انسان کو بازار کی ایک جنس کی طرح دیکھتی ہے۔ اس کی زندگی میں اس کے کام سے نفع کماکر اور اب اس کی موت کو بھی اپنے لیے نفع انگیز بناکر۔ کیا انسانی حقوق کے علم برداروں کو اس میں کوئی غیر انسانی پہلو نظر آئے گا؟ کیا انشورنس کے کاروبار پر کوئی انسانیت کا نام نہاد علم بردار کوئی سوال ہی اٹھا  پائے گا؟

سید خالد جامعی اور ڈاکٹر عبدالوہاب سوری کی خوشہ چینی کرتے ایک عمر بیتی ہے۔ کل بھی آپ نے ’’مائیکل سینڈل‘‘ کی کتاب ’’واٹ منی کین ناٹ بائے: دی مورل لمٹس اوف مارکیٹ‘‘ پڑھنے کو دی تو ڈیپارٹمنٹل اسٹورز اور انشورنس کی یہ جہات میرے سامنے نہ تھیں۔ مندرجہ بالا اقتباس متذکرہ کتاب کے چوتھے باب ’’مارکیٹس ان لائف اینڈ ڈیتھ‘‘ سے ہے۔ لائق مطالعہ کتاب ہے۔ مائیکل سینڈل امریکا کی ہاؤرڈ یونیورسٹی کے ’’سیاسی فلسفی ‘‘ہیں۔ آپ ’’والز‘‘ کے اچھے ناقدین میں سے ایک ہیں۔

مائیکل جے سینڈل نے مارکیٹ کی اخلاقیات پر عمدہ مباحث اور سوالات اٹھائے ہیں لیکن میرا سوال یہ ہے کہ فی نفسہ مارکیٹ کی اثابت کب زیر بحث آئے گی؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔