لاشعوری مزاحمت

شایان تمثیل  ہفتہ 20 جولائ 2013

پچھلے کالم میں یہ سوال اٹھایا گیا تھا کہ کچھ لوگوں میں خارق العادات صلاحیتیں ابتدا میں موجود ہوتی ہیں، جن کی ذہنی طور پر اٹھان بے حد شاندار اور روحی استعداد حیرت انگیز طور پر قوی تھی لیکن پھر آہستہ آہستہ کشف، وجدان اور القا کی تمام قوتیں مرجھا کر رہ جاتی ہیں،ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس کا جواب مشکل ضرور ہے لیکن کچھ پہلوئوں سے اسے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ہم نے قبض و بسط پر بحث کرتے ہوئے ذہن کی اس خصوصیت پر زور دیا تھا کہ: وہ ایک حال پر قائم نہیں رہتا، ایک سیکنڈ میں نہ جانے کتنے تصورات اورکتنے تاثرات ہمارے ذہن سے گزرجاتے ہیں۔ یہ عام تجربہ ہے کہ صبح آنکھ کھلی تو طبیعت بشاش تھی۔ ناشتہ کرنے کے بعد افسردہ ہوگئی،کام کی طرف توجہ کی، ذہن کھل گیا۔ دوپہر کو پھر دماغ بند ہوگیا۔ سہ پہر کو جی بہل گیا، شام کو پھر اضمحلال کا دورہ پڑگیا۔ الغرض چوبیس گھنٹے خوشی و ناخوشی۔ امیدی اور قبض و بسط (یعنی  بندھنے کھلنے) کا سلسلہ ایک دائرے کی شکل میں مکمل ہوتا رہتا ہے۔ ذہن ایک لمحے کے لیے ٹھہرجائے یعنی مختلف تاثرات قبول کرنے سے انکار کردے تو آدمی پر ہسٹریا، مالیخولیا اور پاگل پن کا دورہ پڑ جائے۔ نفسیاتی صحت مند اور ذہنی مریض میں فرق یہی ہے کہ ایک عام صحت مند آدمی مختلف مہیحات سے حسب ضرورت اور حسب موقع مثبت یا منفی اثر قبول کرتا ہے، برخلاف اس کے ذہنی مریض کسی ایک مہیج یا جذبے سے چپک کر رہ جاتا ہے اور آگے بڑھنے یا ماحول کے مطابق خود کو بدلنے سے انکار کر دیتا ہے۔

مثال کے ذریعے یہ بات بخوبی سمجھ میں آجائے گی۔ مہیج ہر وہ چیز جو آپ کے ذہن پر اثرانداز ہو کر اسے حرکت میں لے آئے۔ جیسے کوئی مجھے ڈانٹے تو میرے ذہن میں ہیجان برپا ہوجائے گا یا کوئی میری خوشامد کرے تو جی پگھل جائے گا۔ ڈانٹنا اور خوشامد کرنا یہ دونوں عمل ذہن کے لیے مہیج (ہیجان اور تحریک انگیز) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ نفسیاتی طور پر ہر صحت مند شخص ان تمام ہیجانوں اور تحریکوں سے اثر قبول کرتا اور ان کے مطابق اپنے آپ کو ڈھال لیتا ہے۔ لیکن نفسیاتی مریض میں مطابقت احوال (Adjustment) کی صلاحیت نہیں ہوتی۔ اگر ناامیدی کے دورے میں مبتلا ہے تو ہمیشہ اسی کیفیت کا نشانہ بنا رہے گا، افسردہ ہے تو اس کی افسردگی کسی طرح دور نہ ہوگی، غصے کا مرض ہے تو اس کی غضبناکی ترقی پذیر رہے گی، مختصر یہ کہ نفسیاتی مریض کے ذہن میں لچک نہیں رہتی، اس کا نفس سوکھی لکڑی کی طرح سخت، شعور صرف ایک ہی سمت میں رواں دواں رہتا ہے گو راستے میں کتنے ہی موڑ کیوں نہ آئیں۔

القاء، وجدان اور اشراق بھی ذہنی صلاحیتیں ہیں۔ ذہنی صلاحیتیں کبھی کبھی دب جاتی ہیں، کبھی ابھر جاتی ہیں۔ اگر ان صلاحیتوں کی مناسب نگہداشت اور پرورش وپرداخت نہ کی جائے تو یہ انجام کار بکھر کر رہ جاتا ہے۔ پھر یہ اٹل حقیقت بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ عام زندگی صرف عملی شعور اور فراست عامہ (کامن سینس) کے ذریعے بسر کی جاسکتی ہے۔ عملی شعور کہتے ہیں دو اور دو چار کی صلاحیت کو! یعنی کپاس اگا کر روئی نکالی جائے، روئی نکال کر اسے کاتا جائے کپڑے بنے جائیں یا مٹی میں دانا بکھیر کر کھیت کو سینچا جائے، پودے اگائے جائیں، فصل تیار کرکے اناج کاٹا جائے پھر روٹی پکائی جائے۔ انسان نے اپنے ظہور کی ابتدا سے آج تک روئے زمین پر جتنی ترقی کی ہے وہ اسی قدرتی طریق کار پر عمل کرکے۔ یہ نہیں ہوا کہ جنت سے حلّے اتر آئے اور انسانوں نے ستر پوشی کر لی، آسمان سے من و سلویٰ نازل ہوگیا اور بھوکوں نے پیٹ بھر لیا۔ فرشتوں، جنوں، درختوں اور حیوانوں کو زندہ رہنے کے لیے وہ منظم تگ و دو نہیں کرنی پڑتی جو انسان کا مقدر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ خاک کا پتلا، اشرف المخلوق کہلایا اور وہ نور کے مجسمے (فرشتے) اور آگ کے پیکر (جنات) آدمی کے مقابل ازل المخلوق ٹھہرے۔ جن و فرشتے (حیوانات اور نباتات کی طرح) آزاد ارادے کے مالک نہیں ان دونوں مخلوقوں کی حیثیت بہت حد تک مشینی ہے۔ وہ سختی کے ساتھ اپنی جبلت کی زنجیروں میں اسیر ہیں اور مقررہ دائرے سے بال بھر تجاوز نہیں کرسکتے۔

انسان اس لیے اشرف المخلوقات ہے کہ وہ فاتح کائنات ہے۔ یہ کائنات شروع سے آخر تک مادی قوانین کا اتباع کرتی ہے۔ فاتح کائنات وہی مخلوق ہوسکتی ہے جو مادے کی قوتوں کو دریافت اور ان قوتوں کے قوانین پر عمل کرکے اس جہاں آب و گل کو تسخیر کر سکے۔ پانی، ہوا، آگ، مٹی، بھاپ گیس، بجلی اور کشش (الغرض کائنات کی تمام قوتیں) کے کچھ قانون ہیں۔ ان قوانین کو صرف عمل اور تجربے کے ذریعے دریافت کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ انسان میں ماورائی بصیرت موجود ہے (یعنی آنکھ کے بغیر دیکھنے کی قوت) لیکن قدرت کا اصرار ہے کہ کائنات کے مظاہر کو تیسری آنکھ کے بجائے صرف ماتھے کی دو آنکھوں سے دیکھے۔ یقیناً آدمی کو ادراک ماورائے حواس کی قوت دی گئی (ادراک ماورائے حواس یہ کہ آنکھ، کان، ناک وغیرہ استعمال کیے بغیر وہ اشیاء اور افراد کے بارے میں علم حاصل کرے) تاہم عملی زندگی کا تقاضا یہ ہے کہ وہ آنکھ سے آنکھ، کان سے کان اور ناک سے ناک کا کام لے۔ قدرت نے انسان کو نارمل بنایا ہے اور یہ رعایت مشکل ہی کسی شخص کو دی جاتی ہے کہ وہ ’’سپرنارمل‘‘ بن سکے، گو انسان کے ذہنی اور دماغی ارتقاء کا رخ ہے سپر نارمل ہی کی طرف۔

یہی وجہ ہے کہ انسان کو مشق مجاہدے اور ریاضت میں اتنی زحمت اٹھانی پڑتی ہے۔ لاشعوری مزاحمت کے سلسلے میں اس سے قبل تفصیل کے ساتھ عرض کیا جاچکا ہے جب ہم اپنے نظام جذبات کو ارادے کے تحت لانے کے لیے بطور مثال سانس کی مشقیں شروع کرتے ہیں تو کچھ دن بعد ان مشقوں کے خلاف خود اپنے اندر ایک بغاوت شروع ہوجاتی ہے۔ کسی طرح مشقیں کرنے کو جی نہیں چاہتا، نفس طرح طرح کے بہانے تراشتا ہے۔ الغرض مشقیں شروع کرنے کے بعد بڑی ناگوار قسم کی ذہنی کشمکش برپا ہوجاتی ہے۔ کردار سازی و تعمیر و تنظیم شخصیت کے طالب علموں کے لیے یہ مرحلہ بے حد سخت ہوتا ہے۔ تاہم شفیق استاد کی نگرانی اور ہمت افزائی سے اس منزل دشوار کو طے کیا جاسکتا ہے۔ درحقیقت بعض لوگ مشقیں شروع کرتے ہی اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ چند روز کے بعد وہ آدمی کے بجائے دیو اور انسان سے ترقی کرکے برتر بن جائیں گے۔ جب اس غلط فہمی کا پردہ چاک ہوتا ہے تو مشقوں کی طرف سے طبیعت بیزار ہوجاتی ہے۔ ناغے ہونے لگتے ہیں۔ مقررہ ہدایات کی پابندی جی کا جنجال بن جاتی ہے اور آدمی آدھے میں لٹک کر رہ جاتا ہے۔

مشقوں کے خلاف لاشعوری مزاحمت کے سلسلے میں ایک نوجوان ریڈر جو ذہنی صحت مندی اور دماغی بحالی کے سلسلے میں سانس کی مشقیں کررہے ہیں نے شکایت کی کہ ان مشقوں میں ان کا جی نہیں لگتا، محسوس ہوتا ہے کہ یہ مشقیں عملی شعور کے خلاف ہیں۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے کہ بے شک عملی شعور (دو اور دو چار) کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو ان مشقوں سے نہ آپ پہلوان بن سکتے ہیں نہ چیمپئن، البتہ ان مشقوں سے رفتہ رفتہ گہری اندرونی تبدیلیاں واقع ہوں گی، انجام کار آپ کی شخصیت بدل جائے گی۔ شخصیت کی تبدیلی کا عمل دیر طلب سہی اور دقت طلب بھی تاہم قلب ماہیت کا یہ غیر محسوس اور باطنی عمل پتھر کو ہیرا اور آدمی کو نہ جانے کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔

(نوٹ: گزشتہ کالم پڑھنے کے لیے وزٹ کریں

www.facebook.com/shayan.tamseel)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔