کچھ کراچی کے بارے میں …   (پہلا حصہ)

زاہدہ حنا  اتوار 27 جنوری 2019
zahedahina@gmail.com

[email protected]

ہم شہرکراچی کے بیچوں بیچ رہتے تھے اور اس کی رونقوں کے بارے میں سنتے تھے لیکن ہمیں گھر سے کسی بڑے کے بغیر نکلنے کی اجازت نہیں تھی، اسکول میں داخل کرانے کی بجائے گھر پر پڑھایا جاتا تھا، اس کے باوجود کبھی کسی شادی اور کبھی رشتہ داروں کے یہاں جانے کے لیے گھر سے نکلنے اور شاہی سواری فٹن میں بیٹھ کر شہرکو ترسی ہوئی نگاہوں سے دیکھتے، کیسا بھلا منظر ہوتا۔

ٹریفک بے ہنگم اور بے قابو نہیں تھا۔کبھی ٹن ٹن کرتی ٹرام دائیں بائیں سے نکل جاتی اورکبھی کوئی بس گزرتی لیکن یہ کبھی نہ دیکھا تھا کہ لوگ اس سے خطرناک انداز میں لٹکے ہوئے ہوں۔ اسی طرح اس کا بھی تصور نہ تھا کہ ٹکٹ خریدنے کے باوجود صبح سے شام تک بوڑھے، بچے اور جوان اپنی جان پرکھیل کر بسوں کی چھت پر سفرکریں اور یہ ان کا روزمرہ کا معمول ہو۔ اسکول بسیں ہوتی تھیں جن میں قاعدے قرینے سے بچے بٹھائے جاتے۔

یہ کام اسکولوں میں پڑھانے والی استانیاں کرتیں اور اس بات کا خیال رکھتیں کہ ضرورت سے زیادہ بچے بسوں میں بھیڑ بکریوں کی طرح نہ ٹھونسے جائیں۔ اب کی طرح نہیں کہ بچے سوزوکیوں، موٹر رکشوں اور چنگ چی رکشوں میں قربانی کے جانوروں کی طرح سفرکرتے ہیں۔

عرصۂ دراز سے کراچی شہر نا پرساں ہوچکا۔ یہاں رہنے والے لوگوں کو جان کی امان نہیں۔ یہاں بھائیوں نے بھائیوں کو قتل کیا۔ ایک دوسرے پر تشدد کرنے کے لیے اذیت گاہیں بنائیں، ویرانے میں نہیں بستیوں میں۔آس پاس رہنے والے اذیت سہنے والوں کی چیخیں سنتے لیکن کس کی مجال تھی کہ ان عقوبت گاہوں کے خلاف آواز اٹھائے۔کچھ اعصابی انتشارکا شکار ہوئے اور جن کے لیے ممکن تھا، وہ علاقہ چھوڑکرچلے گئے۔

آبادی میں بے تحاشہ اضافے کے ساتھ ہی زمین سونے کے بھاؤ بکنے لگی۔ لوگوں نے ندی نالے نہ چھوڑے، حد تو یہ ہے کہ قبرستان بھی بک گئے اور وہاں کئی منزلہ عمارتیں بن گئیں۔ اس شہرکی زمین کے ساتھ وہ ہوا جو غریب، بے آسرا اور نوجوان بیوہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس نیک کام میں وہ ادارے بھی شامل تھے جن کا شمار محافظوں میں ہوتا ہے۔ خدا ایسے محافظ دشمن کو بھی نہ دے۔

ہم جیسے جو اس شہر میں بچے سے بوڑھے ہوئے، ہم نے صبرکیا اس لیے کہ اس کے علاوہ کچھ اورکرنا ہمارے لیے ممکن نہ تھا۔ شہر کی یہ غارت گری پچاس برس سے جاری ہے، ایسے میں یہ خبر ناقابل یقین ہے کہ سپریم کورٹ نے کارساز، شاہراہ فیصل، راشد منہاس روڈ پر قائم تمام شادی ہال،گلوبل مارکیٹ سمیت کنٹونمنٹ کے علاقوں میں تمام سینما ،کمرشل پلازہ اور مارکیٹیں گرانے کا حکم دے دیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے عسکری پارک جو پرانی سبزی منڈی کی خالی زمین پر قائم کیا گیا ہے، اسے فوری طور پر سول ادارے کے سپرد کرنے اور عوام کے لیے کھولنے کا حکم دے دیا۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کراچی کی صورتحال پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ کراچی کو تباہ کردیا اورکوئی خوبصورت مقام نہیں چھوڑا۔ ان کا بس چلے تو یہ سڑکوں پر بھی شادی ہال بنا ڈالیں۔ انھوں نے سوال اٹھایا کہ اسلحہ ڈپو کے قریب کس طرح شادی ہال بن سکتے ہیں۔ یہ کیا کررہے ہیں۔ سماعت کے دوران عسکری پارک سے متعلق معاملہ آیا جس پر سپریم کورٹ کا عسکری پارک سے متعلق بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔ جسٹس گلزار احمد نے عسکری پارک فوری طور پر سول ادارے کے ماتحت کرنے اور پارک عوام کے لیے کھولنے کا کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ عزیز بھٹی پارک کو ماڈل پارک بنایا جائے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ اس شہر کے پارکوں کو شہیدوں کے نام پر بیچ دیا گیا۔

عدالت نے کراچی کا انفرا اسٹرکچر تباہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے شہر کی تباہی پر سندھ حکومت کو فوری طور پر کابینہ کا اجلاس بلانے کا حکم دے دیا۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ ایڈووکیٹ جنرل صاحب ! ہمیں لوریوں سے سلانے کی کوشش مت کریں ۔ جسٹس گلزار احمد نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ میں کہا کہ آپ لوگ کٹھ پتلی ہیں اورکسی کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کراچی کی صورتحال پرکسی قسم کا کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ ہمیں 1950 کے بعد والا اصل ماسٹر پلان لاکردیں۔ اس شہرکی کم از کم 500 عمارتیں گرانا ہوں گی۔ شہرکی تباہی میں سب اداروں کی ملی بھگت شامل ہے۔ عدالت نے سندھ حکومت کو شہر کی تباہی پر ماہرین سے مشاورت کرنے کا حکم دے دیا اور کہا کہ بتایا جائے کہ شہرکی بے ہنگم اور غیر قانونی عمارتوں کو کیسے گرایا جا سکتا ہے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ کراچی کی ایک انچ زمین پر بھی کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ غیر قانونی تعمیرات کے پیچھے کوئی بھی ہو آپ کو سب گرانا ہوگا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ بیرون ملک سے ٹاؤن پلانرز کو بلائیں اور کراچی کو اصل شکل میں بحال کریں۔ لندن کے پاکستانی نژاد میئر صادق احمد سے پوچھیں کہ شہرکیسے بسائے جاتے ہیں۔ لائنز ایریا گراکر ملٹی اسٹوریز عمارتیں بنائیں اور لوگوں کو آباد کریں۔ شہرکو تباہ کردیا ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ۔ ٹیپو سلطان روڈ، شہید ملت روڈ اور کشمیر روڈ پر تباہی پھیر دی۔ شاہراہ فیصل پر دونوں اطراف خوبصورت بنگلے تھے اب عمارتوں کا جنگل ہے۔ بجلی کے تاروں کے بعد کیبلز نے شہر کی خوبصورتی بگاڑ دی۔ یہ کراچی کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگ پیسہ بنانے میں لگے رہیں اور یہ کلنک کا ٹیکا لگتا رہے آپ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہر کوئی برطانیہ، امریکا اور کینیڈا میں جائیداد بنانا چاہتا ہے۔ جام صادق پارک سے تجاوزات ختم نہ کرنے پر عدالت برہم ہوگئی۔ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کا موقف تھا کہ جام صادق نے وہاں جاکر پارک کا صرف اعلان کیا تھا زمین الاٹ نہیں ہوئی تھی۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا کہ کیا وزیراعلیٰ کے اعلان کی کوئی اہمیت نہیں؟ بلائیں اپنے وزیراعلیٰ کو ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا چیف منسٹری کررہے ہیں۔

ڈائریکٹر اینٹی انکروچمنٹ کے ڈی اے جمیل بلوچ نے بتایا کہ ملیر ندی کی زمین کورنگی انڈسٹریل ایریا کو دے دی گئی تھی۔ اس زمین پر عمارتیں بن گئی ہیں۔ جسٹس گلزار نے ریمارکس میں کہا کہ کیا یہاں متوازی قانون چل رہا ہے؟ لوگوں کو بے وقوف نہ بنائیں اے جی صاحب ۔ عوام کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ جام صادق پل کے اطراف شادی ہال اور بلند عمارتیں بنادی گئیں، یہ سب غیر قانونی ہے۔ جو بھی غیر قانونی عمارت ہے وہ گرے گی ملک کی کوئی طاقت اسے گرنے سے نہیں روک سکتی۔

عدالت نے ملیر ندی کی زمین واگزار کرانے کا حکم دے دیا۔ سماعت کے دوران عدالت نے چیئرمین پی آئی اے کو نوٹس جاری کردیے۔ جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ سنا ہے کہ پی آئی اے ہیڈ آفس کراچی سے اسلام آباد جا رہا ہے۔ ہیڈ آفس اسلام آباد گیا تو اس خالی جگہ کا کیا استعمال کریں گے۔

یہ تمام باتیں قومی اخباروں میں شائع ہوئی ہیں جنھیں یہاں نقل کردیا گیا ہے تاکہ اگرکسی نے بھول چوک سے یہ تفصیل اخبار کے اندرونی صفحوں پر نہ پڑھی ہو تو اب پڑھ لے۔ یہ ایسے جملے ہیں اور ایسے فیصلے جنھیں پڑھ کر کم سے کم مجھے تو یہی محسوس ہوا کہ میں خواب دیکھ رہی ہوں اور ابھی آنکھ کھل جائے گی ۔ (جاری ہے)

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔