شہر کے پوش علاقوں میں جرائم پیشہ عناصر کا راج، شہری بے یارومددگار

اسٹاف رپورٹر  اتوار 21 جولائ 2013
فرض شناس پولیس افسران تعینات کیے جائیں جو اسٹریٹ کرائم سے چھٹکارا دلاسکیں، شہریوں کا آئی جی سندھ سے مطالبہ۔

فرض شناس پولیس افسران تعینات کیے جائیں جو اسٹریٹ کرائم سے چھٹکارا دلاسکیں، شہریوں کا آئی جی سندھ سے مطالبہ۔

کراچی:  شہر کے پوش علاقوں ڈیفنس اور کلفٹن میں جرائم پیشہ افراد کا راج ہوگیا، مسلح افرادجب اور جہاں چاہتے ہیں شہریوں کو ان کے قیمتی مال و متاع سے محروم کرکے با آسانی فرار ہوجاتے ہیں۔

اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں پر پولیس قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہے۔ تفصیلات کے مطابق شہر کے پوش علاقوں ڈیفنس، کلفٹن، درخشاں اور گذری میں جرائم پیشہ افراد کا راج ہوگیا ہے، شہریوں کا گھروں سے نکلنا محال ہوگیا ، مسلح افراد انھیں لوٹ کر فرار ہوجاتے ہیں، اسٹریٹ کرائم اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ خواتین اور بچوں نے گھر سے اکیلے نکلنا تک چھوڑ دیا، بیشتر شہریوں نے نمائندہ ایکسپریس کو بتایا کہ انھیں راہ چلتے موٹر سائیکل سواروں نے موبائل فون ، نقدی اور دیگر قیمتی اشیا سے محروم کردیا اور فرار ہوگئے۔

واقعات سے جب پولیس کو مطلع کیا جائے تو پولیس بھی کوئی کارروائی کرنے سے گریزاں نظر آتی ہے، اسٹریٹ کرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتوں کی وجہ سے شہری نفسیاتی طور پر خوف میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں اور یہ خوف اس حد تک بڑھ گیا ہے کہ اگر سڑک پر کوئی گاڑی یا موٹر سائیکل ان کی گاڑی کے قریب آجائے تو وہ ڈرجاتے ہیں۔

شہریوں نے کہا کہ ملزمان انتہائی دیدہ دلیر ہوتے ہیں اور دن دہاڑے چلتی سڑک پر وارداتیں کرکے فرار ہوجاتے ہیں ، واقعے سے قریب موجود پولیس اہلکاروں کو مطلع کیا جائے تو وہ موبائل کا سائرن بجاتے ہوئے سڑکوں پر گشت کرکے چلے جاتے ہیں، پولیس کی جانب سے بھی ملزمان کو پکڑنے میں کسی خاص دلچسپی کا مظاہرہ نہیں کیا جاتا۔

شہریوں نے کہا کہ جگہ جگہ پولیس اہلکار اسنیپ چیکنگ کے نام پر موٹر سائیکل پر سوار عام شہریوں کو تو روک کر تنگ کرتے ہیں اور مبینہ طور پر رقم لینے کے بعد ہی انھیں چھوڑتے ہیں لیکن ڈبل سواری کی پابندی کی خلاف ورزی کرتے مسلح ملزمان انھیں نظر نہیں آتے، شہریوں نے آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ پوش علاقوں میں بڑھتی ہوئی جرائم کی وارداتوں پر سخت نوٹس لیں اور ایسے ایماندار اور فرض شناس افسران کو تعینات کیا جائے جو شہریوں کو اسٹریٹ کرائم کے عفریت سے نجات دلاسکیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔