342 ارب کے قرضے ادا کرنے کی وجہ سے روپے کی قدر کم ہو گئی، اسحاق ڈار

آئی این پی  اتوار 21 جولائ 2013
امید ہے رواں ماہ گردشی قرضوں سے نجات مل جائے گی، ایل این جی ٹرمنل بنانے کیلیے کام شروع کردیا ، اسحاق ڈار کا انٹرویو  فوٹو: فائل

امید ہے رواں ماہ گردشی قرضوں سے نجات مل جائے گی، ایل این جی ٹرمنل بنانے کیلیے کام شروع کردیا ، اسحاق ڈار کا انٹرویو فوٹو: فائل

اسلام آ باد:  وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ 342 ارب روپے کے قرضوں کی ادائیگی سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔

حکومت ملک میں اقتصادی استحکام، شفافیت اوراچھے نظم ونسق کیلیے ممکنہ اقدامات کر رہی ہے، گردشی قرضوں کی باقی رقم کی ادائیگی چندہفتوں میں یقینی بنائی جائے، وفاقی محاصل میں 25 فیصد اضافے کیلیے جارحانہ حکمت عملی وضع کرلی گئی، ٹیکس دہندگان کی تعداد میں اضافہ کیاجائیگا،قطر سے درآمد کی جانے والی ایل این جی کی قیمت بین الاقوامی سسٹم کے تحت مقررکی جائے گی، پاکستان میں ایل این جی ٹرمنل قائم کر نے کیلیے کام شروع کردیا ہے۔ ایک انٹرویو میںوفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف کی ہدایت پر ملک کو معاشی مسائل سے نکالنے کے لیے تین سالہ پلان تیار کر رکھا ہے جو ملک کی معیشت کو راہ راست پر لانے کے لیے پورا منصوبہ ہے۔ امید ہے کہ رواں ماہ میں ملک کو گردشی قرضوں سے نجات مل جائے گی۔

سابقہ دور حکومت میں گزشتہ برس ٹیکس نیٹ میں صرف 2 فیصد اضافہ ہوا لیکن موجودہ حکومت کی ہر ممکن کوشش ہے کہ جی ڈی پی کی شرح میں اضافہ ہو اور ٹیکس نیٹ میں 25 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔ روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر میں اضافے پر تشویش کی کوئی بات نہیں ہے کیونکہ 342 ارب روپے کے قرضوں کی ادائیگی کی وجہ سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی جو آئندہ چند ہفتوں میں حکومت کے اقدامات کی وجہ سے روپیہ اپنی پرانی حالت میں واپس آ جائے گا۔ پاکستان آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کا ممبر ملک ہے اور ان اداروں سے قرض لینا کوئی بھیک لینے کے مترادف نہیں ہے۔

قطر سے ایل این جی خریدنے کے سوال پر وزیر خزانہ نے کہا کہ ایل این جی خریدنے کے حوالے سے قطر کے حکام سے بات چیت ہوئی ہے جس میں قطری حکام نے کہاکہ اگر آپ ایل این جی خریدنے کے حوالے سے سنجیدہ ہیں تو پہلے ملک میں ایل این جی ٹرمنل بنائے جائیں ۔انھوں نے کہا کہ ان باتوں میں بھی کوئی صداقت نہیں کہ حکومت نے قطر سے ایل این جی گیس کے نرخ کا 20 سالہ معاہدہ کیا ہے ۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔