تمام اداروں میں کرپشن ہے، ختم ہونی چاہیے، انور بیگ

مانیٹرنگ ڈیسک  اتوار 21 جولائ 2013
عدالت کو ہر معاملے میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے،زاہد حسین، لائیو ود طلعت میں گفتگو۔ فوٹو : فائل

عدالت کو ہر معاملے میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے،زاہد حسین، لائیو ود طلعت میں گفتگو۔ فوٹو : فائل

لاہور: ن لیگ کے سینیٹر انوربیگ نے کہاہے کہ بدقسمتی سے پاکستان کوکرپشن پچھلے پچیس تیس سال سے دیمک کی طرح کھارہی ہے۔

ای اوبی آئی ہی نہیں کسی بھی محکمے میں چلے جائیںکسی بھی ادارے کا احتساب کرلیں ان میںکرپشن ملے گی۔ایکسپریس نیوز کے پروگرام لائیوودطلعت میں میزبان طلعت حسین سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ ہر اسکینڈل میں بااثرلوگ ملوث ہوتے ہیں، پاکستان سے اگرکرپشن ختم نہ ہوئی توملک کواوربھی سنگین خطرات لاحق ہوجائیں گے ،کرپشن کے خاتمے کیلیے کسی بڑی سرجری کی ضرورت ہے اورحکومت کواس طرف توجہ کرنی چاہیے،دہشت گردی بہت سنجیدہ ایشوہے اس پرسب کوسرجوڑ کربیٹھنا چاہیے،دہشت گردی کی وجہ سے پاکستانی معیشت کابیڑہ غرق ہوگیاہے،اے پی سی بلانے کامقصد کسی متفقہ لائحہ عمل پر پہنچنا ہے جہاں تک عمران خان کا تعلق ہے تووہ ایک سیاسی پارٹی کے لیڈرضرورہیں لیکن وہ اپوزیشن رہنما نہیں۔

پیپلزپارٹی کے رہنما قمر زمان کائرہ نے کہاکہ مجھے عمران خان کے مطالبے پراعتراض نہیںلیکن ایسالگتاہے وہ ایک مستند اپوزیشن کے طورپرکوئی ڈیل چاہتے،حکومت نے سرکلرڈیٹ کے نام پربہت بڑی رقم اداکی ہے اورجب اس طرح کی ادائیگی ہوتی ہے تواس میں کچھ ریلیف بھی ملتاہے پتہ چلنا چاہیے کہ اگرریلیف ملاہے تو کیا ہے اور کہاں گیا ہے،بھارت سے مذاکرات کوئی بری بات نہیں،مذاکرات تو جنگوں کے درمیان بھی ہوتے ہیں، اے پی سی میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوسکے گا، حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی پالیسی بنائے اوراس پر عمل کرے۔

تحریک انصاف کی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہاکہ ای اوبی آئی میں اسکینڈل کامنظر عام پر آنا اچھی بات ہے لیکن ہونا یہ چاہیے تھا کہ جو ادارہ پہلے سے تحقیقات کررہاہے اس کواپناکام کرنے دیناچاہیے تھا،کے پی کے میں تبدیلی آچکی ہے واحدصوبہ ہے جہاں تعلیم میں ایمرجنسی نافذہے ،واحدصوبہ ہے جو بلدیاتی انتخابات کرانے میں پیش پیش ہے،دہشت گردی اور اے پی سی کے معاملے میں عمران خان کامؤقف ہے کہ سچ بولاجائے وہ چاہتے ہیں کہ ہم عوام سے سچ بولیں ،ہمیں پتہ چلے کہ امریکا کے ساتھ ہم نے کیا خفیہ معاہدے کیے ہوئے ہیں،ڈرون حملوں پر کیا انڈرسٹینڈنگ ہیں،قطر کے ساتھ ایل این جی ڈیل پربہت سے تحفظات ہیں، نہ کوئی ٹینڈر ہوا اور نہ ہی کوئی ایگریمنٹ سامنے آیا اور ڈیل ہوگئی۔

میرے لئے یہ بہت حیرانی کی بات ہے کہ حکومت نے بھارت سے اس وقت بیک ڈور ڈپلومیسی شروع کی جب کشمیریوں کاخون بہایا جارہا ہے، بھارتی فوج نے کشمیر میں3افرادکی جان لی لیکن نوازشریف نے ایک لفظ تک نہیںبولا ۔تجزیہ کار زاہد حسین نے کہاکہ ای او بی آئی کے معاملے پرتحقیقات ہورہی ہیں،سپریم کورٹ کو چاہیے تھا کہ تحقیقات کو مکمل ہونے دیاجاتا،سپریم کورٹ کی طرف سے ہر معاملے میں دخل اندازی سے معاملات خراب بھی ہوسکتے ہیں،ای اوبی آئی کے جو حالات سامنے آئے ہیں ان سے لگتاہے کہ کہیں نہ کہیں گڑبڑضرور ہے اور اس کی چھان بین ہونی چاہیے،میں سمجھتا ہوں کہ اے پی سی کا مقصد تبھی پورا ہوگا جب حکومت کے پاس کوئی واضح پالیسی موجود ہو۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔