بزنس کی دنیا کے سب سے بڑے مفکر کرسٹنسن کی نظر میں زندگی میں کیا اہم ہے؟

عاطف مرزا  اتوار 21 جولائ 2013
کامیاب کیرئیر اور بھرپور زندگی گزارنے کے لئے بزنس کی دنیا کے سب سے بڑے مفکر کرسٹنسن کے خیالات کا تعارف۔ فوٹو: فائل

کامیاب کیرئیر اور بھرپور زندگی گزارنے کے لئے بزنس کی دنیا کے سب سے بڑے مفکر کرسٹنسن کے خیالات کا تعارف۔ فوٹو: فائل

کلیٹن کرسٹنسن (Clayton Christensen) ہاروڈ بزنس سکول کا پروفیسر ہے۔ اسے مینجمنٹ کے مفکرین کی عالمی درجہ بندی ” Thinkers 50″ میں دنیا کا سب سے موثر دانشور تسلیم کیا گیاہے۔

اسے جدت اور گروتھ کے حوالے سے دنیا کے صف اول کے ماہرین میں شمار کیا جاتا ہے۔ اسے ڈاکٹریٹ کی 5 اعزازی ڈگریاں بھی مل چکی ہیں۔ دنیا کی کئی بڑی کارپوریشنوں کے ایگزیکٹوز ان کے مشوروں سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ وہ اپنی پراڈکٹس اور سروسز میں جدت پسندی لاتے ہوئے ہر سال کئی ملین ڈالرکا منافع حاصل کر رہے ہیں۔ کرسٹنسن7کتابوں کا مصنف اور4 کمپنیوں کا بانی ہے۔ اس کی سب سے معروف کتاب Innovator’s dilemma جدت کے موضوع پر لکھی گئی ہے۔ اسے اکانومسٹ میگزین نے بزنس پہ آج تک لکھی جانے والی 5 بہترین کتابوں میں شامل کیا ہے۔ اپنی کتاب Innovative University میں اس نے اس سوال کا جواب تلاش کیا ہے کہ کالجوں کی تعلیم کو کیسے بہتر بنایا جائے۔ کتاب Disrupting Class اس نے اس موضوع پر لکھی ہے کہ سکول کیوں ناکام ہوتے ہیں اور اس کا حل کیا ہے؟ کتاب Innovator’s Prescription میں اس نے تجاویز پیش کی ہیں کہ امریکا کا ہیلتھ کیئر کا نظام کیسے بہتر ہو سکتا ہے؟ وہ “Innosight” انسٹیٹوٹ کا بانی بھی ہے۔ یہ تھنک ٹینک غیر منافع بخش ادارہ ہے جو ہیلتھ کیئر اور تعلیم جیسے سماجی مسائل پر کام کرتا ہے۔

آپ بہت سے ایسے اساتذہ سے واقف ہوں گے جو اپنے اپنے مضامین کے ماہر سمجھے جاتے ہیں لیکن وہ اساتذہ جو اپنے مضمون کے ساتھ ساتھ طلبہ کو کامیاب اور بھرپور زندگی گزارنے کا فن بھی سکھانا جانتے ہوں ایسے بہت کم پائے جاتے ہیں۔ ہاروڈ بزنس سکول کے پروفیسر کرسٹنسن کا شمار بھی ایسے ہی اساتذہ میں ہوتا ہے۔ مینجمنٹ کے مفکرین کی عالمی درجہ بندی  ’’Thinkers 50‘‘ کی طرف سے اسے بزنس کی دنیا کا سب سے موثر مفکر قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعزاز مینجمنٹ کی دنیا کا آسکر سمجھا جاتا ہے۔ کرسٹنسن پورے سمسٹرمیں اپنے طالب علموں کو مینجمنٹ کی بہترین تعلیم دیتا ہے۔ کمپنیاں کیسے مشکلات سے نکلتی ہیں، کیسے ترقی کرتی ہیں اور ان کے کام میں کیسے جدت آ سکتی ہے؟ وہ ان سوالوں پر بات کرتا ہے۔ لیکن کلاس کے آخری دن وہ طالب علموں سے کہتا ہے جو نظریات ہم پورے سمسٹر میں کمپنیوں اور بزنس کی دنیا پر اپلائی کرتے رہے ہیں وہ ہم اپنے اوپر اپلائی کریں گے۔ وہ طالب علموں سے کہتا ہے کہ وہ 3 سوالوں پر غور کریں کہ وہ اپنے سارے کیرئیر میں کیسے خوش رہ سکتے ہیں، اپنے خاندان، بیوی،اور بچوں سے ان کے تعلقات کیسے خوشگوار رہ سکتے ہیں؟ اور وہ کیسے پوری زندگی ایمانداری پر قائم رہ سکتے ہیں؟۔ 2010ء میں اسے ہاروڈیونیورسٹی میں ڈگریاں تقسیم کرنے کی تقریب میں طالب علموں سے خطاب کی دعوت دی گئی تو اس نے اپنے سمسٹر کے آخری لیکچر ہی کو اپنا موضوع بنایا۔ یہ بہت مقبول ثابت ہوا تو اس کی ویڈیو، آرٹیکل کی شکل میں سامنے آئی۔ اسے ہاروڈ بزنس ریویو کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے مضامین میں شمار کیا گیا۔

تعلیم کیوں حاصل کی جائے؟ کرسٹنسن نے نوجوانی کے دنوں میں اس حوالے سے ایک اہم فیصلہ کیا کہ وہ جس حد تک ممکن ہو سکے گا بہترین تعلیم حاصل کرے گا۔ یہ بات اس کی ماں نے اسے سکھائی تھی۔ اس کی ماں نے اسے بتایا تھا کہ ہم انسان کُمھار کے ہاتھوں میں موجود گیلی مٹی کی طرح ہوتے ہیں، ہم جتنا زیادہ سیکھتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں خدا اتنی ہی زیادہ کارآمد شکلوں میں ہمیں ڈھالتا ہے۔ یونیورسٹی کے پہلے سال جب اس کے ہاتھ میں مضامین کی فہرست (Catalogue) آئی تو وہ ہر مضمون کا تعارف دلچسپی سے پڑھ رہا تھا۔ اس وقت اس کی کیفیت اس بچے کی سی تھی جو بڑے سٹور میں ہو اور ہر میٹھی چیز کو للچائی نظروں سے دیکھ رہا ہو۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ سارے مضامین پڑھ لے۔ اس نے پہلے سال کے لیے جغرافیہ اور تاریخ جیسے مضامین منتخب کیے، اسے یہ تمام مضامین بہت پسند تھے۔ کیونکہ اس کے سامنے تعلیم حاصل کرنے کا ایک بڑا مقصد تھا۔ کرسٹنسن کے خیال میں آرٹس، تاریخ، ادب، سائنس مینجمنٹ سارے مضامین اس بڑے مقصد میں اس کے لیے مددگار ثابت ہوئے۔

یہ بڑا مقصد ذاتی نہیں تھا بلکہ دوسروں کے لیے کچھ اچھا کرناتھا۔ وہ کبھی اونچے عہدے کے پیچھے نہیں بھاگا تھا لیکن وہ اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں یہ ضرور چاہتا تھا کہ وہ لوگوں کے لیے زیادہ سے زیادہ فائدہ مند بن سکے۔ کئی برس قبل صبح آفس جاتے ہوئے اس کے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اسے ترقی ملنے والی ہے۔ آفس پہنچنے پر اس کے باس نے اسے بتایا کہ وہ ترقی کر کے کسی اور عہدے پر جا رہا ہے۔ کرسٹنسن کو ایسا محسوس ہوا کہ صبح اس کے ذہن میں آنے والا خیال بہت جلد سچ ثابت ہونے والا ہے اور وہ اپنے باس کا عہدے سنبھالنے والا ہے۔ کچھ دیر بعد اسے پتا چلا کہ کسی اور شخص کو ترقی دے دی گئی ہے۔ اس کے اگلے دو ماہ پریشانی اور اضطراب میں گزرے۔ وہ اپنی قابلیت اور صلاحیت کو مشکوک نظروں سے دیکھتا رہا۔

سوچ بچار کے لمبے عرصے کے بعد وہ اس نتیجے پہ پہنچا کہ انسانی ذہن محدود ہوتا ہے اور اس کے فیصلے بھی اس حقیقت کے مطابق ہوتے ہیں جب کہ خدا لا محدود ہے۔ کسی انسان کی کامیابی کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے وہ یہ دیکھتا ہے کہ اس نے کتنے لوگوں کی زندگی بہتر بنانے کی کوشش کی۔ انسان اپنی کامیابی اسے سمجھتا ہے کہ وہ کتنے لوگوں کا سربراہ رہا یا وہ اپنے شعبے کے کتنے بڑے عہدے تک پہنچ سکا۔ کرسٹنسن سمجھ چکا تھا کہ جب اس کا سامنا اپنے خدا سے ہو گا تو اس سوال کا سرے سے کوئی ذکر نہ ہو گا کہ وہ ہاروڈ کا پرورفیسر تھا یا نہیں بلکہ اس سے پوچھا جائے گا کہ تمھیں یہ صلاحیت دی گئی تھی تم نے اس سے کتنے لوگوں کی زندگی بہتر بنائی؟ کتنے لوگوں کی خود توقیری (Self esteem) کو مضبوط کیا۔کتنے لوگ ایسے ہیں جن کی صلاحیتوں کو تم نے نکھارا۔ کتنے لوگ ایسے ہیں جن کی تکلیفوں کو تم نے دور کیا؟۔

پہلا سوال کہ سارے کیرئر میں کیسے خوش رہا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب وہ عظیم ماہر نفسیات فریڈرک ہرزبرگ (Frederick Herzberg) کی تعلیم میں ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہے جس کا کہنا ہے کہ جب دولت کمانا ہی واحد مقصد ہو تو زندگی میں خوشی اور اطمینان ملنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ہم اس وقت خوش ہوتے ہیں جب ہمیں سیکھنے کے مواقع ملیں ہمارے پاس ذمہ داریاں ہوں، ہم دوسروں کی زندگی میں مثبت تبدیلی لا سکیں اور ہمیں کامیابیوں کے لیے سراہا جا رہا ہو۔ کرسٹنسن کے خیال میں یونیورسٹی کے زمانے میں طالب علموں کو اپنی زندگی کے مقصد کے بارے میں واضح ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس کے بعد زندگی کی مصروفیات بڑھنے لگتی ہیں۔ خود اس کے نزدیک زندگی میں ایک واضح مقصد کا ہونا بہت اہم حقیقت رہا ہے لیکن وہ اس حقیقت سے کیسے واقف ہوا؟ اس کے لیے اُسے طویل عرصہ تک سوچنا پڑا۔ جب وہ آکسفورڈ میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو اسے پڑھائی کے ایک سخت مرحلے کا سامنا تھا۔وہ ہر روز ایک گھنٹہ پڑھنے، سوچنے اور خدا سے دعا مانگنے میں گزارتا کہ خدا نے اُسے دنیا میں کیوں بھیجا ہے۔

اس معمول پر عمل کرنا اس کے لیے بہت مشکل تھا کیونکہ وہ 2 سال کی پڑھائی ایک سال میں مکمل کر رہا تھا۔ لیکن اپنے وقت میں سے ایک گھنٹہ نکالنے کے معمول سے اُس نے اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھ لیا۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر وہ یہ گھنٹہ بھی اپنے مضمون کو سمجھنے میں صرف کرتا تو اس کی زندگی برباد ہو گئی ہوتی۔ اس مضمون کے اصول وہ سال میں چند بار استعمال کرتا ہے لیکن زندگی کا مقصد کیا ہے؟ زندگی میں کیا اہم ہے؟ اس سوال کا سامنا اسے ہر روز کرنا ہے۔ جب وہ کینسر کی بیماری سے لڑ رہا تھا تو ایک دفعہ پھر وہ اس سوال پر سوچ رہا تھا کہ خدا کے نزدیک کامیابی کیا ہے؟ اس کی تحقیق سے کمپنیوں نے بے شمار دولت کمائی لیکن وہ جانتا تھا کہ کامیابی کا معیار ڈالر نہیں بلکہ یہ ہے کہ اس کی وجہ سے کتنے لوگ بہتر زندگی گزارنے کے قابل ہوئے ہیں۔ اپنے طالب علموں سے بھی وہ یہی کہتا ہے کہ اس معیار کے حوالے سے ضرور سوچیں اور ہر دن اس حقیقت کو سامنے رکھتے ہوئے بھرپور انداز میں گزاریں تا کہ ان کی زندگی کو کامیاب سمجھا جائے۔ وہ ہر روز خدا سے مدد مانگتا ہے کہ وہ کوئی ایسا شخص تلاش کر سکے جس کی زندگی وہ آسان بنا سکے یا جسے بہتر انسان بننے میں مدد دے سکے۔

وقت، توانائی، ٹیلنٹ کے استعمال کے بارے میں فیصلے

ہم اکثر اس حقیقت سے غافل ہو جاتے ہیں کہ انسانوں سے تعلقات اچھے بنانے کے لیے ایک طویل سرمایہ کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کو روزانہ کی بنیاد پر ان پر توجہ دینی ہوتی ہے۔ جس کے نتائج ایک عرصے کے بعد آپ کے سامنے آتے ہیں۔20 سال بعد آپ کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے ایک اچھے بیٹے یابیٹی کی پرورش کی۔ کتاب ’’آپ اپنی زندگی کیسے جانچ سکتے ہیں‘‘لکھنے کی ایک وجہ اس کی یہ سوچ بھی تھی کہ اس کے ہارورڈ اور آکسفورڈ کے ہم جماعت اپنی کامیابیوں کے باوجود ناخوش ہیں وہ پیشہ ورانہ زندگی میں ترقی کر رہے ہیں لیکن ذاتی زندگیوں میں وہ غیر مطمئن ہیں۔ ان کے اپنے والدین، بیوی، بچوں سے تعلقات اچھے نہیں۔ یہ ہم جماعت شرمندگی سے بچنے کے لیے یونیورسٹی کی تقریبات میں حصہ بھی نہیں لیتے۔ بعض ہم جماعت مالیاتی بددیانتی کا مظاہرہ بھی کر رہے ہیں۔ جو لوگ پیشہ ورانہ زندگی میں تیزی سے ترقی کر رہے ہوتے ہیں وہ فوری ملنے والی کامیابیوں کے عادی ہو جاتے ہیں۔ وہ انسانی تعلقات کو روزانہ کی بنیاد پر مضبوط کرنے سے غافل ہو جاتے ہیں۔ ہمارے اپنے وقت، توانائی اور ٹیلنٹ کے بارے میں فیصلے بہت اہم ہوتے ہیں۔ ہمیں اپنے والدین، بیوی، بچوں اپنی کمیونٹی اپنے کیرئر سب چیزوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے۔ لیکن ہمارے پاس وقت ، توانائی اور ٹیلنٹ محدود ہوتا ہے۔

پاور ٹولز کا استعمال

کرسٹنسن کے مینجمنٹ کے نظریات میں سے ایک نظریہ بچوں کی تربیت کے حوالے سے بہت کارآمد ہے۔ اس کے مطابق ایک منیجر کا Visionary ہونا یعنی مستقبل میں دیکھنے کے قابل ہونابہت اہم ہے۔ اس سے وہ راستہ متعین کرتا ہے کہ کمپنی ترقی کے لیے کس سمت میں چلے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اہم Managerial skill لوگوں کو اس سمت میں کام کرنے کے لیے آمادہ کرنا ہے۔ اس تعاون کے لیے بعض اوقات سختیوں (Co-ercion) دھمکیوں (Threats) اور سزائوں سے کام لیا جاتا ہے۔ انھیں Power Tools کہا جاتا ہے۔  والدین بھی بچوں سے تعاون کرنے کے لیے انہی Power Tolls کو استعمال کرنا آسان سمجھتے ہیں لیکن جب بچے بڑے ہو جاتے ہیں تو یہ سب حربے ناکام ہو جاتے ہیں۔ اس موقع پر والدین سوچتے ہیں کہ کاش انھوں نے گھر میں شروع سے ایسا کلچر اپنایا ہوتا کہ بچے کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ عزت اور احترام سے پیش آنا، والدین کی عزت کرنا، صحیح چیزوں کا انتخاب کرنے کی باتیں ایک غیر شعوری عمل کی طرح آسان ہوتیں۔

سوفیصد عمل

مینجمنٹ کی تعلیم سے اس نے زندگی کے ایک اہم اصول یہ بھی سیکھا کہ اپنے بنائے ہوئے ضابطوں کو کبھی نہ توڑا جائے۔ بعض اوقات ہم خود کو قائل کرتے ہیں کہ ان سنگین حالات میں اگر ایک بار اس ضابطے کو توڑ لیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ زندگی میں اس طرح کے حالات بے شمار دفعہ آتے ہیں اگر ہم ایک دفعہ یہ ضابطہ توڑ دیں توہمیشہ توڑتے ہی رہیں گے۔ کسی اصول پر سو فیصد عمل کرنا آسان ہوتا ہے۔ جب کہ98 فیصد عمل کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔

انکساری کا رویہ

ہارورڈ کالج میں انکساری کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اس نے اپنے طالب علموں کے سامنے یہ سوال رکھا کہ انھوں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ منکسر کسے پایا؟ طالب علموں نے ایک خوبی پہ اتفاق کیا جو سب منکسر لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ تمام منکسر لوگ پُر اعتماد ہوتے ہیں اور اپنی ذات کے بارے میں اچھی رائے (Self esteem) رکھتے ہیں۔ کرسٹنسن کے خیال میں اس خوبی کا یہ بھی مطلب ہے کہ منکسر لوگ دوسرے لوگوں کا احترام بھی کرتے ہیں۔ ہم میں انکساری کی خوبی اس وقت آتی ہے جب ہم اپنی قدر و قیمت سے واقف ہوں۔

صحیح سوال اٹھانا

اگر ہم اپنے سامنے صحیح سوال رکھیں تومسئلہ کا حل نکلنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بات انفرادی سطح کے ساتھ ساتھ قومی سطح پر بھی درست ہے۔اس اصول کو کرسٹنسن امریکی عالمی پالیسیوں کی بات کرتے ہوئے واضح کرتا ہے کہ امریکا، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک کے ساتھ ISOLATION کی پالیسی پر عمل کر رہا ہے۔ امریکا ان ممالک کے ساتھ سفارتی اور تجارتی تعلقات نہیں رکھتا اور وہ اپنے اتحادی ممالک پہ بھی زور دیتا ہے کہ وہ ان ممالک سے تعلقات نہ رکھیں تا کہ ان ممالک کی حکومتوں کو دبائو میں لایا جا سکے۔ کرسٹنسن کے خیال میں امریکا کے سامنے یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ ان مخالف حکومتوں کو کیسے تنہا کیا جائے بلکہ اسے خود سے یہ سوال کرنا چاہیے کہ ان ممالک کے لاکھوں لوگوں کی کیسے مدد کی جائے کہ وہ اچھی حکومت، اوپن مارکیٹ اور تعلیم کے ذریعے زیادہ سے زیادہ خوشحال ہو سکیں۔

سیکھنے کا عمل جاری رکھیں

مینجمنٹ کے اس عظیم مفکر کے خیال میں موجودہ دور میں کامیابی اور ترقی کے لئے سب سے اہم مہارت ہر وقت سیکھنے کا عمل جاری رکھنا ہے۔ یونیورسٹی کی زندگی تک طالب علم کا ذہن یہ بنا ہوتا ہے کہ صرف سمارٹ لوگوں سے ہی سیکھا جا سکتا ہے۔ اپنی زندگی میں انھوں نے والدین سے، استاد سے یا باس سے ہی سیکھا ہوتا ہے۔ لیکن یونیورسٹی سے نکلنے کے بعد انھیں ایسے لوگوں سے بھی روزانہ واسطہ پڑتا ہے جو اتنے سمارٹ نہیں ہوتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔