پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہوگیا

زمرد نقوی  اتوار 21 جولائ 2013

جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ملالہ یوسف زئی کی سالگرہ پر اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون اور سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن برائون سمیت دنیا کی اہم شخصیات نے  اسے خراج تحسین پیش کیا۔ حقیقت میں یہ خراج تحسین صرف ملالہ کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کے لیے تھا جس کا چہرہ دہشت گردوں کے ہاتھوں لگے زخموں سے داغدار ہے۔ ایک طویل کے مدت بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی جیسے عالمی پلیٹ فارم سے جہاں دنیا کے80 ملکوں کی نمایندگی ہو رہی تھی، پاکستان کی تعریف و تحسین ہوئی جس نے ہر پاکستانی کا خصوصاً  غیر ممالک میں مقیم پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ ورنہ صورتحال یہ ہے کہ پاکستان یا پاکستان سے باہر دہشت گردی کی جب بھی کوئی واردات ہوتی تھی،پاکستانی تارکین وطن کا وہاں کے مقامی لوگوں سے آنکھ ملانا تک محال ہوجاتا۔

مقامی لوگوں کی طنزیہ باتیں ان کا جینا حرام کر دیتی ہیں۔ ان کے بچوں کے کلاس فیلوز ان کی طرف اشارہ کر کے دوسرے بچوں کو بتاتے ہیں کہ یہ دہشت گرد ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ لیکن دہشت گردوں کو اس بات کی کیا پروا بلکہ وہ تو  چاہتے ہی یہی ہیں کہ یہ سارے پاکستانی اور دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے مسلمان اپنے اپنے ملکوں کو ڈی پورٹ ہوجائیں ۔ ملالہ کی کردار کشی اور اس پر سب و شتم کرنے والوں کو پتہ ہونا چاہیے کہ اس نے اپنی تقریر کا آغاز بسم اللہ سے کیا۔ شلوار قمیض اور اسکارف میں ملبوس کم سن ملالہ نے بڑے اعتماد اور وقار سے اس جگہ پر تقریر کی جہاں بڑے بڑے عالمی رہنما خطاب کر چکے ہیں۔

اس کی تقریر میں رواداری چھلک رہی تھی جو اسلامی تعلیمات کی اساس ہے، جب اس نے یہ کہا کہ میں دنیا میں امن، علم، عدم تشدد اور برداشت کی تعلیمات پر یقین رکھتی ہوں جس کا سبق پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفی ؐ نے دیا تھا۔ ملالہ کا کہنا تھا کہ قلم اور کتاب دنیا کے سب سے طاقتور ہتھیارہیں۔ ایک طالب علم، ایک استاد ، ایک قلم اور ایک کتاب دنیا بدل سکتے ہیں۔ دہشت گرد قلم کی طاقت سے ڈرتے ہیں۔ عورت کی آواز کی طاقت سے ڈرتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے کوئٹہ میں 14 معصوم طالبات کو مار ڈالا۔ اسی لیے انھوں نے خیبر پختونخوا اور فاٹا میں خواتین اور اساتذہ اور پولیو ورکرز کو ہلاک کیا۔ اسی لیے وہ ہر روز اسکول جلا رہے ہیں۔ اپنی تقریر میں ملالہ نے یہ بھی کہا کہ مجھے فخر ہے کہ جو شال میں نے اوڑھی ہوئی ہے وہ محترمہ بینظیر بھٹو کی ہے۔ جو طالبان کی دہشت گردی کا شکار ہوئیں۔ اس موقعہ پر ہال تالیوں سے گونج اٹھا وہاں بیٹھے طالب علم ہم آواز ہو کر نعرے لگانے لگے کہ ہم سب ملالہ ہیں۔

ملالہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ملالہ ڈے صرف میرا دن نہیں بلکہ ہر اس لڑکے اور لڑکی کا دن ہے جس نے اپنی آواز اپنے حقوق کے لیے اٹھائی اور میں ان کی آواز ہوں۔ طالبان کا خیال تھا کہ ان کی گولی ہمیں خاموش کر دے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس گولی سے کمزوری اور ناامیدی مر گئی اور طاقت و حوصلے کو نئی زندگی ملی۔ میں وہی ملالہ ہوں۔ میرے عزائم امیدیں حوصلے وہی ہیں۔ اگر مجھ پر گولی چلانے والا میرے سامنے آ جائے تو میں اس پر گولی نہیں چلائوں گی۔ یہ فقرہ دہشت گردوں کے لیے شرم کا مقام ہے۔ جب ملالہ جنرل اسمبلی کے ہال میں داخل ہوئی تو وہاں موجود اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن برائون اور دنیا بھر سے آئے ہوئے بچوں نے کھڑے ہو کر اور تالیاں بجا کر استقبال کیا۔ اس موقعہ پر ہال میں بیٹھی ملالہ کی ماں اور وہاں موجود دوسرے افراد کی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز تھیں۔

اگلے روز نیو یارک میں پاکستان کے اقوام متحدہ کے مشن میں ڈنر کے بعد تو متعدد ممالک کے سفیر، ان کی بیگمات، اقوام متحدہ کے حکام اور پاکستانیوں کی ایک لمبی لائن لگ گئی جو ملالہ سے ہاتھ ملانے اور تصویر کھنچوانے کے لیے بے چین تھے۔ اس موقعہ پر پاکستانی سفیر نے کہا کہ ملالہ پاکستان اور اسلام کا حقیقی چہرہ ہے۔ تازہ ترین دو خبریں بلا تبصرہ ملالہ کے حوالے سے۔ ایک امریکی آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ساز نے ملالہ پر ڈاکو منٹری فلم بنانے کا اعلان کیا ہے جو اگلے سال مارکیٹ میں آ جائے گی۔ دوسری خبر طالبان نے کہا ہے کہ ملالہ پاکستان آئی تو اسے پھر نشانہ بنایا جائے گا۔

ملالہ دہشت گردوں کی دکھتی رگ بن چکی ہے۔ جب بھی ملالہ کا ذکر آتا ہے دہشت گردوں کے ہمدرد حمایتی ایسے پریشان ہوتے ہیں جیسے آسمان زمین پر گر پڑا ہو۔ سوشل میڈیا میں ان لوگوں نے ایک بھرپور مہم چلائی کہ ملالہ پر حملے جیسا کوئی واقعہ سرے سے ہوا ہی نہیں۔ یہ سب ڈرامہ ہے تو پھر یہ اعلان کیا ہے کہ ملالہ اگر دوبارہ واپس آئی تو اسے پھر نشانہ بنایا جائے گا۔ جہاں تک ملالہ کے بیرون ملک جانے کا سوال ہے سیکیورٹی رسک کی بنا پر اسے پشاور سے اسلام آباد منتقل کیا گیا۔ اسلام آباد میں بھی اس کی جان کو شدید خطرہ تھا چنانچہ اسے بیرون ملک منتقل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔ جس ملک میں دہشت گردوں اور ان کے ہمدردوں سے جی ایچ کیو، نیول ہیڈ کوارٹر، کامرہ اور دوسری بے شمار حساس جگہیں محفوظ نہ ہوں وہاں اپنی زندگی بچانے کے لیے ملالہ بیرون ملک منتقل نہ ہوتی تو کیا کرتی۔

اب دہشت گرد بھی کف افسوس مل رہے ہیں کہ  کس طرح وہ ان کے خونی شکنجے سے نکل گئی۔ دوسری اہم بات جس پر تمام پاکستانیوں کو غور و فکر کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہم تبھی دہشت گردی کے اصل ’’ماخذ‘‘ تک پہنچ سکتے ہیں کہ دنیا کے تمام چینلز نے ملالہ کی تقریر براہ راست نشر کی سوائے پاکستان کے۔ وہ ملالہ جو پاکستان کی بیٹی اور اسلام کا حقیقی چہرہ ہے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کر کے پاکستان پر لگے دہشت گردی کے داغ مٹا رہی ہے، اس کی تقریر کا ’’بائیکاٹ‘‘ کیوں کیا گیا… اور تو اور ہماری وفاقی حکومت بھی کچھ نہ کر سکی۔ یہاں تک کہ ملالہ کا جس صوبے سے تعلق ہے یعنی خیبر پختونخوا،  اس کی حکومت بھی خاموش رہی…  عمران خان کو اس حوالے سے ضرور سوچنا چاہیے۔

ملالہ کی تقریر کے بائیکاٹ سے کیا ثابت ہوتا ہے… یہی نا کہ پاکستان میں دہشت گرد اور ان کے حمایتی کتنے طاقتور ہیں… کیا اس کے بعد بھی ہم کسی بہتری کی امید رکھ سکتے ہیں… آپ بھی سوچیے… رہے نام اللہ کا۔

پچھلے سال 9 اکتوبر کو ملالہ پر قاتلانہ حملے کے بعد اس کی صحت یابی کے حوالے سے میں نے جو تاریخیں اور مہینے دیے تھے، اللہ کے کرم سے وہ صحیح ثابت ہوئیں اور اس حوالے سے بے شمار پاکستانی رابطے میں رہے، وہ بھی بہت خوش ہوں گے۔

ستمبر اکتوبر میں ملالہ کے حوالے سے اور بھی اچھی چیزیں سامنے آئیں گی لیکن یہ یاد رہے کہ ملالہ برطانیہ میں ہونے کے باوجود پوری طرح محفوظ نہیں۔ یعنی دہشت گردوں کی پہنچ سے دور نہیں کیونکہ وہاں بھی بہت سے انتہا پسند پائے جاتے ہیں جو بات نکتے کی ہے ، وہ یہ ہے کہ جیسے ملالہ کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جائے گا ویسے تمام دنیا کے لوگوں میں دہشت گردوں کے خلاف نفرت بھی بڑھتی چلی جائے گی اور اسی تناسب سے ملالہ کی زندگی کو لاحق خطرہ بھی بڑھتا چلا جائے گا۔

سیل فون: 0346-4527997

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔