مصر میں جمہوری حکومت پر شب خون…

عابد محمود عزام  اتوار 21 جولائ 2013

منتخب جمہوری حکومت کی بساط لپیٹنے کے بعد سے مصر کے حالات کچھ اچھے نہیں ہیں۔ معزول صدر مرسی کے حامیوں اور مخالفین میں نفرتیںمزید بڑھ رہی ہیں۔ مصرمظاہروں اور نعروں کی لپیٹ میں ہے۔ الاخوان المسلمون کے متعدد رہنمائوں کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور کئیوں کے وارنٹ جاری کیے جاچکے ہیں۔ اگرچہ مصر میں عبوری کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔ اس کے باوجود مرسی کے حامی مسلسل مرسی کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں اور وہ اپنے مطالبے سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

اخوان نے مصر کی عبوری حکومت کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’یہ غیر قانونی حکومت ہے۔ ہم اس غیر قانونی کابینہ اور غیر قانونی وزیراعظم کو تسلیم نہیں کرتے ہیں۔ ‘‘ فوج اور اخوانی دھیرے دھیرے تشدد کا راستہ اختیار کرنے کی جانب گامزن ہیں۔ مرسی کی معزولی کے بعد سے جھڑپوں میں سو سے زائد افراد جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور سیکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ مصری فوج، عبوری حکومت اور امریکا سمیت کئی ممالک مصرکے معاملات کو سلجھانے کی اپنی سی کوششوں میں مصروف ہیں، لیکن ناکامی کا منہ دیکھنا پڑرہا ہے۔ خطرہ ہے کہ اگر کچھ روز میں حالات نہ سدھرے تو مصر خانہ جنگی سے دو چار ہوسکتاہے اور اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ مصر میں لگی آگ سرحد عبور کرکے مشرقی وسطیٰ میں انقلاب کی لہر کی مانند دوسرے اسلامی ممالک تک جاپہنچے۔

جنرل عبدالفتاح السیسی نے مصر میں نوزائیدہ منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر اچھا نہیں کیا۔ اس کے عمل سے اسلامی ممالک میں بہت سے اسلام پسندوںکا جمہوریت سے اعتماد اٹھ گیا ہے اور اب اسلامی ممالک کی اسلامی جماعتوں کے کارکنان باآسانی جہادیوں کے ساتھ مسلح جدوجہد میں شریک ہوسکتے ہیں۔ دنیا بھر میں جہادی عناصر روزاول سے اسلام پسندوں کو یہ کہہ کر برانگیختہ کرتے آئے ہیںکہ جمہوریت کے ذریعے اسلامی حکومت کا قیام ممکن نہیں ہے، کیونکہ اسلام دشمن عناصر کبھی بھی اسلام پسندوں کو ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرسکتے۔ لہٰذا اسلامی حکومت کا قیام مسلح جدوجہد سے ہی ہوسکتا ہے۔ لیکن عالم اسلام کی تحریکیں و جماعتیں اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلح جدوجہد سے دامن بچاتی رہی ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ جب پرامن راستہ موجود ہے تو مسلح جدوجہد اور تشدد کا راستہ کیوں اختیار کریں؟ خود الاخوان المسلمین ریاستی ظلم وجبر کے باوجود ہمیشہ عدم تشدد کی پالیسی پر گامزن رہی ہے۔

دنیا جانتی ہے کہ القاعدہ کے بہت سے جنگجوئوں نے جمہوری نظام سے مایوس ہوکر اپنے مقصد کے حصول کے لیے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ اخوان سیاسی جدوجہد کے ذریعے مصر میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے کوشاں تھی لیکن جب جمال عبدالناصر کے دور میں اخوان پر پابندی لگائی گئی تو اس پابندی نے بہت سے پرامن اخوانیوں کو مصر میں حکومت کی تبدیلی کے لیے سیاسی جدوجہد کی بجائے مسلح جدوجہد کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا اور بہت سے اخوانی پرتشدد القاعدہ کی شکل میں سامنے آئے۔ لیکن اخوان نے جمہوری طریقے سے اپنی سیاسی جدوجہد جاری رکھی۔ اخوان نے کئی بار انتخابی عمل کا حصہ بننے کی کوشش کی، حکمرانوں نے مختلف حیلے بہانوں سے اخوان کو انتخابی عمل سے دور رکھا۔

فوجی آمر حسنی مبارک کے اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد عام انتخابات کا اعلان ہوا تو عوامی جوش وجذبے کے پیش نظر اخوان کو انتخابی دوڑ سے باہر رکھنا ممکن نہیں تھا۔ انتخابات ہوئے تو حسب توقع اخوان نے میدان مار لیا اور اخوان کے امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی مصر کے صدر منتخب ہوگئے لیکن صرف ایک سال کے بعد ہی فوجی آمر نے ان کی منتخب جمہوری حکومت کو ملیامیٹ کردیا۔ مصری فوج کے اس عمل سے دنیا بھر کے اسلام پسندوں کو شدید دھچکا لگا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مصری منتخب حکومت کو اس وجہ سے ختم نہیں کیا گیا کہ مرسی حکومت عوام کی توقعات پر پورا نہیں اتر سکی بلکہ حکومت کو اسلام پسند ہونے کی سزا دی گئی ہے۔ ورنہ جمہوریت میں تو حکومت ووٹ کے ساتھ آتی ہے تو جاتی بھی ووٹ کے ساتھ ہے۔ کتنے ممالک ہیں جہاں حکومتیں پانچ سال میں بھی عوام کی توقعات پر پورا نہیں اترتیں، اس کے باوجود ان کی حکومت پر شب خون نہیں مارا جاتا۔

مرسی حکومت کا معاملہ باقی حکومتوں سے جدا ہے۔ اگر مصر میں اسلام پسندوں کی حکومت نہ ہوتی اور پھر منتخب جمہوری حکومت کا تختہ فوجی بغاوت کے ذریعے الٹ دیا جاتا تو صرف اتنا کہا جاتا کہ آمریت نے جمہوریت کو شکست دے دی ہے لیکن یہاں معاملہ جمہوریت اور آمریت کا نہیں بلکہ اسلام پسندوں اور جمہوریت کا ہے۔ اسلام پسند پاکستان، ترکی، سوڈان، لیبیا، صومالیہ، تیونس، الجزائر، یمن، کویت، عراق، اردن، شام، بحرین، موریطانیہ اور انڈونیشیا سمیت کئی ممالک میں  جمہوری طریقے سے حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔ مرسی حکومت کے خاتمے سے تو وہ یہی سمجھیں گے کہ اگر ہم بھی جمہوری طریقے سے اقتدار حاصل کرلیتے ہیں تو ہمیں بھی حکومت نہیں کرنے دی جائے گی۔ جب الاخوان المسلمون جس نے مصر کی قومی اسمبلی کے انتخابات میں70 فیصد نشستوں پر کامیابی حاصل کی، سینیٹ کے انتخابات میں84 فیصد نشستوں پر فتح حاصل کی اور صدارتی انتخابات میں52 فیصد ووٹوں سے اکثریت اور آئینی مسودے کے حق میں 64 فیصد ووٹ حاصل کیے ان کو حکومت نہیں کرنے دی گئی تو ہمیں کیونکر حکومت کرنے دی جائے گی؟

مصری فوج نے اسلام پسندوں کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر جہادیوں کے اس موقف کو سچا ثابت کردیا کہ جمہوریت کے ذریعہ تبدیلی نہیں لائی جاسکتی۔ اسلام پسندوں کو عسکریت کی جانب مائل کرنے کے حوالے سے صومالیہ کے جنگجو گروپ الشباب کا بیان کافی اہمیت رکھتا ہے۔ مصر میں فوجی بغاوت کے دوسرے روز ہی صومالیہ کے جنگجو گروپ الشباب نے اپنے بیان میں کہا:’’مصر میں رونما ہونے والے واقعات سے ظاہر ہے کہ اقتدار جمہوریت سے نہیں بلکہ طاقت سے حاصل ہوتا ہے۔ اسلام پسند اگر منتخب بھی ہوں تو انھیں حکومت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ الاخوان المسلمین کو تاریخ سے تھوڑا بہت سیکھنے کی ضرورت ہے۔ ان سے قبل الجزائر میں (اسلام پسندوں) اور حماس کی منتخب حکومت کو چلتا کیا گیا تھا۔ الاخوان المسلمین کب خواب غفلت سے بیدار ہوگی اور اسے اپنی کوششوں کے بے سود ہونے کا ادراک ہوگا۔‘‘

جہادیوں کے اسی موقف کی وجہ سے اسلامی ممالک کے پرامن اسلام پسند عسکریت پسندی کی طرف مائل ہوسکتے ہیں۔ اگر اسلامی ممالک کے اسلام پسند پرامن راستہ چھوڑ کر عسکریت پسندی کی جانب مائل ہوجاتے ہیں تو ان کا مقابلہ کیسے کیا جاسکے گا، جب کہ اسلامی ممالک میں مسلح جدوجہد کرنے والوں کی تعداد کوئی کم نہیں ہے۔ اگر ان کی تعداد کم ہوتی تو ان کے خلاف جتنے اقدامات کیے جاچکے ہیں ان کو ختم ہوجانا چاہیے تھا لیکن لاکھ کوششوں کے باوجود بھی وہ حکومتوں کے لیے دردسر بنے ہوئے ہیں۔ اگر ان میں مزید اضافہ ہوجائے توکس قدر بڑی قیامت برپا کریں گے۔ جنرل السیسی نے صرف مصر ہی نہیں بلکہ تمام اسلامی ممالک کے اسلام پسندوں کو جہادیوں کے حوالے کردیا ہے، اب وہ اسلام پسندوں سے کوئی بھی قدم اٹھوا سکتے ہیں۔ پوری دنیا سے صرف ایک القاعدہ کا مقابلہ کرنا مشکل ہے اور اگر السیسی کے منتخب اسلامی جمہوری حکومت پر شب خون مارنے کی وجہ سے ہر اسلامی ملک میں نئی القاعدہ جنم لے لیتی ہے تو اس کا ذمے دار کون ہوگا؟

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔