سیاہ فام کے قاتل کی رہائی، امریکا کے 100 سے زائد شہروں میں مظاہرے

اے ایف پی / خبر ایجنسیاں  پير 22 جولائ 2013
سیاہ فام ٹریوون مارٹن کے قتل کے فیصلے کے خلاف نکالی گئی احتجاجی ریلی میں شریک افراد نعرے لگا رہے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز

سیاہ فام ٹریوون مارٹن کے قتل کے فیصلے کے خلاف نکالی گئی احتجاجی ریلی میں شریک افراد نعرے لگا رہے ہیں۔ فوٹو: رائٹرز

نیویارک: سیاہ فام نوجوان کی ہلاکت میں ملوث شخص کو بری کیے جانے کے خلاف امریکا میں 100سے زائد شہروں میں مظاہرے کیے گئے۔

امریکا میں سیاہ فام نوجوان ٹریوون مارٹن کے قاتل کوعدالت سے بری کیے جانے پر ملک کے عوام دو واضح حصوں میں بٹ گئے ہیں، مقتول کے آبائی شہر میامی میں سیکڑوں افراد نے ریلی نکالی جس میں ٹریوون مارٹن کے والد نے بھی شرکت کی اور کہا کہ وہ انصاف کیلیے ہر دروازہ کھٹکھائیں گے،17برس کے سیاہ فام ٹریوون مارٹن کو سفید فام جارج زمرمین نے مشتبہ شخص سمجھتے ہوئے سینے میں گولی مارکر قتل کردیا تھا، تاہم زمرمین کو پچھلے ہفتے فلوریڈرجیوری نے اسٹینڈیورگرائونڈ قانون کے تحت بری کردیاتھا۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی شخص اپنی زندگی بچانے کیلیے اس شخص کوقتل کرسکتاہے جس سے مزاحمت کاخدشہ بھی نظرآجائے۔

نیویارک میں بھی ہزاروں افراد نے مظاہرے میں شرکت کی، کیلیفورنیا میں جمع مظاہرین کاکہنا تھا کہ اس قانون ہی کوختم کرناہوگا۔ ریلی صدراوباما کی ریاست شکاگومیں بھی نکالی گئی۔ اس کے علاوہ سیٹل، پورٹ لینڈ، سان فرانسسکو، لاس اینجلس اور اوکلینڈ میں بھی مظاہرے ہوئے، خود صدراوباما بھی مقتول کو اپنے بیٹے جیسا قراردے چکے ہیں۔ امریکا میں بعض حلقوں کے  نزدیک ٹریوون مارٹن کا قتل نسلی منافرت کا اظہارتھا جبکہ دیگرکے نزدیک زمرمین نے اپنادفاع کیا۔ تاہم امریکا میں انسانی حقوق کے رہنما الشارپٹن نے توقع ظاہرکی ہے کہ ایسی ریلیوں کے نتیجے میں محکمہ انصاف قاتل جارج زمرمین کے خلاف سول رائٹس کامقدمہ چلانے پر مجبور ہو جائے گا۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ جارج زمرمین کے خلاف وفاقی فردِ جرم عائد کی جائے۔ مظاہروں کی قیادت معروف شہری حقوق کے کارکن ریوورنڈ ایل شارپٹن نے کی جبکہ کئی مشہور ہالی وڈ شخصیات بھی ان میں شامل تھیں۔ اتوار کو ملک بھر کے گرجا گھروں میں ٹریوون مارٹن کو یاد کیا گیا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔