بلوچستان کی مخلوط حکومت میں اختلافات کی افواہیں عروج پر

رضا الرحمٰن  بدھ 30 جنوری 2019
بعض سیاسی حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ جام کمال کو اپنی جماعت کے اندر دباؤ کا سامنا ہے۔ فوٹو: فائل

بعض سیاسی حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ جام کمال کو اپنی جماعت کے اندر دباؤ کا سامنا ہے۔ فوٹو: فائل

کوئٹہ:  بلوچستان اسمبلی کا متحدہ اپوزیشن کی درخواست پر بلایا گیا اجلاس اس لحاظ سے بھی ہنگامہ خیز ثابت ہو سکتا ہے کہ اس اجلاس میں متحدہ اپوزیشن بعض ایسے ایشوز کو اُٹھانے کا ارادہ رکھتی ہے جو اس کے خیال سے عوامی فلاح و بہبود کے منافی ہیں۔ متحدہ اپوزیشن نے اس اجلاس کیلئے بھرپور تیاری کر رکھی ہے اجلاس میں بعض اہم نوعیت کی تحاریک اور قراردادیں بھی پیش کی جائیں گی۔

متحدہ اپوزیشن نے بلوچستان اسمبلی کا یہ اجلاس ایسے وقت پر درخواست دے کر طلب کیا ہے جب بلوچستان کی مخلوط حکومت کے اندر بھی اختلافات کی باتیں زیر گردش ہیں۔ بعض سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ متحدہ اپوزیشن کا یہ دعویٰ ہے کہ مخلوط حکومت میں شامل بعض حکومتی ارکان ان کے رابطے میں ہیں شاید یہ حکومتی ارکان نالاں ہیں۔ وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے پارٹی کے پارلیمانی گروپ کو خوش کرنے کیلئے بیورو کریسی میں تقرر و تبادلے کی طرز پر وزراء کے محکموں میں ردوبدل کیا ہے اور شُنید میں آیا ہے کہ آئندہ چند روز میں مزید وزراء کے محکموں میں ردوبدل کیا جا رہا ہے۔

بعض سیاسی حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ جام کمال کو اپنی جماعت کے اندر دباؤ کا سامنا ہے یہی وجہ ہے کہ بعض اُن کے قریبی وزراء نے اپنے محکموں میں ردوبدل کرا لیا ہے جبکہ بعض ردوبدل کرانے کیلئے سرگرداں ہیں۔ بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ اور اسپیکر کے درمیان بھی خاموش’’سیاسی جنگ‘‘ اندرون خانہ چل رہی ہے جس کی تصدیق بعض سیاسی حلقوں نے بھی کی ہے۔

ان حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ جام کمال اور اسپیکر بلوچستان اسمبلی میر عبدالقدوس بزنجو کے درمیان پارٹی کی صدارت سے لے کر وزارت اعلیٰ کے انتخاب تک رسہ کشی رہی ہے ،کچھ عرصے تک خاموشی رہنے کے بعد ایک مرتبہ پھر دونوں ’’بڑوں‘‘ میں کچھ معاملات بگڑنے کی بازگشت سنائی دے رہی ہے اورحال ہی میں دونوں کے درمیان رابطے کے فقدان اور معاملات میں گڑبڑ کی تصدیق اس بات سے بھی ہوتی ہے کہ وزیراعلیٰ کی انسپکشن ٹیم اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کے حلقہ انتخاب میں ترقیاتی کاموں کی تحقیقات پر مامور ہوئی ہے۔

اس کے علاوہ میر عبدالقدوس بزنجو کی وزارت اعلیٰ کے دور میں منظور ہونے والی پی ایس ڈی پی میں بھی ردوبدل کیا گیا ہے خصوصاً ایسے پراجیکٹس جن کا تعلق میر عبدالقدوس بزنجو کے حلقہ انتخاب سے تھا انہیں بھی پی ایس ڈی پی سے نکالنے کی اطلاعات ہیں، اس کے علاوہ بعض سیاسی حلقوں کہنا ہے کہ گوادر میں نیب کے ذریعے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کا معاملہ اُٹھانا بھی اس رسہ کشی کی ایک کڑی ہے۔ ان سیاسی حلقوں کے مطابق وزیراعلیٰ اور اسپیکر جن کا ایک ہی جماعت سے تعلق ہے کے درمیان معاملات دن گزرنے کے ساتھ ساتھ تیزی سے خرابی کی طرف جا رہے ہیں جبکہ سینٹ کے چیئرمین محمد صادق سنجرانی نے کچھ عرصہ قبل وزیراعلیٰ جام کمال اور اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کے درمیان ثالثی بھی کرائی تھی۔

ان حلقوں کے مطابق اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کی بعض سیاسی سرگرمیوں خصوصاً بی این پی مینگل کے سربراہ سردار اختر جان مینگل سے ملاقات پر وزیراعلیٰ جام کمال جو کہ پارٹی کے سربراہ بھی ہیں نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا۔اب سیاسی حلقوں میں یہ بات بڑی تقویت پکڑتی جا رہی ہے کہ وزیراعلیٰ جام کمال کو انکے قریبی ساتھیوں نے یہ مشورہ دیا ہے کہ میر عبدالقدوس بزنجو کو اسپیکر شپ سے ہٹا کر یہ عہدہ میر جان محمد جمالی کو دیا جائے جو کہ پارٹی کے سینئر رکن ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق وزیراعلیٰ جام کمال کو اگر انکے بعض قریبی ساتھیوں نے ایسا کوئی مشورہ دیا ہے تو انہیں اپنی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوشش کرنی چاہیے کہ وہ معاملات کو بہتر بنائیں اور اپنی ہی پارٹی کے اسپیکر کے خلاف ایسا کوئی قدم اُٹھانے سے پہلے تمام صورتحال کا بغور جائزہ لیں کہ کہیں وہ سیاسی غلطی تو کرنے نہیں جا رہے اور اس بات کو بھی مدنظر رکھیں کہ انکے اور اسپیکر کے درمیان رسہ کشی اور مخالفت میں فائدہ یقیناً دوسروں کو پہنچے گا۔

بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ میر عبدالقدوس بزنجو کو اسپیکر شپ سے ہٹانے کی باتوں میں اس لئے بھی وزن ہے کہ اسپیکر کے اس عہدے کیلئے تحریک انصاف کے پارلیمانی لیڈر سردار یار محمد رند کو بھی پیشکش ہو چکی ہے لیکن اُنہوں نے یہ پیشکش مسترد کردی ہے۔ ان سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اسپیکر عبدالقدوس بزنجو کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں کس حد تک صداقت ہے اس کی تصدیق وزیراعلیٰ جام کمال اوور ان کے قریبی ساتھی ہی کر سکتے ہیں؟۔

ان سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بلوچستان عوامی پارٹی میں بعض سینئرز کی یہ خواہش بھی ہے کہ وزارت اعلیٰ اور پارٹی کے صدارتی عہدے کو الگ الگ رکھ کر کام کیا جائے تاکہ پارٹی بھی صوبے میں فعال اور منظم ہو کیونکہ بی اے پی نئی جماعت ہے اور عوام نے عام انتخابات میں جو اُسے پذیرائی دی ہے اُسے برقرار رکھنے کیلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ ڈلیور کیا جائے ساتھ ساتھ بلدیاتی انتخابات بھی آرہے ہیںجس کیلئے پارٹی کی تنظیم سازی بھی کرنی ہوگی۔

پارٹی کے اندر ایک لابی کی کوشش ہے کہ پارٹی کی صدارت میر عبدالقدوس بزنجو کو سونپ دی جائے جو کہ یہ عہدہ احسن طریقے سے سنبھالنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پارٹی کو صوبے میں فعال بھی بنا سکتے ہیں؟ لیکن پارٹی کے اندر ایک دوسری لابی اس بات کے حق میں نہیں ہے اور ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کی صدارت اور وزارت اعلیٰ جام کمال کے پاس ہی رہنی چاہیے وہ ان دونوں عہدوں کو بہتر انداز میں نبھا سکتے ہیں۔

ان سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ سیاست کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ فروری تک کچھ ہوتا نظر نہیں آرہا گو کہ ’’سلو پوائزننگ‘‘ کا عمل تو شروع ہے لیکن مارچ کا مہینہ بلوچستان کی سیاست کیلئے بہت اہم ہے جس میں اس سیاسی عمل میں تیزی آنے کے امکانات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بی این پی بھی مرکز میں اپنے مطالبات کے حوالے سے صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے اور تحریک انصاف کی حکومت کو کچھ وقت دے رہی ہے اگر اُس کے مطالبات تسلیم کر لئے جاتے ہیں تو یقیناً وہ مرکز میں تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت جاری رکھے گی اگر ان مطالبات کو تسلیم نہیں کیا جاتا جس کے حوالے سے بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کیلئے ان مطالبات کو تسلیم کرنا بہت مشکل ہے تو پھر بلوچستان کی سیاست میں مارچ کے مہینے میں کھیل شروع ہو جائے گا اور سیاست عروج پر ہوگی ۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بلوچستان کی سیاست میں ہلچل کے اثرات یقیناً مرکزی سطح پر مرتب ہونگے۔ ان سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق بلوچستان کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں بلوچستان عوامی پارٹی اور بی این پی اس وقت مرکز کی اتحادی ہیں دونوں مرکز اور صوبائی سطح پر سیاست میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہونگی موجودہ صورتحال میں دونوں نے مرکز میں تحریک انصاف کی قیادت کے سامنے اپنے اپنے مطالبات رکھے ہوئے ہیں جیسا کہ پہلے ذکر کیا گیا ہے کہ بی این پی کے مطالبات کو تسلیم کرنا تحریک انصاف کی مرکزی حکومت کیلئے بہت مشکل کام ہوگا جبکہ بی اے پی کے مطالبات اتنے سخت نہیں کہ ان کو تسلیم نہ کیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔