قبائلی علاقے کے اختیارات، وزیر اعلیٰ اور گورنر میں مفاہمت ہوگئی

شاہد حمید  بدھ 30 جنوری 2019
وزیراعلیٰ نے ایپکس کمیٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد گورنر کو راضی کرنے کے لیے ان کے پاس جرگہ بھیج دیا۔ فوٹو: فائل

وزیراعلیٰ نے ایپکس کمیٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد گورنر کو راضی کرنے کے لیے ان کے پاس جرگہ بھیج دیا۔ فوٹو: فائل

پشاور:  انہی سطور میں کہا گیا تھا کہ جن اختیارات کو عشروں تک گورنرز استعمال کرتے آئے ہیں ان اختیارات کو قبائلی علاقہ جات کے خیبرپختونخوا میں انضمام کے بعد بھی موجودہ گورنر اتنی آسانی سے نہیں چھوڑیں گے جس کا عملی نمونہ اس سے قبل قبائلی اضلاع کے معاملات کی نگرانی کا فریضہ وزراء کمیٹی کو سپرد کرنے کے بعد یہ کام ایپکس کمیٹی کے حوالے کرنا ہے جس میں گورنر بھی شامل ہیں اور ساتھ ہی عسکری قیادت بھی اس کاحصہ ہے اور اب ایپکس کمیٹی کو وزیراعلیٰ کی جانب سے اپنی طرف لانے سے بھی تنازعہ پیدا ہوا ہے جس کو حل کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔

خیبرپختونخوا وہ پہلا صوبہ ہے جس نے مرکز سے پہلے صوبہ میں ایپکس کمیٹی قائم کرتے ہوئے اس فورم پر گورنر، وزیراعلیٰ اور عسکری قیادت کو یکجا کیا تھا اور یہ کام صوبہ کے سابق گورنر اویس احمد غنی کے دور میںہوا تھا جبکہ مرکز اور ملک کے دیگر صوبوں میں ایپکس کمیٹیاں پشاور میں آرمی پبلک سکول کے سانحہ کے بعد قائم کی گئیں تاہم جب سے خیبرپختونخوا میں ایپکس کمیٹی قائم ہوئی تب ہی سے اس کی صدارت گورنر کرتے آئے ہیں۔

ایپکس کمیٹی کے حوالے سے جو بنیاد سابق گورنر اویس احمدغنی نے رکھی ان کے بعد آنے والے گورنروں نے بھی وہی روایت جاری رکھی اور ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں کا انعقادگورنر ہاؤس ہی میں ہوتا رہا جن کی صدارت بھی گورنر ہی کرتے رہے جبکہ دیگر صوبوں میں صورت حال اس سے مختلف رہی جہاں وزرائے اعلیٰ اور گورنرز یا تو مشترکہ طور پر ایپکس کمیٹی کی صدارت کرتے رہے یا پھر وزرائے اعلیٰ بطور چیف ایگزیکٹو ایسے اجلاسوں کی صدارت کرتے ہیں تاہم خیبرپخونخوا کی صورت حال اس لیے الگ رہی کہ قبائلی علاقہ جات کے لیے گورنر کو چیف ایگزیکٹو کی حیثیت حاصل تھی جس کی وجہ سے گورنر، وزیراعلیٰ پر حاوی رہے تاہم موجودہ وزیراعلیٰ محمودخان نے اپنی ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر شاہ فرمان سے یہ اختیار چھیننے کی کوشش کرتے ہوئے ایپکس کمیٹی کو گورنر ہاؤس سے اٹھا کر وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پہنچادیا اور بات صرف یہیں تک محدود نہیں رہی بلکہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کے معاملے پر بھی تنازعہ پیدا ہوا جسے سنبھالنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

وزیراعلیٰ کی’’خواہش‘‘پر جب ایپکس کمیٹی کا اجلاس گورنر ہاؤس سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ منتقل کیا گیا تو یقینی طور پر اس کی صدارت بھی وزیراعلیٰ ہی نے کرنی تھی تاہم مذکورہ اجلاس کی صدارت گورنر اور وزیراعلیٰ نے مشترکہ طور پر کی جس کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اجلاس میں شریک ایک بڑے کی کوششوں سے یہ مفاہمت ہوئی تاہم گورنر کی اس بات پر ناراضگی برقرار رہی یہی وجہ ہے کہ وزیراعلیٰ نے ایپکس کمیٹی کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد گورنر کو راضی کرنے کے لیے ان کے پاس جرگہ بھیج دیا جس نے انھیں منانے کی کوشش کی اور مذکورہ ملاقات میں اس بات پر ضرور اتفاق کیا گیا کہ قبائلی اضلاع سے متعلق جو بھی اقدامات ہونگے ان میں گورنر ضرور شریک ہونگے اور یہ بات صوبائی حکومت کو ماننی پڑی تاکہ معاملات سہولت کے ساتھ چلتے رہیں جبکہ بعدازاں وزیراعظم اور پارٹی کے چیئرمین عمران خان نے بھی معاملہ نوٹس میں آنے پر گورنر اور وزیراعلیٰ کو افہام وتفہیم کے ساتھ ہی معاملات چلانے اور پورا فوکس قبائلی اضلاع کی ترقی اور اس سے متعلق دیگر اقدامات پر رکھنے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے ایک مرتبہ پھر خیبرپختونخوا کی حکومت کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی کے خالص منافع اور بقایاجات کی مد میں65 ارب کی ادائیگی جلد صوبہ کو کردی جائے گی جس پر صوبائی حکومت کے زعماء ایک بار پھر بغلیں بجانے میں مصروف ہیں تاہم یہ حقیقت ہے کہ جس طرح مرکزی حکومت نے پہلے گزشتہ سال کے ماہ نومبر تک صوبہ کو بجلی کے سالانہ منافع اور بقایاجات کے 65 ارب روپے کی ادائیگی کا اعلان کرنے کے باوجود یہ ادائیگی نہیں کی اسی طرح اب بھی یہ ادائیگی نہ تو فوری طور پر ہوگی نہ ہی یکشمت بلکہ مرکز مالی مشکلات سے نکلتے ہی صوبہ کو اقساط میں مذکورہ رقم کی ادائیگی کرے گا جبکہ دوسری جانب صوبائی حکومت اس ایشو پر کھیلنے کے موڈ میں ہے یہی وجہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ صوبہ میں بیٹھ کر وزیراعلیٰ اوران کی ٹیم مذکورہ رقم کی ادائیگی کے مطالبے کرتی ہے بلکہ اس کے لیے وہ اسلام آباد یاترا بھی کرتے ہیں۔

اس بارے میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ مذکورہ ایشو جہاں تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات اور مختلف لابیز کی جانب سے اقتدارکو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے جاری کوششوں کی وجہ سے اٹھایا گیا وہیں صوبہ کو مالی مشکلات بھی درپیش ہیں جس کی وجہ سے صوبہ میں ترقیاتی کام بھی متاثر ہو رہے ہیں جس کو مد نظر رکھتے ہوئے ہی صوبائی حکومت یہ معاملہ مرکز کے ساتھ اٹھانے پر مجبور ہوئی ہے تاکہ جاری تیسری سہ ماہی کے دوران زیادہ سے زیادہ ترقیاتی کاموں کو تکمیل کے قریب پہنچاتے ہوئے نہ صرف یہ کہ ترقیاتی سکیموں کی وجہ سے بننے والے بوجھ کو کم کیا جا سکے بلکہ ساتھ ہی آئندہ مالی سال کے لیے بھی صورت حال واضح کی جا سکے تاکہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی حکومت ترقیاتی بجٹ کے معاملے میں کھل کر کھیل سکے، مرکزی حکومت کو جلدیا بدیر مذکورہ ادائیگی صوبہ کو بہرکیف کرنی ہوگی کیونکہ صوبائی حکومت اس معاملے پر کسی بھی طور پیچھے نہیں ہٹ سکتی اور نہ ہی وہ اس کی متحمل ہو سکتی ہے کیونکہ یہ صوبہ کے لیے سب سے زیادہ اہمیت رکھنے والا معاملہ ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے باچاخان اور ولی خان کی برسیوں کے موقع پر گزشتہ سالوں کی طرح ایک بڑا جلسہ کرنے پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ دونوں رہنماؤں کی برسیوں کے سلسلے میں پورا ہفتہ منایا جس کے دوران پشاور سمیت صوبہ کے مختلف اضلاع اور علاقوں میں تقریبات کا انعقاد کیا گیا، باچاخان اور ولی خان کی برسیوں کے سلسلے میں پورا ہفتہ منانے کی وجہ سے اے این پی کے کارکن بہرکیف متحرک تو ہوئے ہیں تاہم اگر اے این پی قبائلی علاقہ جات میں صوبائی اسمبلی اور پھر صوبہ بھر میں منعقد ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں کامیابی کی خواہاں ہے تو اس کے لیے اسے پارٹی کے اندر جلدازجلد رکنیت سازی کا عمل مکمل کرتے ہوئے تنظیم سازی کرنی ہوگی تاکہ پارٹی کی نئی قیادت بہتر انداز میں مذکورہ انتخابات کے لیے تیاری کر سکے، اگرچہ اے این پی کے مرکزی اور صوبائی صدور کے عہدوں پر تبدیلی ہوتی دکھائی نہیں دے رہی اور پارٹی کی قیادت اسفندیارولی خان اور امیرحیدرہوتی کے ہاتھوں ہی میں رہے گی تاہم دیگرعہدوں پر ضرور ردوبدل ہوگا جس سے پارٹی کے اندر گزشتہ انٹراپارٹی انتخابات کی طرح گروپنگ بھی جنم لے گی۔

دوسری جانب جمعیت علماء اسلام (ف) بھی میدان گرمائے ہوئے ہے اور اسی سلسلے میں ڈیرہ اسماعیل خان میں ملین مارچ کے نام پر اجتماع کیا گیا اور یہ سلسلہ یہیں پر نہیں رکے گا بلکہ اس کے بعد ملک کے دیگر حصوں میں بھی اسی طرح کے ملین مارچ منعقد ہونگے تاکہ جے یوآئی کے ورکر متحرک رہ سکیں البتہ قبائلی اضلاع میں منعقد ہونے والے صوبائی اسمبلی انتخابات میں حصہ لینا یا نہ لینا جے یوآئی کے لیے کسی امتحان سے کم نہیں کیونکہ جے یوآئی قبائلی علاقہ جات کے خبیرپختونخوا میں انضمام کی مخالف رہی ہے اور اب بھی اس حقیقت کو تسلیم نہیں کر رہی ایسے میں اگر وہ وہاں صوبائی اسمبلی انتخابات میں حصہ لیتی ہے تو اس صورت میں قبائلی علاقہ جات کے خیبرپختونخوا میں انضمام سے متعلق اس کا موقف کمزور پڑتا ہے اور اگر وہ حصہ نہیں لیتی تو میدان سے باہر رہ جاتی ہے، شنید تو یہی ہے کہ جے یوآئی قبائلی اضلاع میں منعقد ہونے والے صوبائی اسمبلی انتخابات میں حصہ لے گی کیونکہ اس کے علاوہ نہ تو اس کے پاس کوئی چارہ ہے اور نہ ہی مولانا فضل الرحمن بائیکاٹ کی سیاست پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ بائیکاٹ کا مطلب کسی دوسرے کے لیے جگہ چھوڑنا ہوتا ہے اور وہ کسی کے لیے جگہ کسی طور نہیں چھوڑیں گے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔