لاپتہ افراد کے نام سامنےلانے پر اتفاق، زیر حراست قیدیوں سے ملاقات کی اجازت

غلام نبی یوسفزئی  پير 22 جولائ 2013
 وزارت دفاع ہرکیس کاالگ الگ جائزہ لے کراٹارنی جنرل آفس کوبیان حلفی دے گی جو سپریم کورٹ میںجمع کرایا جائیگا.

وزارت دفاع ہرکیس کاالگ الگ جائزہ لے کراٹارنی جنرل آفس کوبیان حلفی دے گی جو سپریم کورٹ میںجمع کرایا جائیگا.

اسلام آباد: لاپتہ افراد کی بازیابی اور سیکیورٹی اداروںکے زیرانتظام حراستی مراکز میں قیدافراد سے ملاقاتوں کے طریقہ کارپراتفاق ہوگیا۔

’ایکسپریس‘ کو مستند ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ متعلقہ اداروں نے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلیے اٹارنی جنرل آفس سے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور وہ تمام لاپتہ افرادجوزندہ ہیں اورکسی نہ کسی حساس ادارے کی تحویل میں ہیںان کے نام سامنے لانے  پر رضامندی کااظہارکیاگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حراستی مراکزمیں قید افراد سے ملاقاتوں پر عائد پابندی بھی ختم کردی گئی ہے اور فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہفتے میں 3 دن ان افراد سے ملاقات کی اجازت ہوگی جب کہ ملاقاتیوں کی طرف سے زیر حراست لوگوںکو اشیائے خورونوش کی فراہمی پر بھی کوئی پابندی نہیں ہوگی۔

ذرائع کے مطابق اس ضمن میں گزشتہ جمعرات کو ا ٹارنی جنرل آفس میں ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میںچاروں صوبوں، وزارت داخلہ اور دفاع کے نمائندوں نے شرکت کی اور یہ یقین دہانی کرائی گئی کہ لاپتہ افراد کے معاملے کو حل کرنے کیلیے وزارت دفاع ہر کیس کا انفرادی جائزہ لے گی۔ تمام متعلقہ اداروں سے معلومات حاصل کرنے کے بعد ہر کیس کے بارے میں ایک بیان حلفی اٹارنی جنرل آفس کو فراہم کیا جائے گا جو بعد میں عدالت عظمٰی میں جمع کیا جائے گا ۔ ذرائع کے مطابق لاپتہ افراد کے بارے کسی خفیہ ادارے سے براہ راست تفتیش نہیں کی جائے گی بلکہ تفتیش وزارت دفاع کے ذریعے ہوگی اور وزارت دفاع ہر طرف سے مکمل معلومات حاصل کرنے کے بعد اصل حقائق سامنے لائے گی۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔