اعلیٰ عدلیہ کوججزنظربندی کیس میں مشکل صورتحال کا سامنا

مظہر عباس  پير 22 جولائ 2013
متاثرہ ججزپراسیکیوشن کی ہدایت کے باوجود بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش نہیں ہوئے فوٹو: فائل

متاثرہ ججزپراسیکیوشن کی ہدایت کے باوجود بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش نہیں ہوئے فوٹو: فائل

کراچی: اعلیٰ عدلیہ کو ریٹائرڈ ججوں کے پیش نہ ہونے کی وجہ سے ججز نظربندی کیس میں مشکل صورتحال کاسامنا ہے۔

سابق صدر مشرف کے اقدام سے متاثرہ ججز تاحال پراسیکیوشن کی ہدایت کے باوجود بیان ریکارڈکرانے کیلیے پیش نہیں ہوئے۔ اس صورتحال کامشرف کو فائدہ پہنچ سکتاہے۔ سیاسی جماعتیں بھی اس حوالے سے آگے نہیں آرہیں اور نہ ہی وکلاتحریک کی قیادت کرنے والے سینئیر وکیل ہی سامنے آناچاہتے ہیں۔

سابق ججزخلیل الرحمن رمدے،جاوید اقبال،سردار رضا اور دیگر کے بیانات نظربندی کیس کوانتہائی مضبوط بناسکتے ہیں۔ اگر سابق ججز کے بیانات نہ دینے کی وجہ سے پرویزمشرف کوشک کافائدہ پہنچتاہے تو یہ وکلا تحریک کی نفی کرنے کے مترادف ہوگا، موجودہ اٹارنی جنرل منیرملک (مہم کے آغازپرصدرسپریم کورٹ بارتھے)، اعترازاحسن، علی احمد کرد، حامد خان کیااپنا بیان ریکارڈ کرانے کیلیے آگے آئیں گے، اگرنہیں تو کیوں؟۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔