پی آئی اے نجکاری کا اعلان، ملازمین میں بے چینی، مزاحمت کا فیصلہ

فیاض ولانہ  پير 22 جولائ 2013
پالپا، پیپلز یونٹی اوردیگرتنظیموں میں رابطے،انتظامیہ نے عہدیداروں کوآج ملاقات کیلیے بلالیا۔ فوٹو: فائل

پالپا، پیپلز یونٹی اوردیگرتنظیموں میں رابطے،انتظامیہ نے عہدیداروں کوآج ملاقات کیلیے بلالیا۔ فوٹو: فائل

اسلام آباد: وزیر اعظم کے مشیر برائے ہوا بازی شجاعت عظیم کی جانب سے پی آئی اے کی نجکاری کے اعلان کے بعد ملازمین میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

شجاعت عظیم کے انٹرویو کی اشاعت کے بعد اتوار کی شام کراچی میں پی آئی اے کے پائلٹوں کی تنظیم پالپا اور پی آئی اے کے ملازمین کی تنظیموں پیپلز یونٹی، ایئر لیگ اور انجینئرنگ سٹاف کی یونین کے نمائندوں نے باہمی رابطے مکمل کر کے پی آئی اے کی نجکاری کے حکومتی فیصلے کی بھر پور مزاحمت کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ پی آئی اے کی جانب سے تمام تنظیموں کے صدور و عہدیداروں کو پی آئی اے کے چیئرمین سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کیلیے آج (پیر) کے روز چیئرمین پی آئی اے کے دفتر پہنچنے کیلئے کہا گیا ہے۔

پی آئی اے کے پائلٹوں اور سٹاف کے نمائندہ رہنمائوں نے اس پر حیرت کا اظہار کیا ہے کہ ان کی اطلاع کے مطابق پی آئی اے کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے رکن اسلم خالق کو چیئرمین کی ذمہ داریاں سنبھالنے سے روک دیا گیا ہے جبکہ انہیں ملاقات کی دعوت دیتے ہوئے یہی بتایا گیا کہ پیر کو چیئرمین اسلم خالق ان سے فرداً فرداً ملیں گے اور پی آئی اے کی نجکاری کے حوالے سے انتظامیہ کا موقف بیان کریں گے، ذرائع کے مطابق ملاقات کرنیوالے نمائندے انتظامیہ کو یہ تجویز بھی پیش کریں گے کہ انتہائی مجبوری کی صورت میں پی آئی اے کو نجی شعبے کے حوالے کرنے کے بجائے پہلے حق کے طور پر ادارے کو اس کے ملازمین کے حوالے کر دیا جائے اور اگر ہم ایک طے شدہ مدت تک اس اہم قومی ادارے کو منافع بخش ادارے میں نہ بدل سکے تو پھر شفاف انداز میں اس کی نجکاری کر دی جائے، ملازمین کو کوئی اعتراض نہ ہو گا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔