بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کیلئے ’پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ‘

ویب ڈیسک  پير 11 فروری 2019
پاکستانیوں کے لیے پرکشش منافع سرٹفیکیٹ آن لائن حاصل کئے جاسکتےہیں جس میں 5 سے 7 منٹ لگتے ہیں۔

پاکستانیوں کے لیے پرکشش منافع سرٹفیکیٹ آن لائن حاصل کئے جاسکتےہیں جس میں 5 سے 7 منٹ لگتے ہیں۔

 کراچی: حکومتِ پاکستان نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے خصوصی بانڈز اور سرٹیفکیٹ جاری کرنے کا منصوبہ بنایا ہے جس کےتحت وہ سال میں دو مرتبہ منافع حاصل کرسکیں گے۔ ’ پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ‘ کے تحت میچیورٹی پر امریکی ڈالر یا پاکستانی روپے میں منافع حاصل کیا جاسکتا ہے۔ یہ منافع سال میں دو مرتبہ دیا جارہا ہے۔ جس میں پاکستانی روپے کی میچیورٹی ہونے پر ایک فیصد اضافی پریمیئم بھی دیا جائے گا۔

پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ (پی بی سی) کو کسی بھی وقت کیش کرایا جاسکتا ہے تاہم ایک سال کے اندر اندر امریکی ڈالر میں کیشمنٹ کی پینلٹی ایک فیصد رکھی گئی ہے۔ پی بی سی پورٹل ویب سائٹ کے ذریعے سرٹیفکیٹ کو کسی بھی وقت آن لائن کیش کرایا جاسکتا ہے۔

بیرونِ ملک مقیم پاکستانی پوری دنیا میں موجود ہیں جن میں امریکا میں 5 لاکھ، سعودی عرب میں 22 لاکھ، برطانیہ میں 12 لاکھ اور متحدہ عرب امارات میں 13 لاکھ پاکستانی موجود ہیں۔ جبکہ بقیہ دیگر ممالک میں ان کی تعداد ساڑھےآٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہ افراد مجموعی طور پر ہرسال 20 لاکھ ڈالر کی خطیر رقم بھیجتے ہیں۔

اسی بنا پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے پرکشش منافع پر پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ سرمایہ کاری کی غرض سے جاری کئے جارہے ہیں تو دوسری جانب اس سے ملکی زرِ مبادلہ کے ذخائرکی تعمیر میں بھی مدد ملے گی۔ اس طرح پاکستان میں سڑکوں، ڈیموں اور توانائی کے منصوبوں میں مدد ملے گی۔

پی بی سی کی ضامن حکومتِ پاکستان ہے۔ سی این آئی سی، این آئی سی او پی یا پی او سی کے حامل غیرملکی بینک اکاؤنٹس رکھنے والے پاکستانی سرمایہ کاری کے اہل ہیں۔ سرمایہ کاری کی رقم امریکی ڈالر میں رکھی گئی ہے ۔

پی بی سی کے تحت منافع کی شرح تین سال سے شروع ہوگی جس میں منافع کی شرح 6.25 اور پانچ سال کی شرح 6.75 ہے۔ سرمایہ کاری 5 ہزار ڈالر سے شروع کی جاسکتی ہے جبکہ زیادہ سے زیادہ رقم کی کوئی حد نہیں ہے۔ منافع کی رقم پاکستان میں روپے اکاؤنٹ یا پھر بیرونِ ملک ڈالر میں حاصل کی جاسکتی ہے۔

روپے اکاؤنٹ کی صورت میں پری میچیور کیش کسی بھی وقت حاصل کی جاسکتی ہے جس پر کوئی پینلٹی نہیں تاہم ڈالر کی صورت میں ایک سال میں کیش لینے پر ایک فیصد پینلٹی رکھی گئی ہے۔

آسان آپریشنل مکینزم

حکومتِ پاکستان نے سرمایہ کاری کا پورا عمل آسان بنادیا ہے۔ جسے آٹھ سادہ مراحل میں انجام دیا جاسکتا ہے۔

پہلے پی بی سی پورٹل پر جاکر اپنا اکاؤنٹ اور پروفائل بنائیں۔

سی این آئی سی، این آئی سی او پی یا پی او سی کی تصدیق کے ساتھ رجسٹریشن کیجئے۔

اس کے بعد سرمایہ کار اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیل اور سرمایہ کاری کی درخواست شامل کرے گا۔

بینک اکاؤنٹ اور سرمایہ کاری تفصیلات شامل کرتے ہی، فنڈز ٹرانسفر کرنے کے لیے ریفرنس نمبر جاری کیا جائے گا۔ تاکہ نیشنل بینک آف پاکستان ( این بی پی) نیویارک میں پی بی سی اکاؤنٹ میں رقم جمع کرائی جاسکے۔

سرمایہ کار اپنے مجاز بینک اکاؤنٹ کے ذریعے فنڈز کی لین دین کرسکیں گے۔

اگلے مرحلے میں اقوام متحدہ سیکیورٹی کونسل (یواین ایس سی)، یورپی یونین (ای یو)، بینک آف انگلینڈ (بی او ای) اور آفس آف فارن ایسٹس کنٹرول (او ایف اے سی) اس کی جانچ اور کلیئرینس کا کام کریں گے۔

اسکریننگ اور کلیئرینس کے بعد ہی سرمایہ کار کے فنڈز منتقل کئے جاسکتے ہیں۔

فنڈز کی فراہمی کے بعد اسٹیٹ بینک آف پاکستان  تصدیقی رسید اور دیگر معلومات سے سرمایہ کار کو آگاہ کرے گا۔

اپنے آئی ڈی اور پاس ورڈ کی بدولت سرمایہ کار پی بی سی پورٹل پر اپنی دیگر معلومات دیکھ سکے گا۔

پیپر لیس اس عمل میں صرف 5 سے 7 منٹ لگتے ہیں۔

پی بی سی کا دیگر بونڈز سے موازنہ

واضح رہے کہ یو ایس بونڈ کی تین سال میں شرح سود 2.49  فیصد اور پانچ سال میں 2.875 ہے ۔ کے ایس اے میں تین سال کی میچیورٹی کی شرح منافع 2.89 فیصد اور پانچ سال کے لیے شرح سود ساڑھے تین سے چار فیصد تک ہے اور اس تناظر میں پی بی سی کا منافع دونوں سےزائد ہے جو تین سالہ مدت کے لیے 6.25 فیصد اور پانچ سالہ عرصے کے لیے 6.75 فیصد ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔