افغانستان کا مسئلہ پیچیدہ ۔۔۔ چین، روس، ترکی اورایران کوملا کرعلاقائی حل تلاش کرنا ہوگا

اجمل ستار ملک / احسن کامرے  پير 4 فروری 2019
ماہرین امور خارجہ اور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال

ماہرین امور خارجہ اور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں کا ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں اظہار خیال

امریکا گزشتہ 18 برسوں سے افغانستان میں موجود ہے اور طالبان کے ساتھ ایک طویل جنگ لڑنے کے بعد حال ہی میں امریکا نے قطر میں ان سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ اس مذاکراتی عمل پر دنیا کی نظریں جمی ہوئی ہیں جس میں افغان جنگ کے خاتمے کیلئے ڈرافٹ پر رضامندی کے اظہار کی خبریں سامنے آرہی ہیں ۔

اس اہم پیشرفت کو مدنظر رکھتے ہوئے ’’افغانستان کی موجودہ صورتحال‘‘ کے حوالے سے ’’ایکسپریس فورم‘‘ میں ایک مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا جس میں ماہرین امورِ خارجہ اور سیاسی و دفاعی تجزیہ نگاروں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ ان سے ہونے والی گفتگو نذر قارئین ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر فاروق حسنات
(ماہر امور خارجہ )

امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات 2برس پہلے تک ناممکن نظر آتے تھے کیونکہ امریکا طالبان کودہشت گرد تنظیم سمجھتا تھا اور پاکستان کو گڈ اور بیڈ طالبان کے طعنے بھی دیتا تھا۔ حالانکہ گڈ طالبان سے ہماری مراد وہ طالبان تھے جو مذاکرات کرنا چاہتے تھے جبکہ بیڈ طالبان وہ گروہ تھے جو بات چیت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکا کے رویے میں تبدیلی کیوں آئی ہے۔

بین الاقوامی معاملات ہوں یا علاقائی معاملات، ہمیشہ زمینی حقائق ان پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ افغانستان کے زمینی حقائق یہ ہیں کہ 18برس بعد بھی امریکا وہاں اپنے قدم نہیں جما سکا۔ امریکا نے وہاں افغانستان کے لوگوں پر مشتمل حکومت بنانے کی کوشش کی مگر یہ تجربہ بھی ناکام رہا۔ حامد کرزئی کی حکومت کا حال ہم نے دیکھاجبکہ موجودہ حکومت بھی ہمارے سامنے ہے۔ افغانستان میں مخالف قوتیں ایک دوسرے کو ماننے کیلئے تیار نہیں مگر امریکا نے مشترکہ حکومت کا فارمولا دے کر انہیں اقتدار میں شریک بنایا جس میںعبداللہ عبداللہ کو چیف ایگزیکٹیو او ر اشرف غنی کو صدر بنا دیا۔ سابق امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ ہم افغانستان کی قومی ترقی کریں گے۔

وہاں اقتصادی ترقی لائیں گے، معاشرہ بہتر کریں گے، ادارے بنائیں گے اور استحکام پیدا کریں گے تاکہ دہشت گرد ختم کیے جاسکیں۔ پھرسابق امریکی صدر اوباما نے کہا کہ افغانستان کی نیشن بلڈنگ نہیں بلکہ ہمیں مناسب حد تک امن چاہیے۔ انہوں نے جیت کی تعریف خود ہی کی کہ ایک مناسب حد تک امن آجائے جس کے ذریعے امریکی افواج افغانستان سے باہر نکل سکیں۔اب ٹرمپ بھی یہی چاہتے ہیں اور افغانستان میں اسی قسم کے امن کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ امریکی فوج کے نکلنے کے بعد وہاں کیا ہوگا اس پر کوئی توجہ نہیں ہے۔ 18 برسوں میں امریکا نے غنڈوں اور بدمعاشوں کو سپورٹ کرکے افغانستان کی حکومت بنائی اور یہ کرپٹ لوگ وہاں اقتدار میں ہیں۔ افغانستان میں اس وقت نہ تو قومی فوج ہے، نہ پارلیمنٹ، نہ عدلیہ، نہ ہی قومی ادارے۔ اس ساری صورتحال میں صرف طالبان کا امریکا سے اتفاق کافی نہیں ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنہیں 18 برسوں سے امریکا کی مدد حاصل رہی اور انہوں نے حکومت میں رہ کر اپنا اثر و رسوخ بڑھایا کیا وہ اپنی اجارہ داری چھوڑدیں گے؟ وہ امریکا کی بات کس حد تک مانیں گے؟ اب تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طالبان کے بعض گروہ بھی امریکا سے اختلاف کریں گے۔

میرے نزدیک امریکا کو افغانستان میں صلح کے لیے ایک فارمولا دینا ہوگا جس میں صرف فوجوں کی واپسی ہی نہیں بلکہ بنیادی ڈھانچہ شامل ہو۔ یہ ڈھانچہ آئین ہوگا جو طے کرے گا کہ کونسا ادارہ ہوگا اور اس کے پاس کتنے اختیارات ہوں گے۔افغانستان میں پشتون، ازبک، تاجک و یگر نسلوں کا مختلف علاقوں پر کنٹرول ہے، ایسے میں کس طرح وہ ایک دوسرے کے کردار کو تسلیم کریں گے۔ اس کا واحد حل فیڈریشن ہے جس میں ان کے الگ الگ صوبے بنا دیئے جائیں۔ سوویت یونین نے افغانستان میں ایڈمنسٹریٹیو ڈھانچے کو مرکزی حیثیت دی اور سارا نظام تباہ کر دیا جس کے بعد آج تک افغانستان سیاسی طور پر مستحکم نہیں ہوسکا۔ اب افغانستان میں فیڈریشن کا ڈھانچہ دینا پڑے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا امریکا کے پاس اتنی طاقت ہے اور اس کی نیت کیا ہے؟ طالبان جب مضبوط تھے تو قندھار سے کابل تک ایک بھی بڑی لڑائی نہیں ہوئی اور لوگ ان کے ساتھ ملتے گئے۔

اب طالبان کس حد تک فوجی حل کر سکتے ہیں یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔ افغانستان کے مسئلے کا علاقائی حل ہونا چاہیے اور پاکستان کو صرف اس کا ایک فریق ہونا چاہیے۔ افغانستان کا مسئلہ انتہائی پیچیدہ ہے ۔ امریکا میں اب قوت نہیں ہے کہ وہ افغانستان کی صورتحال کو سنبھالے۔ امریکا بطور سپر پاور اپنی ساکھ بچانے کیلئے افغانستان سے نکلنا چاہتا ہے مگر ٹرمپ پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا لہٰذا پاکستان کو محتاط رہنا ہوگا۔ ہمیں اکیلئے اس مسئلے میں پڑنے کے بجائے روس، چین، ترکی اور ایران کو بھی شامل کرنا ہوگا، اگر ایسا ہوا تو خدانخواستہ کسی بھی خرابی کا ذمہ دار صرف پاکستان کو نہیں ٹہرایا جا سکے گا۔

ہم ابھی تک ایران کو نظر انداز کر رہے ہیں جو درست نہیں، ہمیں سمجھنا چاہیے کہ ایران کے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ شام کی صورتحال بہتر بنانے میں ترکی، ایران اور روس نے اہم کردار ادا کیا۔ اگرچہ شروع میں ان کے اختلافات تھے مگر بعد ازاں انہوں نے اتفاق کیا۔ ہمیںافغانستان کے مسئلے میں انہیں اکٹھا کرنا چاہیے۔ ترکی نے اس حوالے سے قدم اٹھایا ہے جس کے تحت آئندہ ماہ پاکستان، ترکی اور ایران کی میٹنگ ہوگی۔ افغانستان میں ہمارے بھائی رہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان ترقی کرے، وہاں امن قائم ہو اور ایسا علاقائی طاقتوں کو شامل کرکے ہی ممکن ہوگا، ہمیں اس میں سہولت کار کا کردار ادا کرنا چاہیے۔

بریگیڈیئر (ر) سید غضنفر علی
(دفاعی تجزیہ نگار)

ایک رپورٹ کے مطابق 2002ء سے آج تک افغانستان کی بحالی پر 132.7 بلین ڈالر خرچ ہوچکے ہیں جبکہ 18 برسوں میں امریکا افغان جنگ پر 1 ٹریلین ڈالر خرچ کرچکا ہے مگر اس کے باوجود وہاں قدم نہیں جما سکا۔بیرونی عوامل کے ساتھ ساتھ افغانستان کی اندرونی صورتحال کا جائزہ لینا انتہائی ضروری ہے ۔ اس وقت افغانستان میں نیٹو افواج، طالبان اور افغان حکومت، تین فریق ہیں۔افغانستان کی آبادی بھی اب تبدیل ہوچکی ہے۔ گزشتہ دو انتخابات میں یہ ثابت ہوا ہے کہ افغانستان کے نوجوان جن میں خواتین بھی شامل ہیں، کی ایک بڑی نمائندگی ہے اور وہ فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔

FBI کے ایجنٹ علی سفیان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ “Americans have failed  because there is no strategy in Afghanistan. We had no idea what to do after the military imposition” ۔ امریکا نے اس صدی کی جو جنگیں افغانستان، شام، لیبیا و دیگر ممالک میں لڑی ہیں ان پر بھی بہت پہلے سے لکھا جا چکا ہے کہ امریکا چھوٹے ممالک کی سرحدیں ختم کرکے ان کو خطوںمیں تبدیل کر دے گا۔اس نے ایسا ہی کیا اور اب عراق سے لے کر شام تک نہ کوئی چیک پوسٹ ملتی ہے اور نہ ہی کوئی بارڈر۔ یہ سٹرٹیجی ہے جو فوجی سٹرٹیجی سے کامیاب بنائی جاتی ہے کہ جنگ کرکے دوسری طاقت سے اپنی شرائط منوائی جائیں مگر آج صورتحال بہت مختلف ہے۔ افغانستان میں داخل ہوتے وقت امریکا کا خیال تھا کہ طالبان چند برس بعد ہتھیار پھینک دیں گے اور ان سے اپنی شرائط منوالیں گے۔ ٹیمپا میں USCENTCOM میں ہمیں ایک بریفینگ کے دوران ان کے چیف آف سٹاف نے کہا کہ ہم افغانستان میں جا چکے ہیں، وہاں بمباری کی ہے، ’’تمام بمبوں کی ماں ‘‘ بم بھی وہاں پھینکا جا چکا ہے لہٰذا 5 سے 10 برسوں میں افغان ہمارے سامنے ہتھیار پھینک دیں گے۔

انہوں نے تاریخ کا سبق فراموش کرتے ہوئے افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکا افغانستان میں داخل تو ہوگیا لیکن اس نے وہاں سے نکلنے کی کوئی سٹرٹیجی نہیں بنائی تاہم اب اس نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے وہ کوشش کر رہا ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق افغانستان کا تقریباََ 70 فیصد علاقہ طالبان کے کنٹرول میں ہے جس کی آبادی 15 ملین ہے جو افغانستان کی کل آبادی کا 50 فیصد ہے جبکہ گزشتہ 6 ماہ میں 7 لاکھ لوگ افغان حکومت کے زیر کنٹرول علاقو ں سے طالبان کے علاقوں میں ہجرت کر گئے ہیں جن سے طالبان کی طاقت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔افغان حکومت یا نیٹو افواج کے زیر کنٹرول علاقوں میں زیادہ شدت والے حملوں کی تعداد ایک ہفتے میں 2 حملے ہیں جو 15 اضلاع میں ہوتے ہیں۔ حکومتی زیر انتظام علاقوں میں 15 فیصد حملے زیادہ شدت والے جبکہ درمیانے درجے کے 3حملے ایک ہفتے میں 20 اضلاع میں ہوتے ہیں جبکہ کم شدت والے حملے 3 مہینوں میں 1مرتبہ 31 فیصد اضلاع میں ہوتے ہیں۔

حال ہی میں انٹیلی جنس ایجنسی کے دفتر پر حملہ ہوا جو بہت بڑا تھا، اس سے صورتحال کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ زلمے خلیل زادعراق میں فوج بھیجنے کے سب سے بڑے سپورٹر تھے مگرآج وہ مذاکرت کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ امریکا یہ سوچتا ہے کہ اب ہر حال میں اسے افغانستان سے نکلنا ہے۔امریکی اسٹیبلشمنٹ اپنی شکست تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں یہی وجہ ہے کہ وہ جلد از جلد اس مسئلے کو حل کرکے فوجی انخلا چاہتی ہے۔امریکا کہتا ہے کہ ہم نے افغانستان کی بحالی پر اربوں ڈالر خرچ کیے۔ ہم وہاں اصلاحات لارہے ہیں، ہم نے وہاں سے صنفی امتیاز ختم کیا لہٰذا ہم ناکام نہیں ہیں۔ اب امریکا اپنی شرائط پر وہاں سے فوجی انخلا چاہتا ہے۔

امریکا نے افغانستان میں 7 بیسز بنائیں جن میں سے وہ 2 بیسز قائم رکھنا چاہتا ہے۔ وہاں جو سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی موجود ہے اس کے ذریعے وہ یہاںموجود ہائیڈرو کاربن کے ذخائر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ پردے کے پیچھے یہ بات طے ہوچکی ہے کہ امریکا یہاں سے اپنی فوج نکال لے گا لیکن دو بیسز یہاں موجود رہیں گی جس کو وہ کسی کے حوالے نہیں کر سکتا۔امریکی فوج کے فوری انخلا سے خطے کو نقصان ہوگا۔ویتنام میں امریکا نے ایک سٹرٹیجی بنائی تھی جسے ’’decent interval‘‘ کا نام دیا گیا۔اگر امریکا نے افغانستان سے نکلنا ہے تو یہاں بھی اسی سٹرٹیجی کی ضرورت ہے۔

جولائی میں افغانستان کے انتخابات آرہے ہیں۔ اشرف غنی کہتے ہیں کہ وہ 15 رکنی کابینہ بنائیں گے جو طالبان سے مذاکرات کرے گی جبکہ امریکی فوج کا انخلا 5 برسوں میں ہوگا۔ اس وقت افغان حکومت میں جرائم پیشہ افراد موجود ہیں جو اگلے الیکشن کے بعد دوبارہ اقتدار میں آنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کی موجودہ حکومت مذاکراتی عمل میں تاخیر چاہتی ہے۔ طالبان کے زیر انتظام علاقوں میں داعش نہیں ہے بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کی مدد سے افغان حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں ان کی موجودگی نظر آئی۔ طالبان اور داعش کا نظریہ ایک ہے لہٰذا طالبان کبھی نہیں چاہیں گے کہ کوئی ایسی طاقت افغانستان آئے جو ان کی طاقت کو چیلنج کرے۔ اس وقت دیکھنا یہ ہے کہ امریکا افغانستان میں کیا نظام چھوڑ کر جائے گا اور اس کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا۔ میرے نزدیک چین، روس، ایران و دیگر علاقائی ممالک کو ساتھ ملائے بغیر افغان مسئلے کا پائیدار حل ممکن نہیں، پاکستان کواکیلے اس میں نہیں پڑنا چاہیے۔

 امیر العظیم
(امیر جماعت اسلامی وسطی پنجاب)

افغانستان میں تاریخ صرف کیلنڈر میں تبدیل ہوتی ہے جبکہ قومی سطح پر تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ برطانیہ اور روس کے بعد اب امریکا وہاں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکا کو بھی وہاں شکست ہو چکی ہے۔ امریکا نے افغانستان میں بہت پیسہ خرچ کیا مگر برسوں کی جنگ کے باوجود وہاں کامیاب نہیں ہوسکا۔ اب بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ افغانستان میں خانہ جنگی ہوگی کیونکہ ملک کے اندرونی فریقین کے مابین کوئی ڈائیلاگ نہیں ہو رہا ۔ بھارت اور بیرونی طاقتیں بھی نہیں چاہتی کہ افغانستان کی اندرونی قوتوں کے درمیان مذاکرات ہوں اور وہاں امن قائم ہو لہٰذا اس امر کو مدنظر رکھتے ہوئے ہمیں چاہیے کہ اپنے بارڈر پہلے سے زیادہ محفوظ بنائیں اور پیشگی اقدامات کریں تاکہ افغانستان کے آئندہ حالات کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔بھارت نے افغانستان میں پنجے گاڑے ہوئے ہیں۔ ہمیںا س موقع سے فائدہ اٹھا کر بھارت کو افغانستان سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

روس جب افغانستان سے گیا تو ہماری حکومت نے امریکا پر ہی انحصار کیا اور پھر آہستہ آہستہ امریکانے خطے کی صورتحال بدل دی۔ میرے نزدیک پاکستان کو اس وقت شٹل ڈپلومیسی کرنی چاہیے اور اس مسئلے پر روس، چین ، ترکی اور ایران کو آن بورڈ لینا چاہیے لیکن اگر صرف امریکا پر ہی انحصار کیا تو نقصان اٹھانا پڑے گا۔ میرے نزدیک عالمی سطح پر رائے عامہ تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی طاقتیں کسی قوم کو غلام بنا کر یا طاقت کے زور پر انہیں تہذیب یافتہ بنانے کی کوشش کریں گی تو مسائل پیدا ہوں گے۔ اگر ایسا ہوتا رہا تو دنیا میں مزید بحران آئیں گے لہٰذا بڑے پیمانے پر اس حوالے سے آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا ہوگیا تو دنیا کو مزید بحرانوں سے بچایا جاسکتا ہے لیکن اگر ہم صرف حالات کو دیکھتے رہے اور پیشگی اقدامات نہ کیے تو ایک بار پھر ماضی جیسے حالات پیدا ہوسکتے ہیں جس کا نقصان پاکستان سمیت پورے خطے کو ہوگا۔

 ڈاکٹر عاصم اللہ بخش
(تجزیہ نگار)

افغانستان کی صورتحال کو سمجھنے کیلئے 2 چیزیں اہم ہیں۔ ایک یہ کہ اب 90ء کی دہائی یا 2000ء کے اوائل کا دور نہیں ہے۔اب صورتحال مختلف ہے۔ دوسرا یہ کہ شام کی مثال لیں تو یہ واضح ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی سپر پاور شورش میں کردار ادا کر رہی ہواور کوئی دوسری طاقت اس کے مخالف کردار ادا کرنا شروع کر دے تو معاملہ زیادہ دیر نہیں چلتا۔ شام میں ساری فوج نکالنے کا کہا گیا کیونکہ وہاں روس نے حکومتی سائڈ پر کردار ادا کرنا شروع کردیا تھا۔جس قسم کی جنگیں امریکا لڑ رہا ہے، خاص طور پر 90ء کی دہائی سے جو ہم نے دیکھا اس کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دنیا کو ساتھ ملاتا ہے اور قبضہ کرتا ہے۔

پہلی مرتبہ اس نے اقوام متحدہ کو ساتھ ملایا جبکہ دوسری مرتبہ اس کے بغیر ہی اپنے حواریوں کے ساتھ حملہ کردیا۔ اُس وقت امریکا کے مدمقابل کوئی طاقت نہیں تھی۔ اب صورتحال مختلف ہے اور حالات ماضی جیسے نہیں رہے بلکہ روس اور چین، امریکا کی اجارہ داری کو چیلنج کر رہے ہیں۔شام میں امریکا کو واپس جانا پڑا اور اس نے روس کے ساتھ معاملات طے کیے۔ یہی صورتحال اب افغانستان میں بن رہی ہے۔ امریکا جلد از جلد افغانستان کے مسئلے کا حل اور اپنی فوج نکالنا چاہتا ہے اور اسی لیے وہ بار بار پاکستان کو کردار ادا کرنے کیلئے کہہ رہا ہے۔ یہ پاکستان سے کوئی شفقت نہیں ہے بلکہ ایسا اس لیے ہے کہ وہ اس معاملے سے چین اور روس کو دور رکھنا چاہتا ہے۔ پاکستان نے بھی اپنے ماضی سے یہ سبق حاصل کیا ہے کہ علاقائی طاقتوں کو ساتھ ملا کر علاقائی حل بنائے بغیر یہ معاملہ حل نہیں ہو سکتا۔ ان طاقتوں میں روس، چین اور ایران شامل ہیں۔ پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ چاروں مل کر افغانستان کا مسئلہ حل کریں۔

امریکا باربار پاکستان کو طالبان کے ساتھ مذاکرات میں کردار ادا کرنے کیلئے صرف اس لیے کہہ رہا ہے کہ اگر اس عمل میں کہیں خرابی ہوتی ہے یا مذاکرات کامیاب نہیں ہوتے تو اس کا ذمہ دار پاکستان کو ٹہرا سکے لیکن اگر دیگر طاقتیں بھی اس عمل میں شامل ہوں گی تو پھر صرف پاکستان پر الزام نہیں لگایا جاسکے گا۔ امریکا، روس اور چین کو افغان امن عمل میں شامل نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی ان کے ساتھ میز پر بیٹھنا چاہتا ہے۔ وہ یہ سمجھتا ہے کہ اگر یہ معاملہ جلد حل نہ ہوا تو پھر چین اور روس کا کردار بڑھے گا اور امریکا کے لیے افغانستان سے نکلنا مشکل ہوگا جس سے امریکا کو نقصان پہنچے گا اور اس کی عالمی ساکھ بھی متاثر ہوگی۔ اس وقت امریکا افغانستان سے نکلنے کے موڈ میں ہے جس کے لیے وہ کوششیں کر رہا ہے مگر میرے نزدیک علاقائی طاقتوں کے بغیر یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا، سب کو ایک میزپر بیٹھنا ہوگا ۔طالبان کے ساتھ امریکا کی شرط ہے کہ وہ لانگ ٹرم سیز فائر کریں اور صلح کے بعد دیگر معاملات طے کریں جبکہ طالبان کہتے ہیں کہ وہ امریکی فوج کے مکمل انخلا تک سیز فائر نہیں کریں گے۔ گزشتہ دنوں افغانستان ملٹری بیس پر حملہ ہوا لیکن مذاکراتی عمل متاثر نہیں ہوا بلکہ زلمے خلیل زاد نے کہا کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر مذاکرات کی نیت ہو تو اس طرح کے بڑے حملے بھی مسئلہ پیدا نہیں کرتے۔ ایک اور مسئلہ جو اس عمل میں رکاوٹ بن سکتا ہے وہ یہ ہے کہ امریکا چاہتا ہے طالبان افغان حکومت سے بات کریں جبکہ طالبان ، افغان حکومت کو کٹھ پتلی سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اصل حکومت تو امریکا ہی ہے جس سے ہم بات کر رہے ہیں۔ افغانستان کے انتخابات بھی قریب ہیں جس کے لیے طالبان کو افغان حکومت سے بات چیت کیلئے کہا جارہا ہے۔ ایک امریکی اخبار کے مطابق زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ جولائی سے پہلے یہ معاہدہ طے ہوسکتا ہے۔ امریکا کے سابق ریکارڈ خصوصاََ ایران کے ساتھ معاہدوں کی خلاف ورزی کی وجہ سے کوئی بھی امریکا پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں اور نہ ہی کوئی امریکا کی سپورٹ میں طالبان کو شرائط تسلیم کرنے کیلئے رضامند کرنے پر تیار ہے۔ میرے نزدیک مذاکراتی عمل ڈیڈلاک کا شکار ہوسکتا ہے۔

اہم سوال یہ ہے کہ اگر افغانستان میں جنگ بندی ہوجاتی ہے اور امریکی فوج بھی نکل جاتی ہے تو وہاں امن قائم ہوجائے گا؟ فی الوقت پاکستان نے روس، چین اور ایران کو ملا کر یہ انتظام تو کیا ہے کہ اس سطح پر وہاں خانہ جنگی نہ ہو لیکن امریکا نے ایک اور شرط رکھی ہے کہ افغان طالبان یہ گارنٹی دیں کہ وہ داعش کو افغانستان میں پھیلنے نہیں دیں گے۔ ا

گر ایسا ہوگیا تو پھر امریکا باہر رہ کر داعش کو سپورٹ کرے گا جس سے یہاں جنگ کی ایک نئی لہر آئے گی۔ وہاں پراکسی وار شروع ہوگی جبکہ افغانستان کی انتظامیہ اس مسئلے پر قابو پانے کی پوزیشن میں نہیں ہے لہٰذا اس سے خطے کے ممالک خصوصاََ پاکستان کو نقصان ہوگا۔ پاکستان پر اس وقت دونوں طرف سے پریشر ہے کہ جو مذاکراتی عمل چل رہا ہے اس میں کردار ادا کرے جبکہ دوسرا یہ ہے کہ کوئی ایسا فارمولا بنایا جائے جس سے افغانستان میں امن آسکے اور اس کی جغرافیائی وحدت قائم رہے۔ یہ فارمولا اتنا موثر ہو کہ پاکستان کے معاشی معاملات، تجارتی عزائم ، سی پیک و دیگر پورے ہوسکیں۔ ابھی جو صورتحال ہم دیکھ رہے ہیں وہ امریکی انخلا کی ہے جبکہ امن ابھی بھی سوالیہ نشان ہے۔ کیا امریکی فوجی انخلا کا مطلب افغانستان میں امن ہے یا عدم استحکام کا نیا آغاز ہے؟ اگر امریکا کا انخلا ہی کامیابی سمجھا گیا اور اس کے بعد کا لائحہ عمل تیار نہ کیا گیا تو تاریخ خود کو دہرائے گی جو اس خطے کیلئے اچھا نہیں ہوگا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔