ٹریفک جام اور پانی کا بحران

ایڈیٹوریل  جمعرات 23 اگست 2012
ٹریفک پولیس کی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث عوام کو عید کے تینوں دن مختلف علاقوں میں بدترین ٹریفک جام کا سامنا کرنے پڑا۔ فوٹو: پی پی آئی/ فائل

ٹریفک پولیس کی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث عوام کو عید کے تینوں دن مختلف علاقوں میں بدترین ٹریفک جام کا سامنا کرنے پڑا۔ فوٹو: پی پی آئی/ فائل

عیدالفطر کے تینوں دن پانی کے بدترین بحران اور شدید ٹریفک جام نے شہریوں کی عید کا مزا کرکرا کردیا۔ شہر میں پانی کے بحران کے باعث ٹینکر مافیا کی چاندی ہوگئی اور اس نے کئی گنا مہنگے داموں پر پانی فروخت کیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ کسی ایک بھی ہائیڈرنٹ میں پانی کی شکایت نہیں ہوئی جب کہ ان ہائیڈرنٹس کی اطراف کی گلیاں اور محلوں کے مکین پانی کی بوند بوند کو ترس رہے تھے۔ کے ای ایس سی نے اعلان کیا تھا کہ وہ عید کے تین دن شہر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ نہیں کرے گی اور کے ای ایس سی نے اپنا وعدہ نبھایا بھی مگر واٹربورڈ نے اس کے باوجود پانی کے بحران کا سارا ملبہ کے ای ایس سی پر ڈالتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ بجلی کی آنکھ مچولی کے باعث شہر میں 17 کروڑ گیلن پانی کی کمی رہی۔

علاوہ ازیں ٹریفک پولیس کی نااہلی اور ناقص منصوبہ بندی کے باعث مختلف علاقوں میں بدترین ٹریفک جام کا بھی سامنا رہا جس کے باعث رشتے داروں اور دوستوں سے عید ملنے کے لیے جانے والے ہزاروں افراد گھنٹوں ٹریفک جام میں پھنسے رہے اور شہر کی مختلف شاہراہوں پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔ قابل افسوس امر یہ ہے کہ اس دوران ٹریفک پولیس اہلکار کسی مقام پر دکھائی نہیں دیے اور لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ٹریفک کنٹرول کرنے کی ذمے داری سنبھالی۔ ٹریفک جام کی ایک بڑی وجہ سیکیورٹی اقدامات کے باعث تمام تفریحی مقامات کو اچانک بند کیا جانا بتایا جاتا ہے جس کے باعث تفریح گاہوں سے واپس جانے والی گاڑیوں نے ٹریفک کا بہائو متاثر کیا۔

لیکن یہ عذر لنگ شہری حکومت کی بدانتظامی کو کسی طور نہیں چھپا سکتا۔ اگر عیدالفطر کے تینوں دن پانی کی فراہمی کا خیال رکھا جاتا اور ٹریفک کے مناسب اقدامات کیے جاتے تو شہری عید کی خوشیوں سے محروم نہ ہوتے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس بدانتظامی کی تحقیقات کی جائے اور آیندہ آنے والے دنوں میں اس صورت حال کا سدباب کیا جائے تاکہ شہریوں کو آیندہ ایسی کوفت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔