سی این جی: سستا ایندھن یا سستی موت؟

غلام اکبر مروت  پير 11 فروری 2019
سی این جی کی سہولت صرف نجی گاڑیوں کےلیے تھی لیکن کمرشل گاڑیاں بھی اس سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ (فوٹو: فائل)

سی این جی کی سہولت صرف نجی گاڑیوں کےلیے تھی لیکن کمرشل گاڑیاں بھی اس سے ناجائز فائدہ اٹھا رہی ہیں۔ (فوٹو: فائل)

وطنِ عزیز پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیاں رواں دواں تھیں، دونوں کی قیمتیں عالمی مارکیٹ میں بڑھ رہی تھیں کہ اس دوران نیا اور سستا ایندھن ’’سی این جی‘‘ کے نام سے متعارف کروایا گیا۔ اس کے آغازمیں بتایا گیا کہ سی این جی صرف نجی گاڑیوں میں استعمال ہوگی اور اس کےلیے درآمد شدہ مؤثرسی این جی کِٹس استعمال کی جائیں گی تاکہ گاڑی میں سوار افراد محفوظ رہیں۔ البتہ سی این جی کا فائدہ عوام کو نہیں ہوا لیکن سی این جی اسٹیشنوں کے اجازت نامے کروڑوں روپے میں بکتے رہے اور حکمران ناجائز آمدن سمیٹتے رہے۔

قصہ مختصر یہ کہ سی این جی دراصل عوامی فائدے کےلیے مارکیٹ میں متعارف کروائی گئی تھی لیکن اس سستے ایندھن نے عوام کو کوئی فائدہ نہیں دیا۔ سی این جی نجی گاڑیوں کےلیے ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں اس کے استعمال کی اجازت نہیں۔ اس لیے کرایوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ ہر بار پندرہ سترہ جانوں کے جلنے کی صورت میں نقصان ہی ملا ہے۔ یہ کوئی پہلی بارنہیں ہو رہا۔

بدھ 6 فروری 2019 کو خیبرپختونخوا کے جنوبی ضلع کرک میں مسافر کوچ کے حادثے میں لوگوں کو سنھبلنے کا موقع ہی نہیں ملا اور سب مسافر آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے سولہ زندہ انسان کوئلہ بن گئے۔

چونکہ سی این جی پبلک ٹرانسپورٹ کےلیے استعمال نہیں کی جاسکتی اور دوسری طرف سی این جی گاڑیاں عوام کےلیے بھی نقصان دہ ہیں، اس لیے ان پر پابندی لگانا اب حکومت کی مجبوری بننے والی ہے کیونکہ سی این جی کا فائدہ کمرشل گاڑیوں اور سی این جی اسٹیشن مالکان اٹھارہے ہیں۔

غریب عوام کو سی این جی سے دنیاوی سستا سفر ہر گز میسر نہیں بلکہ آخرت کا سفر بھی اذیت ناک طریقے سے کروایا جاتا ہے کیونکہ لوگ زندہ جل جاتے ہیں۔ گزشتہ کچھ مہینوں کے دوران صرف کرک اور کوہاٹ میں نصف درجن کے قریب گاڑیوں نے آگ پکڑ کر انسانوں کو زندہ جلایا ہے۔ یہ سب کی سب سی این جی کی گاڑیاں تھیں۔ اس کی نسبت پیٹرول اور ڈیزل کی گاڑیوں میں حادثات کے بعد آگ لگنے کے واقعات صرف ایک سے دو فیصد ہیں۔ جبکہ سی این جی گاڑیوں کے حادثات میں ایک یا دو فیصد گاڑیاں بھی نہیں بچ پاتیں۔

سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ نے حلف اٹھانے کے بعد اعلان کیا تھا کہ سوموٹو کا بے دریغ استعمال اب نہیں ہوگا۔ لیکن ہم گزارش کرتے ہیں کہ جب ضرورت ہو تب ضرور اسے استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ اب عوام جل رہے ہیں اور لوگ اپنی آنکھوں سے انہیں جلتے دیکھ رہے ہیں۔

ایسے اندوہناک اور جان لیوا حادثات سے بچنے کا مناسب راستہ یہی ہے کہ ملک بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کےلیے سی این جی کی فراہمی بند کی جائے اوراس پابندی پرعمل درآمد بھی کیا جائے۔

وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے بارے میں یہی مشہور ہے کہ وہ خاموش طبع ہیں اور بولتے نہیں۔ اس کے برعکس وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان ہر عوامی مسئلے پر بولتے بھی ہیں اورقدم بھی اٹھاتے ہیں۔ اس لیے ان سے بھی یہی گزارش ہے کہ فوری طور پر صوبے بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ کےلیے سی این جی کے استعمال پر پابندی لگوائیں، اور گاڑیوں میں لگے سلنڈرز فوری ہٹائے جائیں، بیشک وہ گیس سے خالی ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کے اس عوام دوست اقدام سے ملک بھرمیں ایک عوام دوست اور مثبت پیغام جائے گا۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے ایک حکم سے صوبے بھر کے عوام کو محفوظ سفر میسر آئے گا۔ عوام کو بھی زندگی کا تحفظ ملے گا۔ اس سلسلے میں اگر کوئی یہ کہے کہ سی این جی اسٹیشن کا کاروبار خراب ہوگا تو ایسا بالکل بھی نہیں ہوگا کیونکہ جب پبلک ٹرانسپورٹ میں سی این جی پر پابندی ہوگی تو نجی گاڑیوں میں اس کا استعمال دوبارہ شروع ہوجائے گا۔ اب تونجی گاڑیوں میں سی این جی کا استعمال اس لیے کم ہوگیا ہے کہ ہر سی این جی اسٹیشن پر گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں ہوتی تھیں۔

اس کے علاوہ حکومت کو گیس کی بچت ہوجائے گی کیونکہ عام اطلاعات یہی ہیں کہ اکثر سی این جی اسٹیشن مالکان محکمہ قدرتی گیس کے افسران کے ساتھ مل کر بڑے پیمانے پر گیس چوری کرتے ہیں۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں سی این جی کی بندش سے گیس چوری میں بھی کمی آئے گی اور یوں حکومت کو بھی ماہانہ کروڑوں روپے کا جو نقصان پہنچایا جارہا ہے وہ بھی کم ہوجائے گا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔