کرکٹرز کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے نہ کریں

سلیم خالق  ہفتہ 9 فروری 2019
عمران خان کبھی ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے حامی نہیں رہے، فوٹو: فائل

عمران خان کبھی ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے حامی نہیں رہے، فوٹو: فائل

پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹرز کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے کرنے کی تیاریاں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں لیکن کیا آپ کو کہیں کوئی احتجاج نظر آ رہا ہے؟

یقیناً جواب ناں میں ہی ہوگا، جو بیچارے کھلاڑی اس سے متاثرہوں گے ان پر یہ مثال صادق آتی ہے کہ ’’نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنے گا‘‘، جو آوازیں دنیا بھر میں سنائی دے سکتی ہیں انھیں مفادات کی ٹیپ منہ پر چپکاکر روک دیا گیا ہے، اس وقت صورتحال یہ ہے کہ آئندہ سیزن سے نیا سسٹم لاگواور ڈپارٹمنٹل کرکٹ تقریباً ختم ہو جائے گا، ہمیں صورتحال کی سنگینی کا اندازہ نہیں مگر اس سے سیکڑوں کرکٹرز بے روزگار ہو سکتے ہیں، ساتھ ہی نئے کھلاڑیوں کی آمد کا سلسلہ بھی رک جائے گا۔

عمران خان کبھی ڈپارٹمنٹل کرکٹ کے حامی نہیں رہے، ان کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہی کرکٹ حلقوں میں یہ چہ مگوئیاں شروع ہو گئی تھیں کہ اب ڈپارٹمنٹس کی خیر نہیں، احسان مانی جب چیئرمین پی سی بی بنے تو انھوں نے بھی سرپرست اعلیٰ کے وژن پر کام شروع کر دیا۔

اس سلسلے میں ہارون رشید اور بورڈ کی بعض دیگر شخصیات سرگرم رہیں، اب اطلاعات یہ ہیں کہ ڈپارٹمنٹس سے کہا جائے گا کہ وہ ریجنز کی ٹیموں کو اسپانسر کریں پھر وہی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں گی، اس میں کئی سوال سامنے آتے ہیں، سب سے پہلے یہ کہ ڈپارٹمنٹس کیوں ریجنز کو سپورٹ کریں گے؟

ان دنوں ویسے ہی ملک کے معاشی حالات اتنے اچھے نہیں، پی آئی اے اور پی ٹی وی جیسے سرکاری اداروں کا حال سب کے سامنے ہے، یو بی ایل اپنی کرکٹ ٹیم بند کر چکا، جن اداروں کی ٹیمیں فرسٹ کلاس کرکٹ کھیل رہی ہیں وہ یہ سوچ کر کہ چلو کچھ پبلسٹی ہو جاتی ہے پیسہ لگا دیتے ہیں، جب ان کی ٹیمیں ہی نہیں رہیں گی تو وہ کیوں بجٹ میں کرکٹ کیلیے کوئی رقم رکھیں گے، اگر انہیں منا بھی لیا توجو کرکٹرز ان کے پاس ملازم ہیں اور ریجنز کے جو پلیئرز ہیں وہ سب ملا کر40،50 کھلاڑی بن جائیں گے، ان میں سے کون کھیلے گا،جورہ گئے وہ کہاں جائیں گے۔

اگر ادارے کے ملازم پلیئرز اپنے ریجنز کیلیے کھیلے تو وہ انھیں تنخواہ کیوں دیں گے،ٹیموں کی سلیکشن کون کرے گا،ریجنز کتنے بااختیار ہوں گے، یہ بھی واضح نہیں ہے، میں مان لیتا ہوں کہ ہمارے پاس آئن اسٹائن جیسے ذہین ہارون رشید اور بعض دیگر بڑے دماغ موجود ہیں مگر وہ جو بھی فارمولا بنا لیں وہ فیل ہو جائے گا، آخرمیں یہی حقیقت سامنے آئے گی کہ اتنے کرکٹرز کو ڈپارٹمنٹس نے فارغ کر دیا،ہم یہ حقیقت کیوں نہیں مانتے کہ سرفراز احمد، بابر اعظم اور محمد عباس جیسے کرکٹرز اسی ڈومیسٹک سسٹم کی دین ہیں،لاکھ خرابیاں موجود مگر پھر بھی ہمیں ہر سال کھلاڑی تو مل ہی رہے ہیں ناں، اسے بہتر کرنے کے بجائے تباہ کرنے پر کیوں تلے ہوئے ہیں،یقیناً خرابیاں موجود ہیں مگر ایسی بھی نہیں جو درست نہ کی جا سکیں۔

آپ آسٹریلیا اور پاکستان کا مقابلہ نہیں کر سکتے، وہاں پیٹر، مائیکل اور جان سے ان کے گھر والے یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ ان کیلیے روٹی کا بندوبست کرے گا، بیمار ماں باپ کا علاج یا بہنوں کی شادی کرائے گا، وہاں اگر کوئی غریب بھی ہے تو حکومت مدد کرتی ہے، پاکستان کا کلچر الگ ہے، یہاں نوجوانوں کو گھر بھر کی ذمہ داری سنبھالنا پڑتی ہے، اگر کوئی باصلاحیت کرکٹر ہو توایک وقت تک ہی سب کام کاج چھوڑ کر کھیل سکتا ہے، بعد میں ذمہ داریاں اس کے قدم روک لیتی ہیں۔

ہاں اگر ایسے میں وہ کسی ڈپارٹمنٹ کا حصہ بن جائے تو گھر والوں کو بھی اطمینان ہو جاتا ہے کہ کچھ پیسہ آنے لگا اور وہ اپنا کیریئر بھی آگے بڑھاتے رہتا ہے، اب اگر ڈپارٹمنٹس ہی نہ رہے تو کون سب کچھ چھوڑ کر کرکٹ کو اپنائے گا،ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی وجہ سے بھی بے شمار کرکٹرز کو گروم ہونے کا موقع ملا، آج ارب پتی ہونے کے باوجود ہمارے بہت سے ریٹائرڈ ’’اسٹارز ‘‘ بھی اپنے ڈپارٹمنٹس سے تنخواہیں وصول کر رہے ہیں مگر نوجوان کرکٹرز کیلیے ہونے والے ظلم پر ان کی آنکھیں بند ہیں۔

صحافی ویسے ہی بدنام ہیں کہ لفافے لیتے ہیں یا دیگر فوائد مانگتے ہیں،آپ سابق کرکٹرز کو تو دیکھیں، اربوں روپے ہونے کے باوجود ان کی لالچ ختم نہیں ہوتی،اگر آپ ایک فیتہ کاٹنے کیلیے ایک لاکھ روپے بھی دیں تو دوڑے چلے آئیں گے،بدقسمتی سے گزشتہ کچھ کرکٹ بورڈز نے بڑی چالاکی سے سابق کرکٹرز کو اپنے بس میں کیا، شعیب اختر بے لاگ تبصرے کیا کرتے تھے نجم سیٹھی نے ڈسپلن کی خلاف ورزی پر برسوں پرانے جرمانے کی بھاری رقم واپس دلاکر انھیں بس میں کیا۔

محمد یوسف کو آئی سی ایل کے دنوں میں قانونی چارہ جوئی پر خرچ ہونے والی بھاری رقم کے مسئلے سے نجات دلائی، باسط علی جونےئر چیف سلیکٹر بنے رہے، جلال الدین ویمنز ٹیم کے چیف سلیکٹر بن گئے،مصلحتوں نے بعض دیگر بڑی آوازوں کو بھی چپ کرا دیا، احسان مانی کے دور میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا، محسن خان کرکٹ کمیٹی کے چیئرمین بن کر سب کچھ بھول گئے، وسیم اکرم تو پہلے ہی بہت دیکھ بھال کر چلنے کے عادی بن چکے تھے، اب صورتحال یہ ہے کہ اتنا بڑا فیصلہ ہونے والا ہے لیکن بہت کم سابق کرکٹرزکھل کر مخالفت کر رہے ہیں، میں عبدالقادرکو سلام پیش کرتا ہوں جنھوں نے عمران خان سے ملاقات کے وقت بھی ڈپارٹمنٹل کرکٹ ختم نہ کرنے کا کہا تھا ورنہ دیگر ’’بڑے اسٹارز‘‘ تو جی عمران بھائی سے زیادہ کچھ کہہ ہی نہیں سکے تھے۔

جاوید میانداد برسوں بے اختیار ڈی جی بن کر لاکھوں روپے تنخواہ لیتے رہے ، خیر انھوں نے بھی اس سسٹم کے خلاف آواز اٹھائی ہے لیکن یہ کافی نہیں،اس کیلیے سب کو یکجا ہونا پڑے گا،اپنے مفادات کو بھول کر نوجوانوں کیلیے آوازیں اٹھائیں، آپ لوگوں کو تو اب ضرورت نہیں ، اتنے پیسے جمع کر چکے کہ سات پشتیں آرام سے کھا لیں گی، بیچارے غریب کھلاڑیوں کو کچھ سوچیں،مل بیٹھ کر حکمت عملی بنائیں۔

ایک جوائنٹ ایکشن کمیٹی بنا کر وزیر اعظم سے ملیں کہ جناب ابھی آپ کے پاس پانچ سال ہیں، ملکی حالات اور معیشت بہتر بنائیں، پھر کرکٹ کا سوچیں، اگر بات نہ بنے تو نئے ڈومیسٹک سسٹم کیخلاف مظاہرے کریں، پیسے تو بہت کما لیے کچھ دعائیں بھی لے لیں، پی سی بی 20 لاکھ روپے میں امپورٹڈ ایم ڈی لا چکا، وہ اپنے آپ کو بہتر بنائے پھر دیگر باتوں کا سوچے،ڈومیسٹک سسٹم کو اگر بہتر کرنا ہے تو اس کیلیے سابق عظیم کرکٹرز پر مشتمل کمیٹی تشکیل دیں، نان ٹیکنیکل یا یس مین لوگوں سے اچھے کی کیا توقع کی جا سکتی ہے، مجوزہ سسٹم کرکٹ کیلیے تباہ کن ثابت ہوگا، اگر سابق کرکٹرز نے اس کیخلاف آواز نہ اٹھائی تو وہ بھی کھیل کی تباہی کے جرم میں برابر کے قصوروارہوں گے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔