خیسور معاملے پر پی ٹی ایم کے پراپیگنڈے کا پول کھولنے والا شخص قتل

ویب ڈیسک  پير 11 فروری 2019
ملک متورکے نے کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے خواتین کو ہراساں نہیں کیا اور پشتون تحفظ موومنٹ کا بیان غلط ہے (فوٹو: ایکسپریس)

ملک متورکے نے کہا تھا کہ سیکیورٹی فورسز نے خواتین کو ہراساں نہیں کیا اور پشتون تحفظ موومنٹ کا بیان غلط ہے (فوٹو: ایکسپریس)

پشاور: شمالی وزیرستان میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کے جھوٹے الزامات کا پول کھولنے والے شخص ملک متورکے کو شمالی وزیرستان کی تحصیل میرعلی میں واقع خیسور گاؤں میں اتوار کے روز فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا۔

ملک متورکے نے اس سے قبل بیان دیا تھا کہ وہ شریعت اللہ کا ماموں ہے اور شریعت اللہ کے گھر میں سیکیورٹی فورسز کے چھاپے کے دوران بالخصوص خواتین کو ہراساں نہیں کیا گیا تھا اوراس ضمن میں پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کا پروپیگنڈا جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ متورکے نے بتایا کہ فورسز کی تلاشی کے دوران وہ خود اس گھر میں موجود تھا۔ واضح رہے کہ شریعت اللہ پر مری پیٹرولیم کمپنی کے ایک ملازم پر اغوا اور اسے حبسِ بے جا میں رکھنے کا الزام تھا۔

ذرائع کے مطابق اس نے ایک حلف نامے پر دستخط بھی کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ اس ضمن میں (سیکیورٹی فورسزکی جانب سے) کوئی غلط قدم نہیں اٹھایا گیا تھا اور پی ٹی ایم نے اسے سوشل میڈیا پر تنقید کا ہدف بنایا تھا۔

معاملے کا پس منظر

واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے بعد شریعت اللہ کے 13 سالہ چھوٹے بھائی حیات خان نے پی ٹی ایم کے ایک کارکن نورالسلام داور کی ترغیب اور ایما پر سیکیورٹی فورسز کے خلاف ایک ویڈیو پیغام ریکارڈ کرایا تھا۔ اس پیغام میں حیات خاں نے کہا تھا کہ جب اہلکار اس کے بھائی کی تلاش میں گھر میں آئے تو انہوں نے تلاشی کے دوران غلط طریقے اختیار کیے اور انہیں ہراساں کیا گیا۔

اس کے بعد وائس آف امریکا سے انٹرویو کے دوران شریعت اللہ کے والد جلات خاں نے اعتراف کیا تھا کہ اس کا بیٹا شریعت اللہ ایک دہشت گرد ہے۔ شریعت اللہ پر 23 اکتوبر 2018 کو مری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے ایک ملازم اور فرنٹیئر کور کے ایک سپاہی کو اغوا کرنے کے بعد جلاکر شہید کرنے کے الزامات تھے۔

مری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ کے ایک اور ملازم زاہد محمود کو بھی شریعت اللہ نے خیسور میں اپنے گھر میں حبسِ بیجا میں رکھا ہوا تھا جس میں شریعت اللہ کے والد اور اس کے بھائی نے بھی مدد کی تھی۔ جیسے ہی سیکیورٹی اہلکاروں نے زاہد کو بازیاب کروانے کے لیے اس کے گھر پر چھاپہ مارا تو شریعت اللہ زاہد محمود کو لے کر پہاڑوں کی جانب فرار ہوگیا۔

اس کے بعد شریعت اللہ کے بھائی حیات نے سیکیورٹی فورسز کے خلاف ایک ویڈیو بیان دیا تھا تاہم ملک متورکے اس کی نفی کرتے رہے اور انہوں نے کہا کہ اس واقعے کے وقت وہ اپنے گھر میں موجود تھے۔ اس کے بعد شریعت اللہ اور حیات کی والدہ یعنی متورکے کی بہن نے اس ضمن میں باقاعدہ ایک حلف نامے پر بھی دستخط کیے تھے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔