علیم خان کی گرفتاری اورتحریک انصاف کی سرد مہری

مزمل سہروردی  پير 11 فروری 2019
msuherwardy@gmail.com

[email protected]

علیم خان نیب میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد ملک کا سیاسی منظر نامہ بدل گیا ہے۔ تحریک انصاف ان کی گرفتاری کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تحریک انصاف نے ان کے حق میں کوئی بھی رد عمل دینے سے گریز کیا ہے۔ بلکہ ان کی گرفتاری کے نقصانات سے بچنے کے لیے شہباز شریف پر سیاسی حملہ کر دیا ہے۔

یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تحریک انصاف اس برے وقت میں علیم خان کے ساتھ نہیں کھڑی ہے۔ بلکہ دن بدن فاصلہ بڑھایا جا رہا ہے۔ علیم خان کی گرفتاری پر ان کی سیاسی مدد کرنے اور ہمدردی کرنے کے بجائے اس کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

علیم خان کی تحریک انصاف کے لیے خدمات کوئی راز نہیں ہیں۔ آج تحریک انصاف جہاں کھڑی ہے اس میں علیم خان کی شب و روز محنت اور دولت کا بڑا حصہ ہے۔ انھوں نے دل کھول کر تحریک انصاف اور عمران خان کی ہر قسم کی سیاسی مہم پر خرچ کیا۔ اسی لیے ان کو اپنے سیاسی مخالفین سے تحریک انصاف کی اے ٹی ایم مشین کا طعنہ بھی سننے کو ملا۔

تحریک انصاف کے لاہور میں مینار پاکستان میں پہلے جلسہ سے لے کر آخری جلسہ تک ہر جگہ علیم خان نظر آتے ہیں۔ پہلے جلسہ کے لیے جب تحریک انصاف کے پاس پیسے نہیں تھے تو علیم خان سے مدد مانگی گئی تھی اور انھوں نے تب تحریک انصاف میں شامل نہ ہوتے ہوئے بھی جلسہ کو کامیاب کرانے کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ وہاں سے علیم خان کی تحریک انصاف میں آنے کی راہ ہموار ہوئی۔

علیم خان پر نیب کے یہ مقدمات اور الزامات اچانک سامنے نہیں آئے اور نہ ہی یہ نئے ہیں۔ جب انھیں تحریک انصاف میں شامل کیا گیا یہ سب الزامات اور مقدمات تب بھی موجود تھے۔ ان کی دولت جائز ہے یا ناجائز یہ سوال آج بے معنی ہے۔ تحریک انصاف کو یہ تب سوچنا چاہیے تھا جب علیم خان تحریک انصاف کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کرنے کے لیے جدوجہد کر رہے تھے۔ آج بیچارا جب گرفتار ہو گیا ہے تو ایسے منہ موڑا جا رہا جیسے اس سے کبھی کوئی تعلق نہیں تھا۔

ویسے تو عمران خان کو یہاں تک پہنچانے میں جہانگیر ترین اور علیم خان کا کلیدی اور بنیادی کردار ہے۔ یہ دونوں عمران خان کے سیاسی مخالفین کو کانٹے کی طرح چبھتے تھے۔ ان دونوں کو ٹارگٹ ہی اس لیے کیا گیا کہ عمران خان کے سیاسی مخالفین سمجھتے تھے کہ ان میں عمران خان کی جان ہے۔ ان دونوں نے عمران خان کی کامیابی کے لیے خو د کو قربان کر دیا ہے۔ پہلے جہانگیر ترین نا اہل ہوئے۔ انھوں نے اپنی نااہلی خوش دلی سے قبول کر لی۔ لیکن عمران خان کو وزیر اعظم بنانے کا سفر جاری رکھا۔

لیکن جہانگیر ترین اور علیم خان کے کیسزمیں مماثلت کے باوجود بہت فرق ہے۔ جب جہانگیر ترین نا اہل ہوئے تب ابھی تحریک انصاف اور عمران خان کو جہانگیر ترین کی ضرورت تھی۔اس لیے ان کی نا اہلی کے باوجود ان کی حمایت کی گئی۔ ان کے مقدمے کے دوران ان کا بھر پور دفاع کیا گیا۔ حتیٰ کے ان کی نااہلی کے بعد بھی ان کا دفاع جاری رکھا گیا۔ ان کی اہمیت کو کم نہیں کیا گیا۔ پہلے ان کے بیٹے کو ان کی جگہ ٹکٹ دیا گیا بعد میں ان کی بہن کو سینیٹ کا ٹکٹ دیا گیا۔ آج بھی وہ نا اہلی کے باوجود ہر فیصلہ میں شریک ہیں۔

دوسری طرف علیم خان کو پہلے وزیر اعلیٰ یہ کہہ کر نہیں بنایا گیا کہ ان پر نیب مقدمات ہیں۔لیکن نیب مقدمات تو کے پی کے وزیر اعلیٰ پر بھی ہیں۔ لیکن انھیںوزیراعلیٰ بنا دیا گیا۔ اس لیے جب تحریک انصاف نے نیب کے مقدمات کی وجہ سے انھیں وزیر اعلیٰ نہیں بنایا تب ہی آثار واضح ہو گئے تھے کہ ان کی سیاسی حمایت زیادہ عرصہ تک جاری نہیں رکھی جائے گی۔ پھر انھیں تحریک انصاف کی پنجاب سے صدارت سے بھی ہٹا دیا گیا۔

واقف حال بتاتے ہیں علیم خان نے وزیر اعلیٰ نہ بنائے جانے پر شدید احتجاج کیا تھا۔ ان کے موقف میں جان تھی کہ صرف ایک وزیر بننے کے لیے تو میں نے یہ سا ری اننگ نہیں کھیلی ہے۔ وزیر تو میں پچھلی نشستوں پر بیٹھ کر بھی بن سکتا تھا۔ اس کے لیے فرنٹ فٹ پر کھیلنے اور اے ٹی ایم کا لقب حاصل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔سنا ہے تب جہانگیر ترین نے معاملے میں بیچ بچائو کرایا۔ اور انھیں سینئر وزیر پر راضی کیا تھا۔

ایسا لگ رہاہے کہ آج جب علیم خان مشکل میں ہیں تو تحریک انصاف کی قیادت ان سے فاصلہ رکھ رہے ہیں۔ ان کی کوئی بھی مدد نہیں کی جا رہی۔ اگرسرد مہری کی اس صورت حال کو دیکھا جائے تو علیم خان کے ساتھ تحریک انصاف کا سلوک سوتیلے بیٹے کا نظر آ رہا ہے۔موجودہ حالات میںان سے سلوک انصاف پر مبنی نہیں لگ رہا۔

علیم خان کی گرفتاری کے بعد ان کی پیشی کے موقع پر تحریک انصاف کی قیادت میں سے ہمدردی اور یکجہتی کے اظہار کے لیے کوئی بڑا رہنما موجود نہیں تھا۔ علیم خان کے انتخابی حلقے سے ان کے چاہنے والے کارکن ضرور موجود تھے۔ لیکن تحریک انصاف کی طرف سے احتساب عدالت پہنچنے کی کوئی کال نہیں تھی۔ جب جہانگیر ترین کا کیس چل رہا تھا تو پوری تحریک انصاف عدالت پہنچتی تھی۔ علیم خان کے استعفیٰ کی کہانی بھی عجیب ہے۔

یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نیب کی حراست میں انھیں استعفیٰ دینے کا کہا گیا ہے اور پھر استعفیٰ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ ان کے پروڈکشن آرڈر کے لیے بھی تاحال کوئی پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ایسا لگتا ہے کہ اگر تحریک انصاف نے ان کے لیے پروڈکشن آرڈر کا آپشن استعمال نہ کیا تو وہ جیل میں ہی رہیں گے۔ علیم خان کو نیب حراست میں تو وہ رعایات بھی حاصل نہیں ہونگی جو اپوزیشن کے ارکان کو حاصل ہوتی ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میںتحریک انصاف کی جانب سے سوتیلے پن کے سلوک کے بعد علیم خان کا سیاسی کیرئیر بھی ختم ہوتا نظر آرہا ہے کیونکہ اب نیب سے مکمل کلیرنس حاصل کرنے میں انھیں بہت وقت لگ جائے گا۔ ابھی ضمانت میں چھ ماہ لگ جائیں گے۔ پھر ریفرنس فائل ہو جائے گا۔ پھر ریفرنس چلے گا۔ اس لیے یہ کہنا کہ علیم خان کبھی کلین چٹ حاصل کر کے واپس سیاست میں آجائیں گے ممکن نظر نہیں آتا۔

یہ تو وہی بات ہے کہ نہ نومن تیل ہوگا نہ رادھا ناچے گی۔ اس لیے بعض حلقے یہ کہہ رہے ہیں کہ علیم خان کا سیاسی کیرئیر ختم نظر آرہاہے  اطلاعات بھی یہی ہیں کہ علیم خان بہت رنجیدہ ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ علیم خان کو ایک نئی سیاسی اننگ کی تیاری کرنی چاہیے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ کیا سیاسی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں‘ مقدمات تو انھیں لڑنے ہی ہیں اور وہ مقدمات کا سامنا بھی کر رہے ہیں‘ اب ان کا اصل امتحان سیاسی میدان میں ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔