موبائل سے بہتر... کتاب دوستی

حافظ وارث علی رانا  منگل 12 فروری 2019
آج کا نوجوان بزرگوں کے تجربات کو پڑھ کر سیکھنے کے بجائے موبائل کی رنگینیوں میں کھو گیا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

آج کا نوجوان بزرگوں کے تجربات کو پڑھ کر سیکھنے کے بجائے موبائل کی رنگینیوں میں کھو گیا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

انسان شعور کی بلندی پر پہنچنے کےلیے علم کا محتاج ہوتا ہے اور علم کی منازل طے کرنے کےلیے کتاب کا محتاج ہونا پڑتا ہے۔ ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے۔ مگر افسوس کہ آج ٹیکنالوجی کی شکل میں کتاب کی جگہ موبائل فون نے لے لی۔ ہم اپنے اس عظیم دوست سے دور ہوتے جا رہے ہیں جو ہماری اخلاقی و معاشرتی تربیت کرتا ہے اور اس موبائل کو اہمیت دے رہے ہیں جو ہمیں فائدہ تو پہنچاتا ہے لیکن اس سے کہیں زیادہ نقصان بھی دے رہا ہے۔

کتاب محض دل نشیں لفظوں اور خوبصورت کاغذ کا امتزاج ہی نہیں بلکہ ہمارے بزرگوں اور رہبروں کی زندگی کے کٹھن تجربات کی عکاس بھی ہوتی ہے۔ ہم ان کے ماضی تجربات کو حالات کی کسوٹی پر پرکھ کر اپنے مستقبل کو سنوارتے ہیں۔ مگر آج کا نوجوان بزرگوں کے ان تجربات کو پڑھ کر سیکھنے کے بجائے موبائل کی رنگینیوں میں کھوگیا۔ آج موبائل ضرورت کے بجائے شخصیت کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ کسی کے پاس علم کی دولت ہو نہ ہو مگر مہنگا ترین موبائل ہونا ضروری ہے۔

اس موبائل نے ہماری اخلاقیات تباہ کرکے رکھ دیا ہے کیونکہ ہمارے ہاں موبائل کے منفی استعمال کا رجحان زیادہ ہے جس کی وجہ بھی تعلیم سے دوری اور تربیت کا فقدان ہے۔ موبائل فون ہمارے اعصاب کو اس قدر متاثر کر چکا ہے کہ ہم اپنی جان کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔ کچھ عرصہ قبل سندھ میں ایک دریا پر پل سے گزرتے ہوئے نوجوان طالب علم سیلفیاں بنا رہے تھے کہ وزن زیادہ ہونے کی وجہ سے پل ٹوٹ گیا اور چودہ سے پندرہ نوجوان اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس جائے حادثہ پر ایک پکوڑے فروش بھی موجود تھا جس کے پاس موبائل تو نہیں تھا لیکن انسانیت ضرور تھی۔ اس نے دریا میں کود کر دو نوجوانوں کو بچایا اور جب تیسرے کو بچانے کےلیے دریا میں کودا تو خود بھی دریا کی بے رحم موجوں کی زد میں آ کر شہید ہو گیا۔

پھر اس موبائل نے کئی گھر اجاڑ کر رکھ دیئے ہیں۔ قندیل بلوچ والا واقعہ زیادہ پرانا نہیں ہوا۔ اس کی موت کا سبب بھی موبائل ہی بنا۔ پھر یہ موبائل فون جرائم پیشہ افراد کا آسان اور متحرک آلہ بن چکا ہے۔

موبائل کی وجہ سے معاشرے میں فحاشی پھیل رہی ہے، نت نئے اسکینڈل، بلیک میلنگ، الزام تراشی، کردار کشی اور بدتمیزی کا طوفان برپا ہوچکا ہے۔ جدید دور میں موبائل کی اہمیت اپنی جگہ مگر اس کے منفی اثرات کے پیش نظر کتاب دوستی ہی بہتر ہے۔ مطالعہ کتب سے نہ صرف ہماری ذہنی نشوونما ہوتی ہے بلکہ پریشانی کے عالم میں ہماری دلچسپی کا ذریعہ بھی بنتی ہے۔ کتاب دوستی کے کوئی منفی اثرات نہیں ہوتے بشرطیکہ آپ علمی، ادبی، معاشرتی، تاریخی اور معلوماتی نصاب کا چناؤ کریں؛ اور کتاب دوستی سے مستفید ہوں۔ کیونکہ کتابیں ہمیں علم و ادب سکھاتی ہیں۔ معاشرتی آداب اور تاریخ کے حقائق ہمیں کتابوں سے ہی ملتے ہیں۔

کاش کہ کوئی بڑی سماجی تباہی پھیلنے سے پہلے کتاب کی اہمیت کا اندازہ ہوجائے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔