کراچی میں کانگو وائرس کی واپسی

ایڈیٹوریل  بدھ 13 فروری 2019
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی محکمہ صحت کے اہلکار غفلت کی نیند سورہے ہیں۔ فوٹو: فائل

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی محکمہ صحت کے اہلکار غفلت کی نیند سورہے ہیں۔ فوٹو: فائل

کراچی میں کانگو وائرس کے نتیجے میں پینتیس سالہ خاتون جاں بحق ہوگئی ۔ خاتون ،کانگوکریمین ہیمرجک فیور میں مبتلا تھیں اور یہ سال رواں کا پہلا کیس ہے۔گزشتہ برس اس وائرس کے نتیجے میں کراچی میں 16 اموات ہوئی تھیں جب کہ41 مریضوں میں یہ وائرس پایا گیا۔

انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ کراچی کے نجی اور سرکاری اسپتالوں میں اس مرض میں مبتلا مریضوں کے لیے کوئی سہولت یا ادویات سرے سے موجود ہی نہیں ہیں۔ جان لیوا وائرس کا سائنسی نام کریمین ہیمرجک کانگو فیور ہے، جو تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے ۔ مریض میں انفیکشن کے بعد جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے، خون بہنے سے مریض کی موت واقع ہوسکتی ہے ۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ مختلف مویشیوں ، بکریوں ، بکرے ، گائے ، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جانے والی کیڑے چیچڑی اس مرض کے پھیلاؤ کا سبب ہیں ۔کانگو وائرس سے متاثر جانورکا خون پینے کے بعد یہ چیچڑی اگر انسان کوکاٹ لے یا متاثر جانور ذبح کرنے کے دوران بے احتیاطی کی وجہ سے قصائی کے ہاتھ پرکٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ ہمارے یہاں ذبح شدہ جانوروں کا گوشت انتہائی غیرمحتاط طریقے سے کھلی جگہوں پر فروخت کیا جاتاہے۔

ماہرین طب کے مطابق متاثرہ افراد پانی زیادہ پئیں،گھرکے گرم مشروبات یخنی، نوش کریں ایسی صورت میں بازارکی تلی ہوئی اشیا، کھٹی اورٹھنڈے اشیاکے استعمال سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صوبائی محکمہ صحت کے اہلکار غفلت کی نیند سورہے ہیں اورعوام اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہے ہیں،اس جان لیوا مرض کے حوالے سے آگاہی اور شعور بیدارکرنے کی ضرورت ہے تاکہ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع روکا جاسکے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔