این آر او ضروری، مگر شرائط کیا ہیں؟ 

علی احمد ڈھلوں  بدھ 13 فروری 2019
ali.dhillon@ymail.com

[email protected]

تحریک انصاف کو اقتدار میں آئے 6ماہ ہو چکے ہیں، اس دوران عمران خا ن نے اپنے بیانات اور تقریروںمیں ’’این آر او‘‘ کا لفظ کم سے کم 16مرتبہ استعمال کیا ہے جب کہ اس سے زیادہ مرتبہ اس لفظ کا استعمال اُن کے وزراء نے کیا ہے۔

ایسے میں یہ سوال تو بنتا ہے کہ یہ این آر او ہے کیا چیز اور کون اور کیوں ان سے وہ چیز مانگ رہا ہے جو وزیراعظم انھیں دینے پر ہرگز آمادہ نہیں۔ آئیے یہ اور اس ’’این آر او‘‘ سے جڑی دوسری گتھیاں سلجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

قومی مفاہمتی آرڈیننس (این آر او)ایک صدارتی آرڈیننس (National Reconciliation Ordinance) ہے جسے سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے 5 اکتوبر 2007ء میں جاری کیا۔اس صدارتی آرڈیننس کے ذریعے صدر مملکت نے قانون میں ترمیم کرتے ہوئے ان تمام مقدمات کو ختم کرنے کا اعلان کیا جو یکم جنوری 1986ء سے لے کر 12 اکتوبر 1999ء کے درمیان ’’سیاسی بنیادوں‘‘ پر درج کیے گئے تھے۔

اس آرڈیننس کے نتیجے میں آٹھ ہزار سے زائد افراد کے خلاف بدعنوانی اور دیگر سنگین جرائم جن میں قتل، اقدام قتل اور بلوے کے ملزم بھی شامل تھے، بیک جنبش قلم، ختم کر دیے گئے۔تاہم دو برس بعد سپریم کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اس آرڈیننس کو مفاد عامہ اور آئین کے خلاف قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا جس کے بعدیہ مقدمات دوبارہ کھل گئے تھے۔

بنیادی طور پر یہ قانون اس وقت پیپلز پارٹی کی جلا وطن سربراہ بینظیر بھٹو کی پاکستان اور پاکستانی سیاست میں واپسی کو ممکن بنانے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ بینظیر بھٹو اور ان کی جماعت کے دیگر سیکڑوں رہنماؤں اور کارکنوں، جن میں ان کے شوہر آصف علی زرداری بھی شامل تھے،کے خلاف 1986ء اور 1999ء کے درمیان ڈھیروں مقدمات درج کیے گئے تھے۔

ان مقدمات کی موجودگی میں بینظیر بھٹو اور ان کے ساتھی وطن واپس نہیں آ سکتے تھے جب کہ جنرل پرویز مشرف انھیں ملکی سیاست میں واپس لانا چاہتے تھے تاکہ ملک اور اپنے آپ کو بڑے سیاسی بحران اور بین الاقوامی دباؤ سے محفوظ رکھ سکیں۔ اس آرڈیننس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی اور بعض دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ بڑی تعداد میں سرکاری ملازمین کے خلاف مقدمات خارج کر دیے گئے۔اس قانون سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد آٹھ ہزار سے زیادہ بنتی ہے جن میں اس وقت کی متحدہ قومی موومنٹ کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف بھی بڑی تعداد میں مقدمات ختم ہو گئے تھے۔

اس جماعت کے سیکڑوں کارکن اور رہنما قتل، بھتہ خوری اور بلوے کے مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھے۔جن دیگر اہم افراد کے خلاف اس این آر او کے تحت مقدمات ختم کیے گئے، ان میں حاکم علی زرداری، ایم کیوایم کے قائد، سابق گورنر عشرت العباد، فارق ستار، مولانا فضل الرحمٰن، رحمٰن ملک، حسین حقانی، سلمان فاروقی وغیرہ شامل تھے۔ سپریم کورٹ سے اس آرڈیننس کو کالعدم قرار دیے جانے کے بعد یہ مقدمات دوبارہ کھل گئے تھے لیکن اس وقت بینظیر بھٹو اس دنیا میں نہیں تھیں اور آصف زرداری کو صدر مملکت ہونے کی وجہ سے ان مقدمات سے استثنیٰ حاصل ہو چکا تھا۔بعض دیگر افراد جن میں اس وقت کے بعض وزرا بھی شامل تھے مقدمات کھلنے کی وجہ سے کچھ پریشان تو ہوئے لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت ہونے کی وجہ سے کوئی بڑی گرفتاری عمل میں نہیں آئی تھی۔

شکایت کہاں نہیں ہوتیں اور اختلاف کس سماج میں نہیں ہوتا؟ مہذب معاشروں میں مذاکرات اور مکالمے کا باب کبھی بند نہیں ہوتا، مفاہمت ہر سیاسی نظام کی پہلی ضرورت رہی ہے۔ معاملات جب غیر معمولی الجھائو کا شکار ہو جائیں تو اصلاح کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہاں !اب سوال یہ ہے کہ کیا اب دوبارہ این آر او ہو سکتا ہے؟ ہو سکتا ہے۔ کیوں نہیں ہو سکتا؟ جب ہمارا سارا نظام ہی این آر او پر کھڑا ہے تو اس بار این آر او کیوں نہیں ہوسکتا؟ مگر سوال یہ بھی ہے کہ اس این آر او کی شرائط کیا ہوں گی؟ اس پر بات ہو سکتی ہے کہ این آر او کی شرائط کیا ہوں، لیکن اس کی اہمیت سے کوئی سیاسی قوت انکار کیسے کر سکتی ہے؟

این آر او کا مطلب ایک ایسے باہمی معاہدے تک پہنچنا ہے،جو سیاسی سفر کو ہموار بنا دے۔ حکومت کو یہ بھی علم ہے کہ این آر او اِس وقت اپوزیشن سے زیادہ حکومت کی ضرورت ہے۔کیوں کہ حکومت کو کارکردگی دکھانی ہے، ڈلیور کرنا ہے، اور اگر یہ حکومت پانچ سال میں ڈلیور نہ کر سکی تو ہم بھی اُسی طرح اس کی مخالفت کریں گے جس طرح گزشتہ سیاسی جماعتوں کی مخالفت کرتے رہے۔ لہٰذاحکومت کے لیے کچھ کرنا سیاسی و سماجی استحکام کے بغیر ممکن نہیں۔حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ سارے دروازے بند کرنے کے بجائے سیاسی استحکام کا سہارا لے ، سختی بھی کرے، کرپٹ اورلٹیرے سیاستدانوں سے پیسے بھی نکلوائے اور مفاہمت کا راستہ بھی کبھی بند نہ ہونے دے۔

ایسا میں اس لیے کہہ رہاہوں کیوں کہ 2دن پہلے وزیر اعظم عمران خان نے بلوکی میں عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ ’’جس کسی نے بھی ملک کا دیوالیہ نکالا ہے، ہم اُس کو بھی نہیں چھوڑیں گے۔ لٹیروں کو این آر او دینا ملک سے غداری کے مترادف ہوگا۔ اس سے پہلے دیے گئے 2این آر اوز نے پاکستان کو مقروض کردیا جس کی قیمت عوام کو مہنگائی کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔ 10 برس میں ملک کو تباہ کرنے والے اب کہتے ہیں کہ 6 ماہ میں پی ٹی آئی کچھ نہیں کر سکی ‘‘۔ اسی طرح حکومتی وزراء کے بیانات بھی بڑھ چڑھ کر پیش کیے جارہے ہیں لیکن میرے خیال میں عمران خان حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جمہوریت میں طاقت بے مہار نہیں ہوتی۔ یوں بھی طاقت سے مسائل حل ہوتے تو ’’تبلیغ‘‘ کا راستہ اختیار نہ کیا جاتا۔ اس لیے ان لوگوں سے نمٹنا عام آدمی کا کام نہیں ۔

میری تمہید کا قطعاََ مقصد یہ نہیں ہے کہ ان لوگوں کو این آر او دے کر گھر بھیج دینا چاہیے بلکہ ایسا این آر او کرنا چاہیے جس سے ملک کو فائدہ ہو، ایسا این آر او نہیں کرنا چاہیے جس سے بدعنوان لوگوں کو دوبارہ سیاست میں آنے کے لیے راستہ فراہم کر دیا جائے۔ یا مہینوں سالوں کے لیے باہر بھیج دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ آکر کرپشن کریں۔ ہونا یہ چاہیے کہ جس طرح سرکاری افسروں پر کرپشن ثابت ہونے کے بعد انھیں دوبارہ کوئی بڑا عہدہ نہیں دیا جاتا اسی طرح سیاستدانوں کے لیے بھی یہ قانون بنایا جانا چاہیے کہ دوبارہ انھیں اقتدار میں آنے کے لیے راستہ نہ دیا جائے۔

اس سے پہلے مشرف بھی جب اقتدار میں آئے تو انھوں نے بھی ایسے ہی کہا تھا مگر عالمی دبائو کی وجہ سے انھیں بھی کمزور شرائط پر اکتفا کرنا پڑا تھا، لہٰذاعمران خان کے پاس وقت ، اختیار سب کچھ ہے اس لیے انھیں چاہیے کہ وہ ملکی مفاد میں بہترین فیصلہ کریں ۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔