اپنا کام اور دوسروں کا کام

سعد اللہ جان برق  بدھ 13 فروری 2019
barq@email.com

[email protected]

آخر باباجی چلے گئے کیونکہ جس کو آنا ہوتا ہے اسے ایک دن جانا بھی ہوتا ہے۔ یہ اس ’’باغ‘‘ کا اصول ہے جو باغبان نے بنارکھا ہے، اس باغبان کو پشتو میں ’’باغوان‘‘ اور ہندی میں بھگوان کہتے ہیں۔ پشتو کا ایک خوبصورت گیت ہے کہ:

لیلو باغ د باغوان دے

مونگہ شنہ طوطیان یو نن دلے سبا بہ زو نہ

یعنی باغ تو باغبان کا ہے ہم تو ’’ہرے طوطے‘‘ ہیں، آج ہیں کل چلے جائیں گے۔ حافظ شیراز نے بھی کہا کہ

در ہوا چند معلق زنی و جلوہ کنی

اے کبوتر نگراں باش کہ شاہین آمد

یعنی تم ہوا میں کب تک رہو گے اور جلوے دکھاوگے۔ اے کبوتر دیکھو وہ شاہین آ رہا ہے۔ ایک اور پشتو شعر شاید خوشحال خان خٹک کا ہے کہ موت ایک ’’باز‘‘ کی طرح ہے جو کبوتر کو ہوا ہی میں دبوچ لیتاہے۔

موت ایک تو جسم کی ہوتی ہے لیکن ایک موت ہمارے ہاں’’ریٹائرمنٹ‘‘ کی بھی ہوتی ہے۔ جس سے کچھ لوگ تو واقعی مر جاتے ہیں اور ہندی نظریے کے مطابق مکتی یاموکش یعنی نجات حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ جن کی کچھ آرزوئیں تمنائیںبلکہ ’’انتقام‘‘ ادھورے رہ جاتے ہیں وہ یہاں وہاں بھٹکتے پھرتے ہیں اور اپنی ادھوری خواہشات کے لیے بھوت بن جاتے ہیں۔ ہمارے ہاں یہ عقیدہ تو نہیں کہ غیرفطری موت مرنے والے بھوت بن جاتے ہیں لیکن یہ عقیدہ بلکہ عقیدہ نہیں حقیقت ہے کہ ’’ریٹائرمنٹ‘‘ کی موت مرنے والے ’’دانشور‘‘ بن جاتے ہیں، اور قوم سے انتقام لے کر اپنی تشنہ آرزوں کی تکمیل کرتے رہتے ہیں۔ اور جب سے یہ کم بخت ٹی وی کا جہان نما آیا ہے تب سے تو ریٹائرمنٹ کی موت مرنے والے بے تحاشا دانشور بھوت بن کر قوم سے انتقام لینے لگے ہیں۔

بابا جی بھی اس پراسس سے گزرتے ہوئے اب اس مقام پر پہنچ چکے ہیں۔ وہ اگرچہ خوب متحرک رہے ہیں اور ہمارے خیال میں اپنی بولیاں خوب خوب بول چکے ہیں لیکن کیا پتہ کچھ رہ بھی گئی ہوں، یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ وہ موکش پا چکے ہیں یا کچھ تشنہ آرزوں کی تکمیل کے لیے سرگرم ہوتے ہیں۔

اب کے جو نئے باباجی آئے ہیں، انھوں نے پہلی بات یہ کہی ہے کہ وہ دیکھیں گے۔کہ ’’کس کس‘‘ نے کسی دوسرے کے ’’کام‘‘ میں مداخلت کی ہے۔ بات بڑی خوش کن اور اطمینان بخش ہے اور اگر ایسا ہو گیا تو سمجھ لیجیے کہ سب کچھ ہو گیا۔ خدا ان کے ارادوں میں برکت دے اور ان کا حامی و مددگار ہو۔ اس دعا از من و جملہ جہاں آمین باد۔

لیکن کام انتہائی مشکل ہے کیونکہ۔ ایں خانہ ہمہ آفتاب است۔ یعنی یہاں اب تک اگر کچھ ہوا ہے اور ہوتا رہا ہے تو وہ یہی کام ہے کہ ترکھان لوہا کوٹنے میں لگا ہے۔ لوہار سنار بن کر گہنے بنا رہا ہے، نائی کپڑا بنُ رہا ہے اور جولاہا جوتے گانٹھ رہا ہے، تعمیر کرنے والا تخریب میں لگاہوا ہے، صحت والا بیماریاں بیچ رہاہے، تعلیم والے جہالت پھیلا رہے ہیں، محافظ چوریاں کر رہا ہے، جرائم ختم کرنے والے جرائم خانے کھولے بیٹھے ہیں، بلی گوشت کی چوکیدار بنی ہوئی ہے، گھوڑا گھاس کا رکھوالا ہے۔ قاتل مسیحائی کر رہا ہے، صحرانشین مچھلیاں پکڑ رہا ہے اور ماہی گیر سرابوں میں جال ڈالے ہوئے ہیں، رہزن رہنما بنے ہوئے ہیں اور رہنما ۔۔۔؟

ہرایک منزل کا پتہ پوچھ رہا ہے

گمراہ میرے ساتھ ہوا رہنماء بھی

مطلب یہ کہ بہت بڑا کام ہے۔ شاید کرنے میں زمانے لگیں لیکن ہر کام اگر شروع کیا جائے تو کبھی کبھی پورا بھی ہو جاتا ہے، اللہ توفیق دے۔

اگر ابتدا میں ہو گیا تو مبارک ہو گا۔ ازحد مشکل اس وجہ سے ہے کہ ابھی ابھی عنقریب جو دن گزرے ہیں اس میں ’’یہ کام‘‘ یعنی اپنا کام چھوڑ کر دوسروں کے کام میں مداخلت کا سلسلہ اپنے عروج پر رہا ہے۔ شراب سیخ پر ڈالنے اور کباب کو شیشے میں ٹھونسنے کا کام ہی لوگوں نے اپنا بنایا ہوا تھا۔

ایک واقعہ یاد آ رہا ہے: ایک کالج میں ایک تقریب تھی جس میں طلبا کے درمیان تقریروں اور شاعری کا مقابلہ تھا۔ دوچار ’’جج‘‘ بھی بٹھا دیے گئے تھے۔

ہماری بدقسمتی سے پروگرام بہت زیادہ طویل ہو گیا، تنگ آ کر ہم چپکے سے باہر نکلے اور دھوپ سینکنے لگے۔ وقفے وقفے سے پوچھتے رہے کہ ’’مشاعرہ‘‘ ختم ہو گیا ہے، ابھی کتنا باقی ہے، آخر خدا خدا کر کے یہ مژدہ سننے کو ملا کہ بس آخری دو تین شاعر رہ گئے ہیں چنانچہ ہم بھی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے لیکن ان دو تین شاعروں میں بھی خدا نے اتنی برکت ڈالی کہ دس بارہ ہو گئے۔ لیکن اس کے بعد اعلان ہوا کہ اب جج صاحبان بھی اپنا کلام سنائیں گے۔ جج تو جج ہوتے ہیں چنانچہ ٹائم بھی نکال دیاگیا اور غالباً پانچ یا چھ جج حضرات نے بھی اپنا اپنا کلام جی بھر کر سنایا۔

آخر میں عمر قید کی سزا پانے والے پریزیڈم کی باری آئی تو ہمارے ایک ساتھی نے نکتہ اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا منجمنٹ کرنے والوں کاکام صرف ججمنٹ ہوتا ہے لیکن یہاں ججوں نے اپنا کام چھوڑ کرکلام سنانا شروع کر دیا۔ اس کے بعد ہماری باری تھی جج صاحبان وصاحبات کچھ خجل ہو رہے تھے۔ تب ہم نے عرض کیا کہ کوئی بات نہیں۔ آج اپنے ہاں یہ ٹرینڈ نکلا ہوا ہے کہ جج لوگ اپنے کام کے بجائے دوسروں کے کام میں مصروف ہیں۔

مشاعرہ کے جج ہائے کرام سے پیشگی معذرت کے ساتھ گزارش ہے کہ ثواب کا کام اور اچھا کام پہلے اپنے آپ اور اپنے گھر سے شروع کیا جائے تو اس میں بڑی برکت ہوتی ہے۔کھجور کھانے سے صرف وہی منع کر سکتا ہے جس نے کھجوریں نہیں کھائی ہوں اور پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ یہی ہے اس لیے سارا ملک ’’کھجوریں‘‘ کھا رہا ہے۔

اب اگر جج صاحبان مقدمات کے ایک بہت بڑے انبار کے اوپر گزر کر ڈیم بنانے لگیں گے تو ڈیم بنانے والے کیاکریں گے، وہ مقدمات کے فیصلے تو کر نہیں سکتے اس لیے مقدمات بڑھانے کاکام ضرور کریں گے۔

اپنے ملک کا توپتہ نہیں کیونکہ اعداد وشمار کاکام بھی یہاں دوسرے کرتے ہیں لیکن پڑوسی ملک کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہاں اتنے مقدمات عدالتوں میں پڑے ہوئے ہیں کہ آیندہ تین سو سال میں بھی فیصلے نہیں ہو پائیں گے اور یہ مقدمات ان دکھی چوٹ کھائے ہوئے ظلم کے شکار اور انصاف کے طلبگار لوگوں کے ہیں جن کا واحد سہارا انصاف کا دروازہ ہوتا ہے لیکن انتظار کرتے کرتے وہ بوڑھے اور پھر ’’کوڑھے‘‘ ہو جاتے ہیں اور آخرکار اپنے مقدمات لے کر اوپر والے بڑے منصف کے پاس چلے جاتے ہیں۔

ہماری جان پہ بھاری تھا غم کا افسانہ

سنی نہ بات کسی نے تو مر گئے چپ چاپ



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔