سعودی شاہی خاندان کے دل میں پاکستان کیلیے ہمیشہ نرم گوشہ رہا

رضوان آصف  بدھ 13 فروری 2019
برادرملک نے پاک بھارت جنگ اورایٹمی دھماکوں کے بعد پابندیوں میں ساتھ دیا۔ فوٹو: فائل

برادرملک نے پاک بھارت جنگ اورایٹمی دھماکوں کے بعد پابندیوں میں ساتھ دیا۔ فوٹو: فائل

لاہور: پاکستان کا سعودی عرب سے تعلق دل اور دھڑکن کی مانند ہے کیونکہ حرمین شریفین کی وجہ سے ہر مسلمان پاکستانی کا سعودی عرب سے والہانہ مذہبی لگاؤ ہے اور حرمین شریفین کے تحفظ کے لیے ہر پاکستانی جان قربان کرنے کو ہمہ وقت تیار ہے۔

سعودی شاہی خاندان کے دل میں پاکستان کے لیے ہمیشہ نرم گوشہ رہا، مشکل گھڑی میں پاکستان کاساتھ دیا،سعودی عرب کے ولی عہد شہزاد محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان بھی دونوں ملکوں کے مضبوط برادرانہ تعلقات کا اظہار ہے۔

سعودی عرب ان اولین ممالک میں شامل جنھوں نے قیام پاکستان کے بعد اس کو سفارتی سطح پر تسلیم کیا ۔1951 میں دونوں ملکوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کا نیا دورشروع ہوا۔1965 اور1971ء میں پاک بھارت جنگ میں سعودی عرب نے پاکستان کی بھرپور مددکی، افغانستان میں روسی مداخلت کے بعد پاکستان میں لاکھوں کی تعداد میں آنے والے افغان پناہ گزینوں کے بحران سے نمٹنے میں بھی سعودی حکومت سب سے آگے رہی۔1998 ء میں جب ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر عالمی پابندیاں عائد کی گئیں تو بھی سعودی عرب نے پاکستان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔

عمران خان نے وزیر اعظم بننے کے بعد پہلا سرکاری دورہ سعودی عرب کا کیا جہاں ان کا گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا گیا ،عمران خان کی خصوصی درخواست پر سعودی حکومت نے اسٹیٹ بینک پاکستان میں 3 ارب ڈالر جمع کروائے ہیں،موخر ادائیگی پر پاکستان کو 3 ارب ڈالر مالیت کا تیل دینے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ملازمت کے لیے ویزہ فیس میں 85 فیصد کمی کا بھی اصولی فیصلہ ہوچکا، سعودی عرب گوادر میں 10 ارب ڈالر کی آئل ریفائنری لگانے ، سیاحت، پٹرولیم، کھاد، فوڈ اور زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے دلچسپی لے رہا ہے۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔