اسٹاک مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے بعد تیزی

اسٹاف رپورٹر  بدھ 13 فروری 2019
کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 340کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا۔ فوٹو : فائل

کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 340کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا۔ فوٹو : فائل

کراچی: سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان سے وابستہ مثبت توقعات، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال میں بہتری اور آئی ایم ایف کی 6 ارب ڈالرکے قرضے فراہم کرنے پر رضامندی جیسی خبروں کے باعث پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں منگل کو اتارچڑھاؤ کے باوجود ایک بارپھر تیزی کے اثرات غالب رہے جس سے انڈیکس کی 40400 اور 40500 پوائنٹس کی 2 حدیں بحال ہوگئیں۔

پاکستان اسٹاک ایکس چینج مین تیزی کے سبب 52 اعشاریہ35 فیصد حصص کی قیمتیں بڑھ گئیں جبکہ حصص کی مالیت میں  29 ارب 40کروڑ37 لاکھ 68ہزار روپے کا اضافہ ہوگیا۔

ماہرین اسٹاک کاکہنا تھا کہ کاروباری دورانیے میں ایک موقع پر57پوائنٹس کی مندی بھی رونما ہوئی لیکن عالمی مارکیٹ می کوئلے کی قیمت میں کمی کی اطلاعات پر سیمنٹ کی بڑھتی ہوئی خریداری سرگرمیوں کے علاوہ انسٹی ٹیوشنز اور غیرملکیوں کی آئل و بینکنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کے باعث مذکورہ مندی ایک موقع پر311پوائنٹس کی مندی میں تبدیل ہوئی تاہم اختتامی لمحات میں پرافٹ ٹیکنگ کی وجہ سے تیزی کی مذکورہ شرح میں کمی واقع ہوئی نتیجتاً کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای 100 انڈیکس 269اعشاریہ75 پوائنٹس کے اضافے سے 40596 اعشاریہ28ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 159 اعشاریہ20 پوائنٹس کے اضافے سے 19451 اعشاریہ20، کے ایم آئی30 انڈیکس 967 اعشاریہ 56 پوائنٹس کے اضافے سے68352 اعشاریہ 96 اور پی ایس ایکس کے ایم آئی انڈیکس230 اعشاریہ97 پوائنٹس کے اضافے سے19754اعشاریہ 59ہوگیا۔

کاروباری حجم پیرکی نسبت 22اعشاریہ81 فیصد زائد رہا اور مجموعی طورپر 16کروڑ 59لاکھ74 ہزار 880حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 340 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا ۔

 



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔