سندھ ہائیکورٹ؛ لاپتا افراد کیس میں ڈی ایس پی کو تحویل میں لے لیا گیا

ویب ڈیسک  بدھ 13 فروری 2019
لوگ غائب ہیں کسی کو احساس ہی نہیں، اب کوئی پولیس افسر لاپرواہی کرے گا تو اس کو گرفتار کرنے کا حکم دیں گے، ہائی کورٹ

لوگ غائب ہیں کسی کو احساس ہی نہیں، اب کوئی پولیس افسر لاپرواہی کرے گا تو اس کو گرفتار کرنے کا حکم دیں گے، ہائی کورٹ

 کراچی: عدالتی احکامات کی تعمیل نہ کرنے پر لاپتا افراد کیس میں پولیس افسر کو تحویل میں لے لیا گیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں تین لاپتا افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی۔ لاپتہ افراد کا سفری ریکارڈ پیش نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ ہائی کورٹ نے ڈی ایس پی تصدق وارث کو کمرہ عدالت سے تحویل میں لینے کا حکم دے دیا۔ جسٹس نعمت اللہ پھلپھوٹو نے کہا کہ ڈی ایس پی کمرہ عدالت سے باہر نہیں جائے گا۔

عدالت نے لاپتا شہری عارف نظامی، محمد علی اور نعیم کی ٹریول ہسٹری طلب کی تھی تاہم پولیس ریکارڈ پیش کرنے میں ناکام رہی۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ لوگ غائب ہیں کسی کو احساس ہی نہیں، اب کوئی پولیس افسر لاپرواہی کرے گا تو اس کو گرفتار کرنے کا حکم دیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔