چیف جسٹس کا قتل کے مقدمے میں جھوٹی گواہی کا نوٹس

ویب ڈیسک  بدھ 13 فروری 2019
جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے، چیف جسٹس فوٹو:فائل

جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے، چیف جسٹس فوٹو:فائل

 اسلام آباد: چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قتل کے مقدمے میں جھوٹی گواہی کا نوٹس لے لیا۔

سپریم کورٹ جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف کارروائی کیلئے پرعزم ہے اور چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قتل کے مقدمے میں جھوٹی گواہی کا نوٹس لے لیا۔

سپریم کورٹ میں قتل کے ملزم محمد الیاس کی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت ہوئی تو عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر ملزم محمد الیاس کو بری کردیا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اس کیس کو جھوٹی گواہی دے کر خراب کردیا گیا، لیکن ہم جھوٹی گواہی دینے والوں کے خلاف کارروائی کریں گے۔

سپریم کورٹ نے کانسٹیبل خضر حیات کو جھوٹی گواہی دینے پر طلب کرتے ہوئے ڈی آئی جی آپریشنز لاہور کو اسے پیش کرنے کا حکم دیا۔ محمد الیاس پر 2007 میں پنجاب ضلع نارووال کے علاقے میں آصف نامی شخص کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ ٹرائل کورٹ نے اسے سزائے موت سنائی جبکہ ہائیکورٹ نے سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔