شاعر، ساقی، زینہ اور ادب فیسٹیول

اقبال خورشید  جمعرات 14 فروری 2019

شہر میں داخل ہوتے ہی سب سے پہلے مجھے اُس کا خیال آیا ۔ وہ، جس کا دل ایک شاعرکا تھا، اور ذہن ایک دانشور کا۔

حیدرآباد پر ایک خوبصورت صبح اتری تھی ، موسم خوش گوار تھا۔ ہماری منزل نیاز اسٹیڈیم تھی، جہاں چوتھا حیدرآباد لٹریچر فیسٹیول جاری تھا ، مگر وہاں پہنچنے سے پہلے مجھے اس کا خیال آیا، جس نے کہا تھا:

میں خاک سے نکلا ہوں محبت کے سفر پہ

سو اپنے بدن میں کہیں موجود نہیں ہوں

میں حیدرآباد میں تھا، جس کی ادبی فضا میں احسن سلیم مرحوم کی یاد رچی بسی تھی۔ اُدھر فردوس ہوٹل کو اپنی بیٹھک بنانے والے اس صاحب اسلوب شاعر نے کراچی منتقل ہونے کے بعد کیفے الحسن کو چنا ۔ حیدرآباد میں ’پتوں میں پوشیدہ آگ،’ ست رنگی آنکھیں ‘ اور’ منجمد پیاس ‘کی اشاعت ہوئی، کراچی میں’’ سخن زار‘‘ اور’’ اجرا ‘‘ جیسے پرچے نکالے، پھر ’اجرا تخلیقی مکالمہ ‘شروع کیا۔ پھر برسوں پرانی ٹی بی عود کر آئی اور چند روز بعد موت ۔

مگر کیا وہ چلا گیا؟ کیا’ اجرا‘ کے تسلسل کی صورت، اس محبت کی صورت جو اس کے چاہنے والوں میں سانس لیتی ہے، اپنی کلیات ’’ تصویر سخن‘‘ کی صورت کیا وہ باقی نہیں ہے؟کیا حیدرآباد میں داخل ہوتے ہی میں نے اُسے محسوس نہیں کیا تھا؟

حیدرآباد میں کچھ ہی گھنٹے گزرے۔ ایک سیشن کی میزبانی راقم الحروف کے پاس تھی، جس میں رفاقت حسین اور سید کاشف رضا کے فکشن پر بات ہوئی۔ ممتاز ناول نگار، محمد حنیف بہ طور تجزیہ کار موجود تھے، جو ہمارے ساتھ ہی کراچی سے ادھر پہنچے۔ یہ سیشن سہ پہر ہوا۔ شام میں سید کاشف رضا نے محمد حنیف سے ان کے تازہ ناول پر بات کی۔

جب ہم احسن سلیم کے شہر سے روانہ ہوئے، رات اتر رہی تھی، منزل دور تھی، اور موسم سرد۔

مگر چند روز بعد احسن سلیم پھر میرے سامنے آن کھڑا ہوا ، اپنی مشہور نظم’ املی کا پیڑ ‘ کے مانند ۔ اکادمی ادبیات میں، جہاں اس بے بدل قلم کار کی یاد میں ایک نشست کا اہتمام کیا گیا ۔ ادھر ناصر شمسی، رفیع اللہ میاں اور احسن سلیم کی صاحب زادی صائمہ احسن بھی موجود تھیں اور ہم اُسے یاد کرتے تھے۔ اس کا خاکہ لکھنے والے خاک ہوئے، وہ باقی رہا ۔ مجھے مائیک ملا، تو لازم جانا کہ اس کے مخلص دوستوں کا شکریہ ادا کردوں کہ ان کے دل محبت سے منور ہیں۔

اِسی دوران ایک اہم واقعہ ہوا۔ 1936ء میں شایع ہونے والے شاہد احمد دہلوی کے پرچے ’’ساقی‘‘ کا جاپان نمبر ۔۔۔ایک دیوانے نے پورے اہتمام سے، اُسی قدیم ہجے، ان ہی پرانے اشتہارات کے ساتھ ’’ری پرنٹ‘‘ کر دیا ۔ اور جاپان قونصل خانے میں اس کی تقریب کا اہتمام کیا، اور مجھے بھی اظہار خیال کے لیے مدعو کیا۔ یہ خرم سہیل کا ذکر ہے، جس نے یہ کتاب سامنے لا کر اردو کے عشاق کو حیران کر دیا کہ بہتوں کو خبر ہی نہیں تھی کہ ساقی کا جاپان نمبر کبھی شایع ہوا تھا۔

ادھر معین الدین عقیل، حکیم سعید کی صاحبزادی سعدیہ راشد اور آصف فرخی جیسی جید شخصیات موجود تھیں، اور درمیان میں تشریف رکھتے تھے جاپانی قونصل جنرل کازو ایسو مورا، جنھوں نے اپنے وسائل سے اس نادرکتاب کی اشاعت کا اہتمام کیا۔

جب ایسے صاحب علم ہوں، تو مناسب یہی تھا کہ ہم چند ہی منٹ لیں ۔ بس یہی خواہش ظاہرکی کہ 80 سال پرانے جاپان نمبر کے منظر عام پر آنے کے بعدآج کے ادیبوں، مدیروں پر لازم ہے کہ اب 2019ء میں ایک ایسا جاپان نمبر ترتیب دیں، جو حال کے قاری کو دوسری جنگ عظیم، ایٹمی حملے، سرد جنگ اور 9/11 پر جاپانی ادیبوں کے ردعمل کی آگہی دے کہ ان ہی واقعات نے گزشتہ سو برس میں عالمی ادب کے رخ کا تعین کیا۔

یکم فروری کو شہر قائد میں، جو سرد ہوائوں کی لپیٹ میں ہے، اور پہلے سے حسین لگتا ہے کہ اب یہاں پہلے کی طرح خون نہیں بہتا، اور سیاست ظلم کا نام نہیں ، پہلے سا جبر نہیں ، تو اس شہر میں ایک اور ادبی میلے کا آغاز ہوا۔ یہ تھا ادب فیسٹیول پاکستان، جس کے بانی ہیں ڈاکٹر آصف فرخی اور امینہ سید ۔ ہوا یہ گورنر ہائوس میں۔ عمران خان نے گورنر ہائوس کو عوام کے لیے کھولا، تو اس کا بہترین مصرف یہی کہ ادھر ادبی پروگرام ہوں۔

فیسٹیول یہ تین روز جاری رہا۔ مجموعی تاثر مثبت اور متاثر کن رہا۔ کوئی سرگرمیاں خامیوں سے مبرا نہیں ہوتی، بہتری کے لیے تجاویز دی جاسکتی ہیں، البتہ یہ ایک قابل تعریف کاوش تھی۔ اسی فیسٹیول میں شرکت کے واسطے مستنصر حسین تارڑ کا کراچی آنا ہوا ۔ دو ماہ قبل وہ آرٹس کونسل کی گیارہویں عالمی اردو کانفرنس میں شرکت کے لیے شہر قائد آئے تھے۔ مقبول ترین ادیب ہیں، چاہنے والے لاکھوں میں۔ کراچی میں موجود ان کے مداح خوشی خوشی ان کے سیشن میں پہنچے۔ ہم بھی گئے۔ وہ موجود تھے، تو ایک اور انٹرویو کا ڈول ڈالا۔ انھوں نے مہربانی فرمائی۔ ایک گھنٹے پر محیط گفتگو میں اشفاق احمد، انتظار حسین، عبداللہ حسین، الطاف فاطمہ، روحی بانو سمیت کئی شخصیت، اہم موضوعات پر بات ہوئی۔ یہ انٹرویو سوشل میڈیا پر موجود ہے۔

فیسٹیول کے اختتامی دنوں میں ڈاک سے ایک غیرمتوقع تحفہ ملا۔ یہ ناول تھا، سینئر فکشن نگار، خالد فتح محمد کا ناول’’ زینہ‘‘ جو نوجوان ناشر، نوفل جیلانی نے ارسال کیا۔

اپنی غفلت اور سستی کے باعث جن سینئر ادیبوں کو نہ پڑھ سکا،ان میں خالد فتح محمد سرفہرست ہیں۔ مگر چاہ تھی، سو کتاب ہاتھ آگئی۔ ابھی زیر مطالعہ ہے۔ معمول کے واقعے سے کھلنے والے اِس بیانیہ میں جوں جوں قدمچے پھلانگتا ہوں، کچھ غیرمتوقع، کچھ انوکھا قریب آتا جاتا ہے۔ کبھی یوں لگتا ہے کہ یہ مارکیز کی جادوئی حقیقت نگاری ہے، جہاں جادو عین حقیقت ہے۔ جیسے سیدھے سبھائو سے شروع ہونے والی کہانی پر پیچ دنیا میںداخل ہونے کو ہے۔

ناول ابھی جاری ہے، زینہ چڑھتا جا رہا ہوں ، قدمچے پھلانگ رہا ہوں ، دیکھیں ،کیا رونما ہوتا ہے!



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔