ماہِ نو کا منو بھائی نمبر 

امجد اسلام امجد  جمعرات 14 فروری 2019
Amjadislam@gmail.com

[email protected]

ایک زمانہ تھا کہ پی ٹی وی اپنے مرحوم رفقا اور فنون لطیفہ کے سرکردہ ناموں کے لیے خراج تحسین کے نام سے ایک پروگرام پیش کیا کرتا تھا جو بلاشبہ ایک بہت عمدہ اور قابل تعریف روایت تھی پھر پتہ نہیں کیوں اور کیسے یہ سلسلہ منقطع ہوگیا اوریوں ماضی اور مستقبل کو ملانے والا ایک اور خوبصورت پْل اس مجرمانہ غفلت کا شکار ہوگیا جس کی وجہ سے آج یہ شاندار اور تاریخ ساز خدمات کا حاصل ادارہ خود اپنی پہچان بھلا بیٹھا ہے۔

بلاشبہ منو بھائی کا شمار ان منتخب حضرات میں ہوتا تھا جن کی وجہ سے پاکستان میں ٹیلی ویژن کو غیرمعمولی شہرت اور مقبولیت ملی مگر افسوس کہ اس ادارے کے پاس اپنے اس روشن اور تابندہ ستارے کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ابھی تک وقت نہیں مل سکا۔ موجودہ ایم ڈی ارشد خان صاحب کی خصوصی توجہ سے ان کی برسی کے روز ان کو یاد تو کیا گیا مگر کیا ہی اچھا ہوتا کہ ان یادوں کو کسی باقاعدہ پروگرام کی شکل میں محفوظ کر لیا جاتا۔ ایک شعر ہے

عجب اصول ہیں اس کاروبار دنیا کے

کسی کا قرض کسی اور نے اتارا ہے

سو یہ توفیق وزارت اطلاعات پاکستان کی نگرانی میں شایع ہونے والے ماہ نامے “ماہِ نو” کو نصیب ہوئی کہ اس نے منو بھائی کی پہلی برسی کے موقعے پر ان کی یاد میں ایک خصوصی نمبر نہ صرف شایع کیا ہے بلکہ اسے ایک زندہ اور یاد رکھنے والی دستاویز بنا دیا ہے۔ مجھے یاد ہے چند برس قبل اس ادارے کے ایک اعلیٰ افسر برادرم سلیم بیگ نے مجھ سمیت کچھ احباب کو ایک چائے کے کپ پر مدعو کیا تھا اور اپنی گفتگو کے دوران اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ وہ نہ صرف اس رسالے کو تسلسل اور معیار کے ساتھ جاری و ساری رکھنا چاہتے ہیں بلکہ وقفے وقفے سے کچھ خاص نمبر بھی شایع کرنا چاہتے ہیں جن میں ادبی حوالے سے غیرمعمولی خدمات انجام دینے والے مشاہیر کو خاطرخواہ انداز میں خراج تحسین پیش کیا جائے گا ۔

اس طرح کی بے شمار سرکاری اور نیم سرکاری میٹنگز میں شرکت کے بعد یہ بات تقریبا طے ہوچکی تھی کہ ایسے دعوؤں کی یا تو سرے سے کوئی عمر ہوتی ہی نہیں یا یہ چند مہینوں میں (عموما متعلقہ شخص کے تبادلے کے ساتھ) ایک بھولی ہوئی داستان بن جاتے ہیں ۔سو ان محفلوں کو چائے کی پیالی کے ٹھنڈے یا ختم ہو جانے تک ہی سنجیدگی سے لینا چاہیے لیکن یکے بعد دیگرے فیض، فراز، احمد ندیم قاسمی، حبیب جالب، جوش اور سرسید کے حوالے سے ایسے عمدہ نمبر سامنے آئے کہ معجزوں پر یقین سا آنے لگا سلیم بیگ خود تو پروموشن اور ٹرانسفر کے سرکاری چکروں میں درمیان سے ہٹ گئے لیکن ان کا لگایا ہوا پودا اور بنائی ہوئی ٹیم اور روایت نے جس خوش اسلوبی سے اس کام کو آگے بڑھایا ہے اس کی داد نہ دینا یقینا زیادتی ہوگی یہ سب کے سب نمبر بہت سلیقے اور محنت سے ترتیب دیے گئے ہیں۔

منیر احمد قریشی المعروف منو بھائی کا بنیادی تعارف تو ان کی صحافت ہی ہے جس میں ان کا زیادہ کام بطور کالم نگار ہے جو انھوں نے کم و بیش ساٹھ برس لکھا اور جس کو ہر دور میں دلچسپی اور شوق سے پڑھا گیا اب یہ طے کرنا مشکل ہے کہ اس کا عنوان یعنی ’’گریبان‘‘ ان دونوں میں کس شعر سے زیادہ قریب پڑتا ہے

اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے

دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا

یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک

لیکن دیکھا جائے تو بطور ڈرامہ نگار مترجم اور شاعر بھی ان کا مقام کسی طرح کم نہیں عمر کے آخری بیس برسوں میں تھیلیسیمیا کے مریض بچوں کے لیے سندس فاؤنڈیشن کے ساتھ مل کر جو کام انھوں نے کیا وہ بھی انتہائی قابل قدر ہے کہ اس شعبے کی طرف بہت ہی کم توجہ دی گئی ہے۔

میرا ذاتی سطح پر ان سے دوستانہ تعلق ان کی تمام تر ادبی صلاحیتوں اور کارناموں سے ماوراء تھا کہ مجھے سب سے زیادہ محبت ان کے اندر کے معصوم اور دردمند انسان سے تھی ایک ایسا انسان جو اپنے جونیئرز کے لیے بھی سراپا محبت اور تعریف تھا جن سے عام روایت کے مطابق ان کا تعلق رقیبانہ ہونا چاہیے تھا دوسروں کے اچھے کاموں کی تعریف اور ان کی کامیابیوں سے خوش ہونے کا جو رویہ منو بھائی کا تھا اسے ڈھونڈنے کے لیے عمریں درکار ہو تی ہیں ان کے ڈرامہ سیریلز میں شہروں کی پسماندہ آبادیاں (جزیرہ) دیہات میں انسانی حقوق کی پامالی کا فرسودہ نظام (جھوک سیال) اور متوسط طبقے کی زندگی میں حالات کی مضحکہ  خیزیاں (سونا چاندی) جس خوبصورتی اور مہارت سے پیش کیے گئے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں۔

دوسرا شعبہ جس میں مجھے ان کی ہم سفری کا اعزاز حاصل رہا غیر ملکی ادب سے تراجم تھے بالخصوص فلسطینی شاعروں محمود درویش اور نزار قبانی کی نظموں کے تراجم مجھے شاید اس لیے بھی زیادہ پسند آئے کہ میں خود ان دونوں حضرات کو نہ صرف بہت پسند کرتا ہوں بلکہ میں نے خود بھی ان کی شاعری کے منظوم تراجم کیے ہیں۔ایسی شاندار جرات مندانہ اور تخلیقی نظمیں کسی بھی پنجابی شاعر کے یہاں نظر نہیں آتیں۔

’’ماہ نو‘‘ کے مرتبین نے اس نمبر میں ان کی زندگی شخصیت اور کارناموں کا بہت بھرپور انداز میں احاطہ کیا ہے جنھیں چھ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے1۔ سوانحی خاکہ 2۔ مضامین 3۔ گوشہ خراج تحسین بنام منو بھائی 4۔ انٹرویو5۔ گوشہء تخلیق (مختلف تحریروں سے انتخاب) اور 6۔ منو بھائی تصاویر کے آئینے میں جہاں تک اس نمبر کی ظاہری شکل و صورت کا تعلق ہے وہ بھی انتہائی عمدہ اور خوش رنگ ہے اور ٹائٹل کی تصویر تو ایسی ہے کہ جیسے ابھی بول پڑے گی۔ مجھے یقین ہے کہ اس خراج تحسین سے نہ صرف منو بھائی کی روح خوش ہو گی بلکہ ان سے محبت کرنے والے اور بعد میں آنے والے بھی اس کی معرفت ان سے ہم کلام ہوتے رہیں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔