دلوں کی چوری اور می ٹو

سعد اللہ جان برق  جمعرات 14 فروری 2019
barq@email.com

[email protected]

یہ تو وقت وقت کی بات ہوتی ہے بہت سی چیزیں جو پہلے رائج نہیں تھیں لیکن آج سکہ ’’رائج الوقت‘‘ ہوچکی ہیں بہت ساری چیزیں جو فضولیات میں تھیں آج ضروریات میں شامل ہیں۔

جو پہلے صرف’’مٹھو یا میاں مٹھو‘‘ ہواکرتاتھا’’می ٹو‘‘ کا کوئی نام ونشان نہیں تھا یہی شوبز اور خواتین کے کیرئیر بننے کی دنیا تھی لیکن لوگ آپس میں ’’یو ٹو‘‘ یا’’یو یو‘‘ اور ٹوٹو کرلیتے تھے۔ یہ ایلو ایلو اور می ٹو نہیں ہوتاتھا لیکن آج ہو رہاہے اور بہت ہورہاہے جو ٹکے سیر نہیں بکتے تھے یا سرمہ مفت نظر تھے وہ بھی آج می ٹو می ٹو کرکے اچھی خاصی دولت اور شہرت کما رہے ہیں۔

اسی نیاپن کے رجحان میں بھارتی شہرناگ پور کے ایک دل جلے بلکہ ’’دل لیے‘‘ شخص نے تھانے جاکر رپورٹ لکھوانا چاہی کہ ایک عفیفہ نے اس کا دل چرایا ہی نہیں بلکہ دن دھاڑے برسر بیچ بازار’’لوٹا‘‘ہے۔

پولیس والوں نے تو ہمیشہ کی طرح’’بے ثمر‘‘ پاکر رپٹ لکھنے سے انکار کردیا کہ قانون میں ایسی کوئی دفعہ نہیں ہے جو دل چوری یا سینہ زوری مطلب لوٹ مار سے متعلق ہو اس لیے معذرت۔

لیکن یہ مسئلہ بہرحال موجود تو ہے بلکہ بہت زیادہ موجود ہے اور ایک طرح سے اس کا تعلق ’’می ٹو‘‘ سے بھی بندھتاہے وہ اس لیے کہ جب ہم نے ’’می ٹو‘ کا ایک کیس دیکھا جس میں ایک گلوکارہ نے گلوکار پر ہراسانی یا ہراسمیگی یا ہراسمنٹ کا الزام لگایا تھا اور خاص طور پر جب اس گلوکارہ کی تصویر دیکھی تو آپ سے کیا چھپانا کہ ہمارے دل میں بھی ’’کچھ کچھ‘‘ ہونے لگا جس کے بارے میں ایک حکیم نے بتایا کہ ہراسمیگی یا ہراسمنٹ کے وائرس ہیں ابھی تک  ہیں کچھ کچھ ہورہاہے لیکن جب یہ جراثیم یا وائرس میچور ہوجائیں گے تو دل کے ’’زیاں‘‘ کا سبب بھی بن سکتے ہیں اور مریض چلا چلاکر کسی تھانے یا اسپتال کا رخ کر سکتا ہے۔

دل می رود زد ستم صاحب لاں خدا

دردا کہ راز پنہاں خواہد شد آشکار

یعنی اے صاحب دل لوگو۔دل میرے ہاتھ سے نکلا جارہاہے کچھ کرو ورنہ ’’راز پنہاں‘‘ می ٹو ہوجائے گا۔

جہاں تک اس جرم کا تعلق ہے جس میں دل کی چوری یا لوٹنے کی واردات ہوتی ہے یہ تو قدیم زمانے سے موجود تھا کیونکہ بزرگ شعراء نے اپنے دلوں کے بارے میں بہت کچھ بتایاہواہے۔فلاں میرا دل لے گیا فلاں نے میرا دل چرالیا۔بلکہ پیروں تلے کچل کر چور چور کردیا۔

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہ

دل میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچھا ہے

آپ تو جانتے ہیں کہ ہمارا مزاج ازحد محققانہ ہے اس لیے ہم نے دل چوری اور دل لوٹی کی وارداتوں کا نوٹس لیتے ہوئے فوراً ایک’’جے آئی ٹی‘‘لانچ کی کیونکہ اب یہ بھی ایک فیشن ہے کہ پہلے جن باتوں کی تحقیق ہوا کرتی تھی اب اس کے لیے ’’جے آئی ٹی‘‘ بنائی جاتی ہے کیونکہ خالص تحقیق کے نتائج بعض اوقات ناپسندیدہ اور ناخوشگوار بھی نکل آتے ہیں اور پھر اس تحقیق کو چھپانے کے لیے طرح طرح کے بہانے کیے جاتے تھے لیکن اب جے آئی ٹی کو پہلے سے علم ہوتاہے کہ بنانے والوں کی منشا کیا ہے اور ان کو کہاں کہاں کیسے کیسے جے جے آئی اور ٹی ٹی کرنا ہے تمہاری بھی جے جے اور ہماری بھی ٹی ٹی۔

سوہم نے بھی ایک جے آئی ٹی بنا دی جس میں ہم اور ہمارے ٹٹوئے تحقیق کے علاوہ ایک مستند شاعر بھی تھا جس کے ساتھ اب تک سب سے زیادہ دل کی چوری اور لوٹ مار بلکہ قتل کے واقعات ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے کہ ہم اپنی جے آئی ٹی رپورٹ آپ کی خدمت میں پیش کریں یہ وضاحت ضروری ہے کہ دل کی چوری اور لوٹ مار کے ساتھ ساتھ ہم نے ’’می ٹو‘‘ کو بھی شامل تحقیق کردیاتھا کیونکہ دونوں جرائم کا تعلق چولی دامن یا ناخن وگوشت کا ہے۔بلکہ مرغی اور انڈے یا شاعر وعاشق کا ہے۔جس طرح کسی کو یہ بات وثوق سے معلوم نہیں ہے کہ پہلے انڈا پیدا ہواتھا یا مرغی۔پہلے ناخن پیدا ہوا یا گوشت۔یا پہلے شاعر پیدا ہواتھا یا عاشق۔اسی طرح دل کی چوری یا سینہ زوری کا نتیجہ می ٹو۔اور می ٹو کا نتیجہ دل کی گمشدگی نکلتاہے۔

پراجیکٹ مشکل تھا لیکن ہماری جے آئی ٹی بھی کوئی ویسی نہ تھی۔چنانچہ آخر ہم اس نتیجے پر پہنچ گئے جس نتیجے پر ملک اللہ داد ناپرسان کا حکمران عالیشان انصاف کا روح رواں اور عادل زمان بادشاہ پہنچاتھا۔

قصہ تو آپ کویاد ہوگا چلیے احتیاطاً بتائے دیتے ہیں یہ مقدمہ ایک معصوم چور کے قتل بلکہ شہادت کا تھا جو ایک مکان میں اپنی معمول کی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہوئے دیوار تلے دب کر شہید ہواتھا۔چور کے لواحقین نے اپنے دوسرے پیشہ وروں کو ساتھ ملاکر بمقام انعام آباد اکرام آباد دھرنا دیا اور حکومت کو دھمکی دی کہ اگر اس معصوم اور اپنے معمول کے کام میں شہید چور کی شہادت پر حکومت نے نوٹس لے کر ذمے داروں کو کیفرکردار تک نہیں پہنچایا تو وہ سب اپنا اپنا دھندہ چھوڑ دیں گے جس کی وجہ سے حکومت کے تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے مفلوج ہوجائیں گے آمدنی ختم ہوجائے گی انھیں صرف تنخواہ پر گزارا کرنا پڑے گا۔

اور حکومت کو ان کی تنخواہیں بڑھا کر اس آمدنی کے برابر لانا پڑیں گی جو ہمارے’’دم قدم‘‘ سے ان کو ہوتی ہے اور یہ بہت بڑی پرابلم تھی کہ اگر چوروں، بدمعاشوں، لٹیروں، ڈاکوؤں نے اپنا دھندہ چھوڑ دیا تو قانون نافذ کرنے والوں کا ’’مندا‘‘ ہوجائے گا اور ساتھ ہی حکومت کا کاروبار بھی گندہ ہوجائے گا۔

چنانچہ فوراً نوٹس لیاگیا اور مالک مکان کو معصوم چور کی شہادت میں ماخوذ کرلیاگیا لیکن اس نے سارا الزام ٹھیکیدار پر ڈال دیا چونکہ حکومت کا سارا ذریعہ معاش ٹھیکیدار ہوتے ہیں اس لیے ٹھیکیدار کے کہنے پر معمار کو پابہ جولاں کردیا۔ معمار نے مزدور پر الزام منتقل کردیا، مزدور نے پانی ڈالنے والے بہشتی کو ملزم ٹھہرایا جس نے زیادہ پانی ڈال کر گارے کو بگاڑ دیا ، بہشتی نے ایک مست ہاتھی کو اپنی بے اوسانی کا ذمے دار ٹھہرایا۔ہاتھی والے نے ہاتھی کے بے قابو ہونے کی وجہ شاہی کنیز کے جھانجھروں اور گھونگروں کو ذمے دار ٹھہرایا۔اور آخری قرعہ فال سنار کے نام نکلا جس نے اتنے شوریلے پائل اور گھنگرو بنائے تھے۔

ہماری جے آئی ٹی نے اس مثال کو سامنے رکھ کر یہ تحیقق کی کہ یہ سارا کیا دھرا یعنی می ٹو اور دل چوری کی وارداتیں ان کاسمیٹکس کی وجہ سے ہوتی ہیں جو چندے کوے چندے کوے کو بھی چندے آفتاب اور چندے مہتاب بنادیتے ہیں اور درزیوں پر جو آج کل ڈریس ڈیزائنر یا اسٹائل اسپشلسٹ کہلاتے ہیں اب کا سمٹکس بنانے والے تو باہر کے ہیں اور ڈریس ڈیزائنر بھی پکڑے نہیں جاسکتے اس لیے کپڑے کے کارخانے والوں کو پکڑا جائے جو اگر کپڑے اتنے مہنگے نہ بیچتے تو لوگ دوچار گرہ کپڑا کیوں پہنتے۔لیکن اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو عاشقوں اور شاعروں کی آنکھوں میں سلائیاں پھیر دی جائیں کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے می ٹو کی بانسری۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔