وحدتِ ملت ہے ملت کی بقا!

ملک شفقت اللہ  پير 18 فروری 2019
پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد اسلامی ملک ہے اسی لیے مسلم دنیا پاکستان کو مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ (فوٹو: فائل)

پاکستان ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد اسلامی ملک ہے اسی لیے مسلم دنیا پاکستان کو مضبوط کرنا چاہتی ہے۔ (فوٹو: فائل)

سعودی عرب کے ولی عہد، ہز رائل ہائی نیس، شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز آل سعود، ڈپٹی پرائم منسٹر اور وزیر دفاع ہونے کے ساتھ ساتھ اقتصادی اور ترقی سے متعلق سعودی عرب کی سپریم کمیٹی کے چیئرمین بھی ہیں اور ویژن 2030 برائے اقتصادی ترقی کےلیے انہوں نے اپنے والد خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز آل سعود کے ویژن کو عملی شکل دیدی ہے۔ محمد بن سلمان کا دورہ پاکستان دونوں ملکوں کےلیے انتہائی اہم دورہ قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی بہترین خارجہ پالیسیوں، مسلم ممالک کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرنے کے مشن اور غیر مسلم ممالک کی جانب سے مسلم دنیا کے ساتھ ذلت آمیز رویہ اب مسلم ممالک کو قریب تر لا رہا ہے اور محمد بن سلمان کا یہ دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان کے پاکستان آمد کے سلسلے میں تیاریوں کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔ سی پیک کے بعد پاکستان میں سب سے بڑی سرمایہ کاری سعودی عرب کر رہا ہے۔ گوادر میں جو سی پیک منصوبہ پاکستانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بننے جا رہا ہے وہیں پاکستانی تاریخ کی سب سے بڑی آئل ریفائنری کے قیام سے پاکستان کو زرمبادلہ کی مد میں سات ارب ڈالر سالانہ بچت ہوگی اور گوادر، خطے میں تیل کی تجارت کا مرکز بن جائے گا۔ نئی آئل ریفائنری سے پاکستان کی تیل صاف کرنے کی یومیہ صلاحیت پانچ لاکھ بیرل تک پہنچ جائے گی۔

سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے بارہ ارب ڈالر کے امدادی پیکیج اور دس ارب ڈالر کی آئل ریفائنری سمیت اگلے تین سال میں مجموعی سرمایہ کاری پچیس سے تیس ارب ڈالر ہوجائے گی۔ چین کی طرح سعودی عرب کو بھی پاکستان میں سرمایہ کاری پر ٹیکس استثنیٰ ملے گا۔ مستقبل قریب میں معدنیات، پائپ لائن اور پیٹرولیم کے ذخیرے کی تعمیر میں بھی سرمایہ کاری کی تجویز ہے۔ پائپ لائن بننے سے سعودی عرب سے چین تیل کی ترسیل کا دورانیہ چالیس سے کم ہو کر سات دن رہ جائے گا۔ اس تاریخی دورے میں پاکستان اور سعودی عرب میں ناقابل شکست و ریخت بندھن مزید مضبوط ہوگا اور لازوال دوستی کی ایک نئی مثال قائم ہو جائے گی۔ دس سے زیادہ مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر جو دستخط سعودی ولی عہد اور وزیراعظم پاکستان کی موجودگی میں دونوں ممالک کے وزرا ایوان میں کریں گے، ان کی مالیت 15 ارب امریکن ڈالر سے کہیں زیادہ ہوگی۔

پاکستان اور سعودی عرب برادر اسلامی ممالک ہیں۔ دونوں ممالک مذہبی، ثقافتی، تہذیبی اور اخوت و محبت پر مبنی ایسے رشتے میں جڑے ہوئے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ مزید مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔ سعودی عرب نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ جنگ، سیلاب، زلزلہ اور ایٹمی دھماکوں کے بعد لگنے والی عالمی معاشی پابندیوں کے وقت سعودی عرب وہ واحد ملک تھا جو ہمارے شانہ بشانہ کھڑا رہا، حالانکہ تب عالمی برادری اکٹھی ہوکر پاکستان کو معاشی طور پر غیر مستحکم کرنے پر تلی ہوئی تھی۔ ایسے مشکل وقت میں سعودی عرب وہ واحد ملک تھا جس نے نہ صرف ہمیں مفت تیل فراہم کیا بلکہ ہماری معیشت کو مستحکم کرنے کےلیے بھی مدد کی۔

لیکن مشرف کے بعد زرداری اور نواز شریف ادوار میں ان تعلقات میں خاصی حد تک پیچ و خم آنے لگے جس کی وجہ ہماری ناکام خارجی و داخلی پالیسیاں تھیں۔ اس طرح سعودی عرب نے بھی دوسرے ممالک کا رخ کیا۔ سابقہ دور حکومت میں سعودی عرب نے بھارت کے ساتھ اربوں ڈالر کے معاہدے کیے جن سے ان کی معیشت کافی مضبوط ہوئی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ یمن وار میں پاکستان کی عدم دلچسپی کے باعث شہزادہ محمد بن سلمان یہ دورہ بھارت کا کرنے والے تھے لیکن ٹرمپ کے بیان کہ سعودی بادشاہ کی بادشاہت ’’ہماری وجہ سے ہے‘‘ کے بعد سعودی عرب نے اپنی پالیسیاں کسی حد تک بدل دی ہیں۔

مفادات تو سبھی ممالک کے ہیں، اور پوری دنیا میں مفادات ہی کی جنگ جاری ہے لیکن ایک بات واضح ہوچکی ہے کہ امریکا جو ورلڈ آرڈر بدلتا اور نافذ کرتا آیا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد اپنی اہمیت کھونے لگا ہے۔ اس سے امریکی عوام کو چاہے کتنا ہی فائدہ حاصل ہورہا ہو لیکن مسلم ممالک کو بھی بڑی حد تک فائدہ ہوا ہے۔ اسلامی ممالک کا رفتہ رفتہ اعتماد و تعلق مضبوط ہوتا دکھائی دے رہا ہے اور ایک نئے تعاونِ باہمی کی جانب قدم بڑھ رہا ہے۔ لیکن اس تعلق کو توڑنے کےلیے دشمنانِ اسلام و دشمنانِ پاکستان کو ہمیشہ غیر مستحکم دیکھنے کی خواہشمند قوتوں کو یہ بات کبھی ہضم نہیں ہوگی۔

عالم اسلام بھی جان چکا ہے کہ پاکستان ہی واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت رکھتا ہے اسی لیے وہ سب مل کر اب پاکستان کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں تاکہ وقت آنے پر انہیں فائدہ حاصل ہو، تاکہ پھر سے غیر مسلموں کے سامنے جھکنا نہ پڑے۔ اس صورتحال کا اگر مبہم سا جائزہ لیا جائے تو یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ سعودی عرب، پاکستان، چین اور متحدہ عرب امارات میں جو اعتماد کی فضائے نسیم بحال ہورہی ہے، اسے کالی گھٹا میں بدلنے کےلیے کچھ غداروں کا استعمال کیا جائے یا اسلام دشمن طاقتیں کھل کر سامنے آجائیں۔

ایران اور افغانستان کو خاص طور پر یہ سمجھ لینا چاہیے کہ بھارت اور امریکا کبھی ان کے حق میں اچھا نہیں سوچ سکتے، اسی لیے ان کے چہیتوں سے ملک کو آزاد کروائیں اور صرف اسلامی ممالک کے تعاونِ باہمی میں شامل ہو کر یکجان ہوجائیں کیونکہ عالم اسلام کی بقاء وحدت، محبت اور اخوت ہی میں ہے۔ داخلی سطح پر پاکستانی حکومت کی اس پالیسی کے خلاف پروپیگنڈے چلائے جا رہے ہیں جو اس امر کو عیاں کرتا ہے کہ ان ہی عناصر کی وجہ سے پہلے پاکستان عدم استحکام کا شکار ہوا، اور اب وہ اسے مستحکم دیکھنا نہیں چاہتے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔