گینگ وار کا خوف، لیاری جنرل اسپتال کے کئی شعبے بند، عوام طبی سہولتوں سے محروم

طفیل احمد  پير 29 جولائ 2013
15 کروڑ بجٹ کے باوجود مریض دوائوں سے محروم، پانی و بجلی ناپید،2 بجے دن بیشترشعبے بند کرکے تالے ڈال دیے جاتے ہیں. فوٹو: فائل

15 کروڑ بجٹ کے باوجود مریض دوائوں سے محروم، پانی و بجلی ناپید،2 بجے دن بیشترشعبے بند کرکے تالے ڈال دیے جاتے ہیں. فوٹو: فائل

کراچی: صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے لیاری جنرل اسپتال کے متعدد شعبے عملاً بندکردیے گئے۔

اسپتال کے شعبہ حادثات سمیت بیشتر شعبے دوپہر 2 بجے کے بعد بندکردیے جاتے ہیں ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی ا سپتال میں نصب کی جانے والی سٹی اسکین مشین بھی غیر فعال پڑی ہے جبکہ اسپتال میں کارڈک مرکز اور ڈائیلیسس کی سہولتیں بھی بندکردی گئیں ہیں،گینگ وارنے لیاری کے عوام کوطبی سہولتوں سے محروم کررکھا ہے، لیاری کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے اسپتال کا عملہ اور ڈاکٹر خوف زدہ ہیں جبکہ دیگر ماہرین طب اورعملہ لیاری جنرل اسپتال میں اپنے تبادلوںکے نام پرخوف زدہ ہوجاتا ہے۔

اسپتال میں نرسنگ عملہ بھی جانے کوتیار نہیں، اسپتال میں طبی سہولتیں معدوم ہوتی جارہی ہیں، لیاری کی موجودہ صورتحال کی وجہ سے گزشتہ کئی سال سے محکمہ صحت کے کسی وزیر یا اعلیٰ افسر نے لیاری جنرل اسپتال کادورہ نہیںکیا یہی وجہ ہے انتظامی افسران اپنی مرضی سے اسپتال آتے اورجاتے ہیں،اسپتال میں مریضوںکی تعداد انتہائی کم ہوگئی ہے، دوسری جانب اسپتال میں انتظامی سربراہ نہ ہونے سے اسپتال کے مسائل ہولناک صورت اختیار کرگئے، لیاری میں گینگ کی جاری جنگ اور کشیدگی نے اسپتال کی ساکھ اور افادیت کو ختم کردیا ہے جس سے منسلک لیاری میڈیکل کالج بھی متاثر ہورہا ہے۔

اسپتال کے متعدد شعبے عملاً بند ہوچکے ہیں ان میں حال ہی میںکروڑوں روپے مالیت سے تعمیرکیے جانے والا کارڈک سینٹر، سٹی اسکین مشین اور ڈائیلیسس یونٹ شامل ہیں جبکہ اسپتال میں پانی کا بھی مسئلہ پیچیدہ صورت اختیارکرگیا ہے،اسپتال کو مریضوں کیلیے15کروڑ روپے ادویات کا بجٹ فراہم کیا جاتا ہے لیکن اسپتال میںگزشتہ کئی ماہ سے مریضوں کو ادویات کی فراہمی بند ہے،مستند عملہ نہ ہونے کی وجہ سے سٹی اسکین مشین فعال نہیں ہوسکی جس کے باعث سٹی اسکین یونٹ بند کردیا گیا،اسپتال میں پانی اور بجلی کی صورتحال انتہائی خراب ہے ،اسپتال کے ملازمین نے بتایا کہ 2 بجے بعد اسپتال کے بیشتر شعبے بند کرکے تالے ڈال دیے جاتے ہیں.

اسپتال کے کئی شعبے بند جبکہ متعدد غیر فعال پڑے ہیں،اسپتال کاآئی سی یو یونٹ بھی فعال نہیں کیا جاسکاہے ، 500 بستروں پر مشتمل ٹیچنگ اسپتال کی وجہ سے لیاری میڈیکل کالج کی ساکھ بھی متاثرہورہی ہے، اسپتال میں جنوری 2012 سے 5 میڈیکل سپرٹنڈنٹس کو تبدیل کیا جاچکا ہے لیکن اسپتال کی کارکردگی میںکوئی بہتری نہیںلائی جاسکی،اسپتال سے جنوری2012 میں ڈاکٹر مختارخواجہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد ڈاکٹر لطف اللہ بلوچ ایم ایس بنے ڈھائی ماہ بعد انھیں ہٹادیاگیا ڈاکٹر عبدالستارکورائی ایم ایس بنے وہ بھی 2ماہ ایم ایس رہے بعدازاں ڈاکٹر خادم قریشی کو ایم ایس مقرر کیا گیا جو5ماہ انتظامی سربراہ رہے تاہم سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی کے بعد ڈاکٹرخادم قریشی کو ہٹا کر ڈاکٹر حیات بلوچ کو ایم ایس مقرر کیا گیا وہ ساڑھے تین ایم ایس رہے اس وقت لیاری جنرل اسپتال اے ایم ایس ڈاکٹر تنویر چاچڑ کی نگرانی میں چل رہا ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔