نفرت کے راگوں پر رقص کرتا ہندوستانی معاشرہ

محمد احمد  ہفتہ 16 فروری 2019
جب یہی فوجی کشمیر میں نہتے لوگوں کا قتل عام کرتے ہیں تو پورے بھارت کا ضمیر نیند کی گولی کھا کر سورہا ہوتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

جب یہی فوجی کشمیر میں نہتے لوگوں کا قتل عام کرتے ہیں تو پورے بھارت کا ضمیر نیند کی گولی کھا کر سورہا ہوتا ہے۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

رواں ہفتے ہندوستانی زیر تسلط کشمیر کے علاقے پلوامہ میں قابض فورسز پر ایک خودکش حملہ ہوا۔ مختلف میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حملے میں چالیس سے زائد ہندوستانی فوجی مارے گئے۔ اس حملے کے بعد ہندوستان میں دو مختلف، مگر متوقع نوعیت کے ردِعمل سامنے آئے۔ ردِعمل دو ضرور تھے، لیکن دونوں میں پاکستان سے نفرت کی ایک قدر نمایاں اور مشترک تھی۔

سب سے پہلے مودی سرکار کے ردِعمل کی بات کر لیتے ہیں۔ سرکار چاہے مودی کی ہو یا کسی اور کی، ایک بات تو طے ہے کہ ہندوستان میں کوئی بھی واقعہ ہو، سرکاری طور پر اس کی ذمہ دار ی پاکستان اور آئی ایس آئی کے سر ڈال دی جاتی ہے۔ اس کےلیے کسی تحقیق کی ضرورت ہی نہیں سمجھی جاتی۔ حملہ چاہے ممبئی میں ہو، دہلی میں یا پھر کشمیر میں، ہندوستانی سرکار اس کا ذمہ دار پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کو ہی قرار دیتی ہے، یہ انکی ریاستی پالیسی ہے۔

اس حملے کے بعد مودی صاحب نے کابینہ کی سیکیورٹی کمیٹی کا اجلاس بلایا، اور بعد ازاں پاکستان سے ’’پسندیدہ ترین ملک‘‘ کا درجہ واپس لے لیا۔ پھر مودی کابینہ کے اہم وزیروں نے پاکستان کے خلاف زہر اگلا، اور جنگ کی بڑھک ماری۔ محترم وزیروں کو سوچنا چاہیے کے یہ کوئی فلم نہیں کہ جس میں جعلی فوجی پاکستان کو دھمکی دیتے ہیں، ’’تم دودھ مانگوں گے ہم کھیر دیں گے، تم کشمیر مانگو گے ہم چیر دیں گے،‘‘ کیونکہ ہندوستان میں بسنے والے اصلی فوجی جانتے ہیں کہ پاکستانی فوج مکمل اہل ہے کہ ہندوستان سے کھیر بھی چھین لے، کشمیر بھی اور آخر میں چیر بھی دے۔

بہرکیف! ہر معاملے پر ہندوستان کا پاکستان پر الزام دھرنا، ہندوستانی ریاست کی بے بسی اور شکست کا اعتراف ہے کہ ایک حکومت خود ہی اعتراف کر رہی ہے کہ مخالف فوج ان کے ملک میں گھس کر کارروائی کر جاتی ہے، اور ان کی فوج میں بپن راوت جیسے لوگ محض بڑھک بازی تک ہی محدود رہتے ہیں۔

کشمیر میں ہونے والے اس تازہ حملے کا پاکستان سے کوئی سروکار نہیں، اور پاکستان کی کشمیر کےلیے مدد صرف سفارتی سطح تک ہی محدود ہے۔ جب ایک علاقے پر قابض فوجی نہتے لوگوں پر گولیاں برسائیں، تو اس کے جواب میں وہاں کے لوگوں کا ردعمل ایک فطری امر ہے، جسے پاکستان سے نتھی کرنا ہندوستان کی بوکھلاہٹ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

اب آتے ہیں دوسرے ردِعمل کی طرف، جو ہندوستان کے سماجی حلقوں کی جانب سے آیا۔

پلوامہ حملے کا سب سے زیادہ دکھ ہندوستان کے اداکاروں کو ہوا، اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ سب کے سب رو رو کر ہلکان ہو رہے ہیں۔ اداکاروں کے بعد ہندوستانی صحافیوں، شاعروں، ادیبوں اور کھلاڑیوں کی صفوں میں ماتم برپا ہے۔ سب چاہتے ہیں کہ ہندوستانی فوج پاکستان سے بدلا لے۔ اس امر سے ہندوستانی سماج کی منافقت کھل کر عیاں ہوتی ہے۔ اس پر ناصر کاظی کا ایک شعر یاد آگیا:

شور برپا ہے خانہ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی

جب یہی فوجی کشمیر میں نہتے لوگوں کا قتل عام کر رہے تھے تو یہ تمام لوگ سکون سے سوتے رہے، اور ان لوگوں کے مردہ ضمیر کبھی نہیں جاگے اور نہ آئندہ جاگیں گے۔ لیکن پلوامہ اور اس جیسے واقعات کے بعد بھارتی سماج کا ضمیر یکایک جاگ جاتا ہے اور وہ کشمیر میں آزادی کے متوالوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ بات یہیں تک ہی محدود نہیں، بلکہ بالی ووڈ میں کئی فلمیں بنیں جن میں ہندوستانی فوج کے مظالم کو فاتحانہ انداز میں پیش کیا گیا، اور کشمیریوں کو دہشت گرد۔

افسوس ہندوستان میں بسنے والے نامور مسلم اداکاروں، شاعروں اور ادیبوں پر ہوتا ہے کہ جنہیں پاکستان میں ہمیشہ عزت ملی، لیکن ایسے واقعات پر یہ تمام لوگ بھی پاکستان کے خلاف زہر اگلتے ہیں۔ ان کی اپنی حیثیت اتنی ہے کہ مسلم ہونے کی وجہ سے ان کو ہندوستانی دارالحکومت میں کوئی گھر تک نہیں دیتا، اور یہ لوگ بھی پاکستان کو انسانی حقوق پر بھاشن دیتے ہیں۔

آخر میں بس اتنا ہی کہوں گا کہ اگر آزادی کی جدوجہد کرنے والے کشمیری دہشت گرد ہیں، تو آزادی کی جدوجہد کرنے والے والا بھگت سنگھ بھی دہشت گرد تھا۔

ہندوستان میں دہشت گردی کا کوئی بھی واقعہ ہو، ہندوستانی معاشرہ نفرت کے راگوں پر رقص کرتا رہے گا۔ سماج میں پنپنے والے رویّے ایک دن میں نہیں بدل سکتے، لہذا پاکستانیوں کو اس ہندوستانی رویّے سے نالاں نہیں ہونا چاہیے اور اپنی افواج پر اعتماد رکھنا چاہیے۔ اختتام پر شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کا ایک شعر، مودی کے نام:

میں تجھ کو بتاتا ہوں تقدیر امم کیا ہے
شمشیر و سناں اول طاؤس و رباب آخر

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

محمد احمد

محمد احمد

بلاگر الیکٹریکل انجینئر، محقق اور پی ایچ ڈی فیلو ہیں۔ اردو اور انگلش زبانوں میں محتلف موضوعات پر لکھنا ان کا مشغلہ ہے۔ آپ آج کل چین کے شہر شنگھائی میں مقیم ہیں۔ فیس بک اور ٹوئٹر پر ان سے @ahmadsjtu کی آئی ڈی پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔