فائیو-جی نیٹ ورک اور فون سیٹس کا مستقبل ’سیکیورٹی کلیئرنس‘ سے مشروط

ویب ڈیسک  اتوار 17 فروری 2019
فائیوجی نیٹ ورکس اور موبائل فونز پر جاسوسی کے خدشے کے پیش نظر کئی ممالک نے پابندی لگادی تھی۔ فوٹو : فائل

فائیوجی نیٹ ورکس اور موبائل فونز پر جاسوسی کے خدشے کے پیش نظر کئی ممالک نے پابندی لگادی تھی۔ فوٹو : فائل

سیکیورٹی وجوہات کی وجہ سے فائیو-جی ٹیکنالوجی کی درآمد پر عائد پابندی نے کمپنیوں کو اپنے 5-جی نیٹ ورکس اور موبائل فونز کی سیکیورٹی جانچ پڑتال کرانے کے لیے مجبور کردیا۔ 

موبائل کی دنیا میں 4-جی کے بعد 5-جی نیٹ ورک اپنے قدم جمانے کے لیے تیار ہے لیکن اس سے پہلے چند سیکیورٹی وجوہات کے باعث تاخیر سامنا ہے جسے دور کرنے کے لیے کمپنیاں اپنے فائیو-جی نیٹ ورک اور موبائل فونز کی سیکیورٹی جانچ پڑتال کرانے کے لیے تیار ہوگئی ہیں۔

سیکیورٹی کلیئرنس کے بغیر کئی ممالک نے جدید 5-جی نیٹ ورکس اور موبائل فونز کی درآمد کو روک دیا تھا۔ چین کی معروف کمپنیوں ہواوے اور زید ٹی ای کے فائیو- جی آلات کو سب سے زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسری جانب انٹرنیٹ کے دلدادہ صارفین بھی 4-جی سے بوریت محسوس کرنے لگے ہیں اور بے تابی سے نئے اور جدید فائیو-جی سیٹس کے منتظر ہیں لیکن سیکیورٹی وجوہات فائیو-جی ٹیکنالوجی اور صارفین کے درمیان گویا ’سماج کی دیوار‘ بن گئی ہے۔

صارفین کی بےتابی اور فون کمپنیوں کی مجبوری کو مدنظر رکھتے ہوئے 8 سو سے زائد نیٹ ورک آپریٹرز رکھنے والی ’جی ایس ایم اے‘ نے غیر جانبدار کمپنی سے فائیو-جی آلات اور فون کی سیکیورٹی کلیئرنس کرانے کی اسکیم متعارف کرائی ہے۔

جی ایس ایم اے پُر امید ہے کہ فائیو-جی کی سیکیورٹی جانچ پڑتال کے بعد دنیا بھر کے ممالک اس ٹیکنالوجی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنیں گے اور سیکیورٹی سند حاصل کرنے والی کمپنیاں بآسانی اپنے فائیو-جی نیٹ ورک آلات اور سیٹس فروخت کرسکیں گی۔

واضح رہے کہ پہلے ہی آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور امریکا میں ہواوے کمپنی کے فائیو-جی  موبائل نیٹ ورک سیٹس پر پابندی عائد ہے اور اب کینیڈا بھی فائیو-جی نیٹ ورک اور موبائل سیٹس پر پابندی عائد کرنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے۔ اس وقت فائیو-جی ٹیکنالوجی صرف جنوبی کوریا میں استعمال کی جا رہی ہے جو کہ مقامی طور پر تیار کردہ ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔