ہمیں کیا پروا!!!

شیریں حیدر  اتوار 17 فروری 2019
Shireenhaider65@hotmail.com

[email protected]

’’میڈم ، آپ یہاں کھڑے ہو کر انتظارکرنے کی بجائے اوپر اپنے کمرے میں جا کر آرام کرنا چاہیں گی؟ ‘‘ ایک تو لہجہ اتنا شائستہ ، اوپر سے کوئی آپ کے کھڑے کھڑے تھک جانے کی پروا کرے۔

’’ نہیں میں ٹھیک ہوں ! ‘‘ میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔

’’آپ چابی لیں اور کمرے میں چلیں، میں کاؤنٹر پر ادائیگی وغیرہ کرکے آتا ہوں ! ‘‘ صاحب نے اس سے بڑھ کر شائستگی سے کہا تو انکار نہ ہوا۔ میںنے کارڈ نما چابی ان سے لی اور لفٹ کے ذریعے چوتھے فلور پر اپنے کمرے میں پہنچی۔ دروازہ کھلتے ہی اندر روشنی ہو گئی۔ یقینا سنسر سے منسلک لائٹ کا بٹن تھا جو بے آواز بتی آن ہو گئی تھی۔ میںنے بیگ میز پر رکھا اور غسل خانے کی سمت بڑھی، جونہی دروازہ وا ہوا، اسی طرح غسل خانے کے اندر کی روشنی آن ہوئی اور ہلکی سی ٹک کی آواز کے ساتھ کمرے کی بتی گل ہو گئی۔ مجھے یوں لگا کہ کمرے میں کوئی ہے جس نے میرے نکلتے ہی بتی گل کر دی ، پہلے اور فوری رد عمل کے طور پر تو رونگٹے کھڑے ہو گئے اور اس کے بعد مجھے اپنے بیگ کی فکر ہوئی۔

میں فورا باہر نکلی اور جونہی باہر نکلی تو غسل خانے کی بتی ہلکی سی ٹک سے بند ہوئی اور کمرے کی بتی بے آواز آن ہو گئی۔ کمرے میں کوئی ایک بلب نہ تھا، بلکہ مختلف حصوں میں روشنی کے منبع تھے۔ میں اپنی بے وقوفی پر خود ہی ہنس پڑی، ایسی سنسر والی روشنیوں سے پہلی بار تو پالا نہ پڑا تھا مگر ہلکی سی ٹک کی آواز نے جو کنفیوژن پیدا کی تھی اس نے مجھے اکیلے میں مسکرانے پر مجبور کر دیا ۔ میں کمرے میں ہولے ہولے چلتی ہوئی روشنیوں کی اس لکن میٹی سے محظوظ ہونے لگی۔ اس ہلکی سی سیر نے میرے ذہن کے کئی نہاں خانوں کو کھول دیا، میں داد دینے لگی اس ذہن کی جس نے ایسا سوچا اور ایسے سنسر لگائے جن کے باعث ایک ہی کمرے میں فقط اس حصے میں روشنی ہوتی ہے جس حصے میں روشنی کی ضرورت ہے۔ بتیوں سے منسلک یہ سنسر انسانی موجودگی کو محسوس کر کے، جہاں پر ضرورت ہے … اسی حصے کی بتی کو آن کردیتے ہیں ۔

مجھے یقین ہے کہ سنسر سے منسلک یہ بتیوں کا نظام یقینا ہمارے گھروں میں لگائی جانے والی عام بتیوں کی نسبت مہنگا ہو گا، مگر یہ بات بھی اہم ہے کہ یہ ایک بار کا خرچہ ہے جو ہمیشہ کے لیے ہمارے بلوں کے اخراجات کو کم کر سکتا ہے۔ ہرماہ ہمارے ہاں بجلی اور گیس کے بل آتے ہیں تو ایک بار دل کا دورہ پڑتے پڑتے رہ جاتا ہے۔ پھر گھر کی فضا کئی دن تک مکدر رہتی ہے کہ بات بے بات بل یاد آ جاتے ہیں، پورے مہینے کا بجٹ بگڑتا ہے تو سارا نزلہ شوہر اور بچوں پر اترتا ہے… جہاں گھروں کا مالی نظام شوہر چلاتے ہیں، وہاں بچے اور بیویاں عتاب کا شکار ہوتی ہیں ۔ ہر ماہ اتنے بھاری بل دیتے ہوئے دل کی کئی حسرتوں کو دفن کرتے ہوئے خاتون خانہ سوچتی ہے کہ تھوڑی سی تنخواہ پر مل جائے تو ایک ملازم رکھ لیں جو سب کے پیچھے پیچھے چلتا رہے اور بتیاں اور ہیٹر بند کرتا رہے ، اسے ہم دیسی سنسر کہہ سکتے ہیں ۔

یوں تو ہم ہر وقت ہی چیخ چیخ کر گھر والوں کو فالتو بتیاں اور گیس کے پوائنٹ بند کرنے کو کہہ رہے ہوتے ہیں ، اپنے چیخنے سے خود اپنے سر میں درد ہو جاتا ہے تو تصور کریں کہ جو سارا دن اپنے کانوں میں ہمارے چیخنے کی آواز برداشت کرتے ہیں ان کے سر کا کیا عالم ہو گا ۔ اب چیخنا بالکل بے کار ہے کیونکہ یہ بات ابتدائی تربیت میں شامل ہونی چاہیے کہ وسائل ہمارے پاس اللہ تعالی کی عطاکردہ نعمت ہیں اور ایک ایسی امانت ہیں جو اس بات کا تقاضہ کرتے ہیں کہ ہم ان کے استعمال میں احتیاط کریں ۔ جس طرح ہم ہر کھانے کو آخری کھانا سمجھ کر کھانے والی عادت کا شکار قوم ہیں، اسی طرح ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس وقت موجود جو بھی وسائل ہمارے ملک میں ہیں۔ وہ فقط ہمارے لیے نہیں ہیں بلکہ ہماری آئندہ اور ان کی آئندہ نسلوں کے لیے بھی ہمیں کچھ چھوڑ کر جانا ہے ورنہ چند سالوں کے بعد گیس ناپید ہو جائے گی اور ہماری بہوئیں اور ان کی بہوئیں دوبارہ سے لکڑیاں جلا کر کھانا پکایا کریں گی اور بچے تیل ڈال کر لالٹین جلا کر پڑھا کریں گے۔

یہ مذاق نہیں بلکہ ایک ایسی سنگین حقیقت ہے کہ ہم اس سے نظر چرا لیتے ہیں ۔ اگر آپ کے پاس پیسہ ہے تو اس کی نمائش کسی اور طریقے سے کر لیں، زیادہ بتیاں جلا کر اور اپنے گھروں کو روشن کر کے نہ صرف آپ بجلی کا زیاں کرتے ہیں بلکہ ان لوگوں کو ذہنی امراض میں مبتلا کر دیتے ہیں جن کے پاس نہ بجلی کا بل بھرنے کی سکت ہے، نہ ان کے گھروں میں زیادہ بتیاں ہیں، نہ یو پی ایس اور نہ جنریٹر۔

دنیا کے کسی بھی ترقی یافتہ ملک میں چلے جائیں، بازار اور شاپنگ مال صبح سویرے کھلتے ہیں اور سر شام بند ہو جاتے ہیں، ماسوا چند میڈیکل اسٹورز کے ۔ ان کی بھی باریاں مقرر ہیں اور وہ اپنی باری سے دیرتک کھلتے ہیں ، ہر میڈیکل اسٹور ہر روز دیر تک نہیں کھلتا۔ ہمارے ہاں سردیاں ہوں یا گرمیاں، آپ دن کے بارہ بجے کسی مارکیٹ میں چلے جائیں، اس وقت دکانوں میں جھاڑو پھیری جا رہی ہوتی ہے اور سستی سے لنچ تک کا وقت گزار کرکاروبار شروع کیا جاتا ہے۔ رات کو دیر تک دکانیں کھلی رہتی ہیں اور اتنی اتنی بتیاں کہ رات پر دن کا گمان ہوتا ہے۔ جی ٹی روڈ پر سفر کریں تو تمام راستے میں، کئی طرح کے ہوٹل سڑک کے کنارے کھلے ہوئے ہیں، ان سب ہوٹلوں میں بھی یوں ہر وقت چراغاں ہوتا ہے، جیسے انھیں مفت میں بجلی مل رہی ہو۔ کئی بار حیرت ہوتی ہے کہ بجلی کے اسراف کے ان نظاروں سے ہمارے ارباب اختیار کیونکر محروم ہیں؟؟ مجھے یقین نہیں، گمان ہے کہ یہ سارے کاروباری بجلی کے محکمے کے لوگوں سے ملے ہوئے ہوتے ہیں، انھوں نے اپنے لیے کوئی نہ کوئی مراعات حاصل کر رکھی ہوتی ہیں کہ ان کا بجلی کا بل بھی دوسروں کی جیبوں سے جا رہا ہوتا ہے۔

’’ میںنے ایک بتی جلتی چھوڑ دی تو کیا قیامت آ گئی؟ ‘‘

’’ ایک ہیٹر اگر فالتو میں چلتا رہ گیا ہے تو اس سے کتنا نقصان ہو جائے گا؟ ‘‘…’’اگر نل میں تھوڑی سی لیکیج ہے تو اس سے کون سا دریا کے برابر پانی ضایع ہو جائے گا؟ ‘‘

جب کسی کو بجلی، گیس اور پانی کے احتیاط سے استعمال کا کہا جائے یا انھیں بتی یا ہیٹر جلتا چھوڑنے پر سرزنش کی جائے یا پانی کے زیادہ استعمال سے روکا جائے تو اس طرح کے جوابات ملتے ہیں۔ حالانکہ ہم سب جانتے ہیں کہ قطرہ قطرہ مل کر دریا بنتا ہے، ایک ایک پائی جوڑ کر روپیہ بنتا ہے، ہر فالتو بتی یا گیس کے استعمال کے باعث ، استعمال ہونے والا ہر یونٹ ہمارے بل میں بے بہا اضافے کا باعث بنتا ہے۔ اس ماہ گیس کے بلوں نے سسکیاں لینے پر مجبور کر دیا ہے، ہر طبقہ بلوںکی زیادتی کا رونا رو رہا ہے اور ذمے دار افراد کو کوسنے دے رہا ہے جنہوں نے عام آدمی کی زندگی کو دشوار کر دیا ہے۔ کرتا کوئی ہے اور بھرتا کوئی ہے۔

گیس اور بجلی چوروں کو پکڑنے کی بجائے ، حکومت ان کو مزید مصائب کی چکی میں پیس رہی ہے جو اپنے بل بھی باقاعدگی سے دیتے ہیں اور اپنے گھروں میں ان وسائل کے احتیاط سے استعمال کو یقینی بناتے ہیں ۔ ’’ دل تو چاہتا ہے کہ بل ہی نہ دیں، اس ماہ کا گیس کا بل دینے کے بعد تو اتنا بھی نہیں بچا کہ مہینے بھر کے سود ے ہی آجائیں ، جب پکانے کو ہی کچھ نہیں ہے تو بہتر ہے بندہ گیس کا کنکشن ہی کٹوا لے ! ‘‘ ایک مجبور عورت کے منہ سے ایسے کلمات حکمرانوں کے کانوں تک نہیں پہنچتے مگر اس کے کانوں تک پہنچ جاتے ہیں جو سمیع اور بصیر ہے۔ ایک طبقہ ایسا ہے جسے اس بات کی فکر ہی نہیں ہوتی، بلکہ انھیں علم بھی نہیں ہوتا کہ گھر کے بل کتنے آئے ہیں اور ایک وہ طبقہ ہے جو ان کے اسراف کے باعث پس رہا ہوتا ہے۔

ہم نے اگر اللہ تعالی کی عطا کردہ نعمتوں کی ناقدری نہ چھوڑی تو ہمیں یہ یاد رہنا چاہیے کہ اللہ تعالی اگر بے بہا دیتا ہے تو وہ چھین لینے پر بھی قادر ہے۔ اسراف کی ممانعت فرمائی گئی ہے تو اس میں سب کچھ شامل ہے… خواہ وہ ہماری اپنی کمائی ہوئی دولت ہو یا اللہ تعالی کی عطا کردہ وہ نعمتیں جن کی ہم اس وقت تک وقعت کو ہی نہیں مانتے جب تک کہ ہم ان سے محروم نہیں ہو جاتے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔