بھارت نے حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی واپس لے لی

ویب ڈیسک  اتوار 17 فروری 2019
 بھارتی حکومت کی طرف سے یہ اقدام پلوامہ حملے کے بعد اٹھایاگیاہے۔ فوٹوفائل

بھارتی حکومت کی طرف سے یہ اقدام پلوامہ حملے کے بعد اٹھایاگیاہے۔ فوٹوفائل

سرینگر: پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے کشمیری حریت رہنماؤں کو دی گئی سیکیورٹی واپس لے لی ہے۔

بھارتی وزارت داخلہ نے حریت رہنماؤں کی سیکیورٹی واپس لینے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کے مطابق حریت رہنماؤں میرواعظ عمرفاروق، عبدالغنی بھٹ، بلال لون، ہاشم قریشی اورشبیرشاہ کودی گئی سیکیورٹی واپس لے لی گئی ہے اوران رہنماؤں کو مہیاکی گئی سرکاری سہولتیں بھی فوراً واپس لینے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ بھارتی حکومت کی طرف سے یہ اقدام پلوامہ حملے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

سیکیورٹی اور گاڑیوں کی واپسی سے متعلق آل پارٹیز حریت کانفرنس (میر واعظ) کے ترجمان نے کہا ہے کہ قیادت کو کبھی بھی کٹھ پتلی انتظامیہ کی سیکیورٹی کی ضرورت نہیں رہی، حریت رہنما کئی مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ انہیں ملنے والی سیکیورٹی اور گاڑیاں واپس لے لی جائیں۔

اس خبرکوبھی پڑھیں: مقبوضہ کشمیر اور بھارت میں انتہا پسند ہندوؤں کے کشمیریوں پر حملے

دوسری طرف بھارتی ریاستوں اور جموں میں ہندوانتہا پسندوں کی جانب سے مسلمان کشمیریوں کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا گیا ہے۔ کشمیریوں کی املاک، گاڑیوں اور کاروبار کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ جس کے خلاف وادی میں مکمل ہڑتال کی جارہی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔