پلوامہ واقعہ پر بھارت کی عاقبت نااندیشانہ پالیسی

ایڈیٹوریل  پير 18 فروری 2019
پاکستان نے کرتارپور کوریڈور کھولنے کا اعلان کر کے اپنی امن پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان نے کرتارپور کوریڈور کھولنے کا اعلان کر کے اپنی امن پسندی کا ثبوت دیا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے گزشتہ روز میونخ کانفرنس کے اختتام کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو تنہا کرنے کا بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کا خواب کبھی پورا نہیں ہوگا۔ پلوامہ کا واقعہ افسوس ناک ہے۔ پاکستان اس کی مذمت کرتا ہے۔ پاکستان کواس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا، پاکستان جانی نقصان اور تشدد کے کبھی حق میں نہیں رہا ۔ یہ ہماری واضح پالیسی اورحکمت عملی ہے کہ اپنی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دینگے ۔پلوامہ کے واقعے پر تحقیقات میں تعاون کو تیار ہیں۔بھارت کے پاس ثبوت ہیں تو پیش کرے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے بغیر تحقیق کے الزام تراشیوں پر افسوس ہوا۔ الزام تراشیوں سے نہ پہلے کچھ حاصل ہوا ہے نہ اب ہوگا۔ بھارت کو سیاست سے بالاتر ہوکر سوچنا اور خطے کے امن واستحکام کو فوقیت دینی چاہیے۔دریں اثناء وائس آف امریکا کو انٹرویو میں شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت کو خود دیکھنا چاہیے کہ مقبوضہ کشمیر میں عوام کے احتجاج کی وجوہات کیا ہیں۔پاکستان ہزاروں کی تعداد میں خواتین کو مقبوضہ وادی میں سڑکوں پر نکلنے پر مجبور نہیں کرسکتا۔کیا مقبوضہ کشمیر میں جنازوں کے اٹھنے پر ہجوم کے باہر نکلنے کا انتظام بھی پاکستان کرتا ہے؟پاکستان چاہے بھی تو یہ نہیں کرسکتا۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام نالاںہیں وہ اپنی مرضی اور منشاء سے احتجاج کے لیے نکلتے ہیں۔ پاکستان پر الزام عائد کرنا اور ملبہ ڈالنا آسان ہے ،آج کی دنیا الزامات سے قائل نہیں ہوگی۔

پلوامہ واقعے کے بعد بھارت میں جو کچھ ہو رہا ہے‘ اس کے بارے میں تواتر سے خبریں سامنے آ رہی ہیں‘ یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے آ رہی ہے کہ حکمران جماعت اس واقعے کو اپنے سیاسی فائدے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی اور ان کے ساتھی جذباتی تقاریر کر رہے ہیں اور بھارت کی عوام میں پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دے رہے ہیں‘ بھارتی میڈیا بھی اس کام میں ان کا شریک کار ہے۔ یہ بی جے پی کا پرانا حربہ ہے اور اس کی سیاست کا بنیادی اصول ہے کیونکہ وہ پاکستان مخالف لہر پیدا کر کے ہی برسراقتدار آئی ہے اور اب بھی وہ اسی پالیسی پر عمل پیرا ہے کیونکہ آنے والے الیکشن میں اسے اپنی ناکامی نظر آ رہی ہے اور وہ اپنی ناکامی کو کامیابی میں بدلنے کے لیے پاکستان مخالف فضا پیدا کرنے کا کوئی موقع تلاش کر رہی تھی۔ پلوامہ واقعے کی صورت میں اسے اچھا موقع مل گیا ہے اور اب وہ اس موقعے سے بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ بی جے پی کی اس پالیسی کا نقصان بھارت کو ہی ہو گا۔ بی جے پی کی پالیسیوں کی وجہ سے بھارت کا سیکولر تشخص بری طرح مجروح ہو رہا ہے۔

پلوامہ واقعے کے بعد بھارت نے پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف ایک منصوبے کے تحت نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ بی بی سی نے بھی کہا ہے کہ پلوامہ واقعے کے بعد بھارت اور مقبوضہ کشمیر میں مذہبی منافرت میں شدت پیدا کی گئی ہے۔ پورے بھارت میں مسلمانوں کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ کشمیری مسلمانوں کی جائیدادوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ واقعات کے مطابق جموں میں مسلمانوں کی جائیدادوں کو نذر آتش کرنے کے واقعات بھی ہوئے ہیں‘ پنجاب‘ ہریانہ‘ اترکھنڈ اور دیگر ریاستوں میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کو بھی ہراساں کیا جا رہا ہے۔

یہ سب اس وجہ سے ہو رہا ہے کہ بی جے پی اور دیگر ہندو انتہا پسند تنظیمیں مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہی ہیں‘ اصولی طور پر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ بھارت پہلے پلوامہ واقعے کی تحقیقات کراتا‘ اگر تحقیقات میں کوئی بات سامنے آتی تو پھر وہ پاکستان سے بات کرتا لیکن بھارتی پالیسی سازوں نے ایسا نہیں کیا اور پلوامہ واقعے کے فوراً بعد ہی الزام پاکستان پر عائد کر دیا‘ اس کے بعد بھارتی میڈیا حرکت میں آ گیا اور پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کا محاذ کھل گیا۔ حالانکہ ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ پلوامہ واقعے کی سنگینی کا تقاضا تھا کہ اس کی تحقیقات کرائی جاتیں۔ ایسا لگتا ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے کے لیے پلوامہ واقعے کو پاکستان پر تھوپنا چاہتی ہے۔ کشمیر میں آزادی کی تحریک کوئی نئی نہیں ہے بلکہ کئی دہائیوں پر مشتمل ہے۔

کشمیری اپنے حقوق کے لیے برسوں سے جدوجہد کرتے چلے آ رہے ہیں اور بھارت کوبھی اس حقیقت کا بڑی اچھی طرح پتہ ہے۔ جس علاقے میں بھارتی فوجی کانوائے پر حملہ ہوا ہے ‘ وہ کشمیر کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والوں کا گڑھ تصور ہوتا ہے۔ وقت اور حالات کا تقاضا تو یہ ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں اپنی ناکامی کو تسلیم کرے ۔ جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو وہ پلوامہ واقعے کی تحقیقات کے لیے ہر قسم کا تعاون کرنے کے لیے تیار ہے۔ بعض حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اس واقعے میں بھارت کے اپنے لوگ بھی ملوث ہو سکتے ہیں‘ ماضی میں مالیگائوں کا واقعہ ہو چکا ہے۔

اس واقعے میں بھارت کے اپنے ادارے ملوث پائے گئے تھے۔بھارتی پالیسی سازوں کو جذبات کے گھوڑے پر سوار ہونے کے بجائے زمینی حقائق کی طرف آناچاہیے۔ پاکستان کے خلاف جذباتی فضا پیدا کر کے الیکشن تو جیتا جا سکتا ہے لیکن اس خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بی جے پی کی قیادت کو زمینی حقائق تسلیم کرتے ہوئے تنازعات کو سلجھانے کی طرف آنا چاہیے نہ کہ مسائل کو پیچیدہ بنانے کی کوشش کی جائے۔

پاکستان نے کرتارپور کوریڈور کھولنے کا اعلان کر کے اپنی امن پسندی کا ثبوت دیا ہے لیکن اس معاملے میں بھی بھارت نے فراخدگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اب بھی بھارت کی قیادت کو چاہیے کہ وہ جنوبی ایشیا میں قیام امن کے لیے دو طرفہ مذاکرات کی طرف آئے ‘تنازعہ کشمیر حل کیے بغیر اس خطے میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ بھارتی قیادت کو یہ حقیقت بھی تسلیم کر لینی چاہیے کہ وہ کشمیر کو فوجی قوت کے بل بوتے پر بھارت کے ساتھ نہیں رکھ سکتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر باہمی تنازعات کو خوش اسلوبی سے حل کر لیا جائے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔