آج کے پر امن عوام، کل بدل سکتے ہیں

ظہیر اختر بیدری  پير 18 فروری 2019
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com

[email protected]

دنیا کے ہر جمہوری ملک میں اپوزیشن نام کی ایک تنظیم ہوتی ہے، جس کا مقصد حکومت کی کوتاہیوں اورکمزوریوں کی نشان دہی کرکے حکومت پر اپنی غلطیوں کی اصلاح کے لیے دبائو ڈالنا ہوتا ہے۔ اپوزیشن کا یہ کلچر ترقی یافتہ ملکوں میں بہت واضح اور مستحکم ہے لیکن پسماندہ ملکوں کی اسے بدقسمتی کہیں یا سازش کہ یہاں اپوزیشن کا مطلب حکومت کی ہر وقت ٹانگیں کھینچنا رہ گیا ہے اور دوسری طرف حکومت کا رویہ بھی نہ صرف غیر جمہوری رہتا ہے بلکہ کسی حد تک انتقامی بھی رہتا ہے۔

اس کلچرکی وجہ پسماندہ ملکوں میں نہ صرف نام نہاد ہی سہی جمہوریت انتہائی غیر مستحکم اور منتقمانہ رہتی ہیں جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان اپنے قیام کے بعد ہی سے اسی جمہوریت سے گزر رہا ہے اور عوام مسائل کے انبار میں دبتے چلے جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس حکومت کے برسر اقتدار آنے سے ’’اسٹیٹس کو‘‘ مٹ گیا ہے جو اشرافیا کے مسلسل اقتدار پر مبنی تھا۔ یہ تبدیلی ہماری تاریخی اپوزیشن کو قطعی منظور نہیں کیونکہ اقتدار کے مزے لینے والوں کے لیے اپوزیشن میں بیٹھنا توہین لگ رہا ہے۔

موجودہ حکومت نہ فرشتوں کی ہے نہ غلطیوں سے پاک لیکن ایک حقیقت بہرحال ایسی ہے جو اسے ماضی کی اشرافیائی حکومتوں سے ممتازکرتی ہے وہ حقیقت یہ ہے کہ اس مڈل کلاس حکومت نے کرپشن کا بازارگرم نہیں کیا۔ اس کے ایک وزیر پر آمدنی سے زیادہ اثاثوں کا الزام لگا تو نیب نے اسے خود گرفتار کرلیا اور وزارت سے استعفیٰ بھی لے لیا جب کہ ماضی کی حکومتیں ہمیشہ سر سے پیر تک کرپشن میں ڈوبی رہیں۔ آج پورے کے پورے خاندانوں کے خلاف بھاری کرپشن کے حوالے سے عدالتوں میں ریفرنس داخل ہیں اور بہت سارے اشرافیائی شہزادے ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور انھیں واپس لانے کی اور کیسز چلانے کی کوششیں ہورہی ہیں۔ اس صورت حال سے ہماری جمہوریت ملک کے اندر اور باہر رسوائی کا شکار ہے۔

اس صورتحال کی اصل وجہ یہ رہی کہ حکومت اور اپوزیشن ایک سکے کے دو رخ بنے رہے اور ہماری جمہوریت میں صرف قانون ساز اداروں میں اپنے فرض ادا کرتی رہی اور اپوزیشن اور حکومت گھی شکر بنے رہے۔ اشرافیہ کی کوئی حکومت جب اپنی پانچ سالہ آئینی مدت پوری کرتی ہے تو اسے تاریخی کامیابی کا سرٹیفکیٹ عطا کیا جاتا رہا۔

ہم نے واضح کردیا ہے کہ موجودہ حکومت نہ فرشتوں کی ہے نہ چھ ماہ کے دوران اس نے بڑے عوامی مسائل حل کرنے کی کامیابی حاصل کی ہے۔ البتہ درست ڈائریکشن میں آگے بڑھ رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دوست ممالک جن میں عرب ملک پیش پیش ہیں، اربوں ڈالر کی مدد سے حکومت کو ہنگامی حالات سے نکالنے اور اپنے پائوں پر کھڑے کرنے کی مخلصانہ کوشش کررہے ہیں اور امید نظر آرہی ہے کہ حکومت ہنگامی حالات سے نکل کر یکسوئی کے ساتھ عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کرے گی۔

اس پُرامید صورت حال نے ہماری محترم اپوزیشن کو اس قدر بے قرار کر دیا ہے کہ اس نے حکومت کے خلاف چاروں طرف سے پروپیگنڈے کے محاذ کھول دیے ہیں۔ ہم اور ہمارے جیسے قلم کار ’’ اسٹیٹس کو‘‘ ٹوٹنے، اشرافیہ کی اقتدار اور سیاست پر قبضے سے نجات کے حوالے سے حکومت کی اس لیے حمایت کر رہے ہیں کہ لوٹ مارکا نظام زمین بوس ہو رہا ہے اور کرپشن مافیا بے بسی کی طرف جا رہی ہے۔ ان حالات میں وہ قلمکار جو اشرافیہ کی جمہوریت کے حوالے کھلی حمایت کر رہے ہیں وہ سونے کے نوالے کھا رہے ہیں اور جو قلمکار ’’اسٹیٹس کو‘‘ کے ٹوٹنے اور اشرافیہ کے اقتدار سے محرومی کو عوام کے لیے فال نیک سمجھ رہے ہیں وہ انتہائی مشکل معاشی حالات کا شکار ہونے کے باوجود عوام کے بہتر مستقبل کے لیے کام کرنے والوں کی حمایت کر رہے ہیں۔

نئی حکومت کی بہتر مستقبل کے لیے کوششوں کا اندازہ عوام کو بھی ہو رہا ہے اس لیے وہ اپنے شدید مسائل مہنگائی، بیروزگاری وغیرہ کو خاموشی سے برداشت کر رہے ہیں اور بے بسی کے باوجود سڑکوں پر آنے سے گریزاں ہیں۔ حکومت کو عوام کی اس عاقلانہ خاموش حمایت کی وجہ جو سہارا مل رہا ہے اس سے اشرافیہ اس لیے سخت اضطراب اور بے چینی کا شکار ہے کہ اگر دوست ملکوں کی مدد سے موجودہ حکومت سال دو سال نکال لے گی تو اسے عوام کی ایسی ٹھوس حمایت حاصل ہو جائے گی کہ اسے ہٹانا ممکن نہیں ہوگا۔

دوست ملکوں خصوصاً عرب ملکوں کی بھاری بھرکم امداد سے موجودہ حکومت کرائسس سے نکل کر سیاسی استحکام کی طرف جا رہی ہے۔ عوام کی خاموش حمایت بلاشبہ موجودہ حکومت کا بڑا اثاثہ ہے لیکن موجودہ حکومت کو اچھی طرح اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ ماضی کی طرح اگر موجودہ حکومت بھی لوٹ مارکی طرف جاتی ہے تو عوام اس کا بینڈ بجا دیں گے اور اہل قلم جو کرپشن کے خاتمے کے لیے حکومت کی حمایت کر رہے ہیں اپنے قلم کو تلوار بنا لیں گے اور عوام کو ایسی ممکنہ کرپٹ حکومت کے خلاف سڑکوں پر آنے کی ترغیب فراہم کریں گے۔ حکومت کا مفاد اور بہتر مستقبل اس میں پوشیدہ ہے کہ وہ دوست ملکوں سے ملنے والے اربوں ڈالر کو عوام کی فلاح و بہبود اور معیار زندگی کو بلند کرنے میں استعمال کرے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔