جمشید دستی کو تیز رفتاری مہنگی پڑ گئی، موٹروے پولیس نے جرمانہ کر دیا

عمر ننگیانہ  پير 29 جولائ 2013
جمشید دستی نے چالان کا ٹکٹ وصول کرنے سے انکار کر دیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کرتے رہے۔ فوٹو: شاہد سعید/ ایکسپریس

جمشید دستی نے چالان کا ٹکٹ وصول کرنے سے انکار کر دیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کرتے رہے۔ فوٹو: شاہد سعید/ ایکسپریس

اسلام آباد: جمشید دستی جنہوں نے متوسط طبقے کے حقوق کے لئے نعرے لگاتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیا نے حال ہی میں ایسے رویے کا مظاہرہ کیا جو عام طور پر طاقت کے نشے میں ڈوبے سیاستدانوں کے لئے عام ہے۔

اسلام آباد پشاور موٹروے پر موٹروے پولیس کے 2 اہلکاروں کی جانب سے جمشید دستی کی گاڑی کو تیز رفتار اسپیڈ کے باعث چالان کے لئے روکا گیا تو انہوں نے دونوں اہلکاروں کو سنگین نتائج بھگتنے کی دھمکی دے ڈالی۔

پولیس افسران کے مطابق جمشید دستی کی گاڑی ان کا ڈرائیور چلا رہا تھا، پولیس نے کیمروں کی مدد سے صوابی انٹر چینج کے نزدیک جمشید دستی کی گاڑی کو تیز رفتار اسپیڈ کے باعث روکنے کی کوشش کی تو جمشید دستی نے اپنے ڈرائیور کو گاڑی اور تیز چلانے کا حکم دے دیا جس پر پولیس نے آگے واقع اسٹیشنز کو گاڑی کی تیز رفتاری کے حوالے سے اطلاع دی جہاں تعینات پولیس نے انہیں دوبارہ رکنے کا اشارہ کیا لیکن جمشید دستی اپنی ہٹ دھرمی پر ڈٹے رہے اور گاڑی نہ روکی۔

اس وقت تک موٹروے پولیس کو احساس ہو چکا تھا کہ یہ گاڑی قومی اسمبلی کے رکن جمشید دستی کی ہے لیکن اس کے باوجود گاڑی کا تعاقب کرتے رہے، پولیس نے صوابی انٹر چینج پر گاڑی کو روکنے کے لئے رکاوٹیں کھڑی کر دیں لیکن جمشید دستی کے دماغ میں پولیس کو دھوکا دینے کی منصوبہ بندی چل رہی تھی، انہوں نے اپنی گاڑی صوابی انٹرچینج کا خارجی راستہ استعمال کرتے ہوئے جی ٹی روڈ پر موڑنے کا سوچا۔ موٹروے پولیس نے جمشید دستی کے دماغ میں چل رہی منصوبہ بندی کو فوری بھانپ لیا اور ان کے جی ٹی روڈ پر مڑنے سے پہلے ہی ان کا راستہ روک دیا۔

پولیس کی جانب سے راستہ روکنے پر جمشید دستی کو مجبورأ گاڑی سے باہر آنا پڑا، جمشید دستی نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ مجھے پہلے کبھی کسی نے اس طرح روکنے کی جرت نہيں کی، جمشید دستی کے باڈی گارڈز نے بھی پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کی۔ جمشید دستی نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ آپ لوگوں کو میری طاقت کا اندازہ نہیں ہے، میں آپ دونوں کا تبادلہ بلوچستان کرا سکتا ہوں۔

جمشید دستی نے چالان کا ٹکٹ وصول کرنے سے انکار کر دیا اور پولیس اہلکاروں سے بدتمیزی کرتے رہے لیکن پولیس والوں نے بھی ہمت نہ ہاری اور نتائج کی پرواہ کئے بغیر بالآخر جمشید دستی سے 700 روپے چالان وصول کر کے انہیں آگے جانے کی اجازت دی۔

واقعے کے بعد اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ دونوں پولیس اہلکاروں کو قومی اسمبلی کے رکن سے قانون کی پاسداری کرانے پر کیا سزا ملتی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔